Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

اوڑیسہ ٹرین حادثہ: بیٹے کی ’موت‘ پر یقین نہ کرنے والے باپ کو بیٹا زندہ مل گیا

By Akhtar Rasool
جون 6, 2023 4 Min Read
0

لاشوں کے درمیان موت کی سردی میں پڑے اپنے بیٹے کو زندہ کرنے کے لیے باپ فرشتہ بن کر پہنچا۔ بسواجیت ملک نامی چوبیس سالہ نوجوان، کورومنڈیل ٹرین حادثے میں حکام کی سنگین لاپرواہی کی زندہ مثال، اپنے والد کی مداخلت سے معجزانہ طور پر زندگی کی طرف لوٹ آیا

دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق کورومنڈیل ایکسپریس پر سوار بیٹے کے باپ کو جب اس کی ’موت‘ کا علم ہوا تو اس نے اس خبر پر یقین کرنے کی بجائے دو سو تیس کلو میٹر فاصلہ طے کر کے بالاسور کے عارضی مُردہ خانے سے اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے کے بعد مزید علاج کروانے کے لیے اسے اپنے ساتھ کولکتہ لے گیا

چوبیس سالہ بِسواجیت ملک کو قسمت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس کے والد ہیلا رام ملک نے اس کی موت کی خبر پر یقین نہیں کیا

بِسواجیت کی ہسپتال میں سرجری جاری ہے۔ وہ شدید زخمی ہے لیکن اُس کی حالت خطرے باہر ہے

بِسواجیت کے والد ہیلا رام مغربی بنگال کے شہر ہورا میں دوکاندار ہیں۔ انہیں حادثے کی خبر جمعے کے روز بِسواجیت کو شالیمار اسٹیشن پر چھوڑنے کے چند گھنٹوں کے بعد ملی، جس کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے کے موبائل فون پر کال کی، دوسری طرف سے جواب صرف ایک کراہ تھا۔ وہ شدید درد میں تھا لیکن زندہ تھا

یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کے بیٹے کے ساتھ کچھ سنگین ہو گیا ہے، اس نے دوبارہ نہیں سوچا اور فوری طور پر مقامی ایمبولینس ڈرائیور پلاش پنڈت کو فون کیا۔ اپنے بہنوئی دیپک داس کے ساتھ وہ رات کو بالاسور کے لیے روانہ ہوئے

انہوں نے اُس رات دو سو تیس کلومیٹر سفر کیا لیکن انہیں بِسواجیت کہیں نہ ملا

دیپک داس بتاتے ہیں ”ہم ہار ماننے کو تیار نہیں تھے۔ لوگوں سے پوچھا کہ دیگر کہاں کہاں زخمی اور مرنے والوں کو داخل کیا گیا ہے۔ اگر ہم اسے ہسپتال میں نہیں ڈھونڈ سکتے ہیں، تو کسی نے ہمیں بہاناگا ہائی اسکول جانے کو کہا جہاں لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ ہم اس کی موت کو تسلیم نہیں کر رہے تھے“

وہ مزید کہتے ہیں ”ہمیں لاشیں دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہاں شور شرابا ہونا شروع ہوا جب کسی نے دیکھا کہ ایک ’مردہ‘ شخص کا دایاں ہاتھ کانپ رہا ہے، چونکہ ہم وہیں موجود تھے، ہم نے دیکھا کہ وہ ہاتھ بِسواجیت کا ہے، جو کہ بے ہوش ہے اور شدید تکلیف میں ہے۔ ہم اسے جلدی سے ایمبولینس میں ڈال کر بالاسور ہسپتال لے گئے جہاں اسے کچھ ٹیکے لگائے گئے۔ جیسے اس کی حالت تھی، اسے کٹک میڈیکل کالج ہسپتال ریفر کیا گیا لیکن ہم نے وہاں سے ڈسچارچ کروا لیا“

ایمبولینس ڈائیور پالاش پنڈت نے بتایا کہ نوجوان سارے راستے میں بے ہوش رہا ”ہم صبح ساڑھے آٹھ بجے ایس ایس کے ایم ہسپتال رُکے۔“ بِسواجیت ابھی تک ہوش میں نہیں آیا، اتوار کے روز اس کے ٹخنے کی سرجری کی گئی ہے جبکہ پیر کے روز اُس کے ٹانگ کی دوبارہ سرجری کی جائے گی۔
اس کا دایاں ہاتھ جو کانپا تھا، اس میں کئی فریکچر ہیں

فورینزک میڈیسن کے ماہر سومناتھ داس کہتے ہیں کہ بِسواجیت ’سسپینڈڈ اینیمیشن‘ کی حالت میں تھا

یہ وہ حالت ہوتی ہے جب انسان کے وائٹلز یعنی جسم کا درجہ حرارت، بلڈ پریشر، سانس اور دھڑکن نہایت کم ہو جاتی ہے

اس حالت میں انسان کے جسمانی فنکشن عارضی طور پر سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں، تاہم اس سے مریض کو دوائی کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے لیکن یہ حالت صدمے یا مخصوص واقعات جیسے پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے

سومناتھ داس کہتے ہیں ”زخمیوں کی بڑی تعداد اور رش کی وجہ سے ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کے پاس وائٹلز دیکھنے کا وقت نہیں تھا“

ماہرین نے بھی کہا ہے کہ زیادہ ریسکیو آپریشن طبی ماہرین کے بجائے عام افراد نے کیا ہے۔ اس دوران اگر کوئی زخمی جواب نہیں دے پا رہا ہوگا تو اسے غلطی سے مُردہ تصور کیا گیا ہوگا

بنکورا سمیلانی میڈیکل کالج میں فارنسک میڈیسن کے ہیڈ پروفیسر سومناتھ داس نے کہا کہ بسواجیت کے معاملے میں جو کچھ ہوا وہ زخمیوں کی بڑی تعداد اور لوگوں کے رش کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر ریسکیو ورکرز نان ہیلتھ ورکرز ہیں۔ جب زخمی شخص بے ہوش ہوا تو انہوں نے اسے مردہ سمجھ لیا‘‘

سرکردہ لوگوں نے الزام لگایا کہ ایک زندہ شخص کو مردہ سمجھ کر لاشوں کے ڈھیر میں پھینک دینا اس سانحہ کے پیش نظر حکومت کی بے حسی کی مثال ہے، جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اگر ہیلارام نے اپنے بیٹے کی تلاش میں ایمبولینس کے ساتھ بھاگنے کی ہمت نہ دکھائی ہوتی تو بشواجیت بھی بہانگا ہائی اسکول کے ڈیتھ چیمبر میں لیٹے ہوئے موت کی آغوش میں چلے جاتے۔

Tags:

balasore train accidentbreaking news in odiacoromandel express train accidentcoromandel express train accident liveodisha train accidentodisha train accident liveodisha train accident newsodisha train accident todaytrain accidenttrain accident in odishatrain accident in odisha livetrain accident in odisha todaytrain accident livetrain accident newstrain accident news live odishatrain accident news odishatrain accident today in odisha
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بھارت کی ریاست اترپردیش میں تین سالہ بچے کے کاٹنے سے سانپ ہلاک!

Next

بلوچستان کے طلبہ کی تیار کردہ مشین، جو ہوا سے پانی کشید کرتی ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme