Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

بھارت میں دَلِت صحافیوں کو اپنا نیوز پلیٹ فارم تشکیل دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

By Akhtar Rasool
جولائی 1, 2023 4 Min Read
0

بھارت کا مرکزی دھارے کا ذرائع ابلاغ بڑی حد تک ملک کے تیس کروڑ دلتوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ لیکن اب اس طبقے کے لیے وقف ایک نیوز پلیٹ فارم پر دلت صحافی اپنی کہانیوں سے اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں

انہی میں سے ایک مینا کوتوال بھی ہیں، جن کا تعلق محنت کش خاندان سے ہے۔ وہ بھارتی دارالحکومت دہلی کے ایک دلت محلے میں پلی بڑھی ہیں۔ صحافی بننے کے بعد انہوں نے ذرائع ابلاغ کے کئی بڑے اداروں کے لیے کام کیا۔ تاہم ایک نوجوان صحافی کے طور پر ان کے تجربات نے انہیں یہ احساس دلایا کہ اس میڈیا میں بھارتی معاشرے کے ایک بڑے حصے یعنی دلتوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے

مینا کوتوال بتاتی ہیں ’’میں نے مرکزی دھارے کے بھارتی نیوز رومز میں اپنی دلت شناخت کے بوجھ کو محسوس کیا، جہاں ذات پات کا اندھا پن معمول کی بات ہے۔ اسی تفریق نے مجھے اپنا میڈیا پلیٹ فارم شروع کرنے پر مجبور کیا، جو بھارت کے اس معاشرے کی خبروں پر توجہ دیتا ہے، جو ذات پات کے سبب حاشیے پر ہیں‘‘

سن 2019ع میں مینا کوتوال نے ’موک نائک‘ کے نام سے ایک آن لائن نیوز پلیٹ فارم لانچ کیا، جس کا مطلب ہے ’’بے آوازوں کا رہنما‘‘ بھارت کے متنوع سماجی طبقات سے آنے والے چودہ صحافیوں پر مشتمل اس پلیٹ فارم سے، مینا کوتوال کا مقصد، دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی کہانیوں کو اجاگر کرنا ہے۔ ایسی کہانیاں، جو عام طور پر مرکزی دھارے کے میڈیا میں رپورٹ نہیں کی جاتیں

پلیٹ فارم کا نام بھارتی آئین کے معمار بی آر امبیڈکر سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے۔ مینا کوتوال اپنا نیوز روم ان عطیات کے ذریعے چلاتی ہیں، جو انہیں کراؤڈ فنڈنگ سے ملتے ہیں۔ حال ہی میں انہیں ’گوگل نیوز انیشیٹیو‘ سے بھی فنڈنگ حاصل ہوئی ہے

یہ نیوز آؤٹ لٹ دہلی کے اسی دلت محلے ’پشپا بھون‘ سے چلایا جاتا ہے، جس علاقے میں مینا کوتوال پلی بڑھی ہیں۔ ’موک نائک‘ وسیع تر رسائی کے لیے ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں مضامین شائع کرتا ہے۔ وہ اپنے یوٹیوب چینل کے لیے وڈیوز بھی شوٹ کرتے ہیں، جس کا مقصد ان کہانیوں کا احاطہ کرنا ہے، جو دلتوں کو درپیش مظالم اور سماجی ناانصافیوں پر مبنی ہوتی ہیں اور دوسرے انہیں جگہ نہیں دیتے ہیں

ہندوؤں کا ذات پات کا نظام ہزاروں برس پرانا ہے اور تقریباً تین سو ملین دلتوں کو آج بھی نچلے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ نام نہاد اعلیٰ ذاتیں دلتوں کے لیے ’اچھوت‘ جیسی توہین آمیز اصطلاح استعمال کرتی ہیں۔ جبکہ بھارتی آئین میں اچھوت کے رواج کو ممنوع اور غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ تاہم بھارت میں اب بھی ذات پات کی جڑیں گہری ہیں اور آج بھی دلتوں کو ذات پات کی بنیاد پر نفرت انگیز امتیازی سلوک اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے

اکتوبر 2022 میں آکسفیم اور بھارتی ڈجیٹل نیوز آؤٹ لٹ ‘نیوز لانڈری’ کی ایک مشترکہ رپورٹ میں بھارتی نیوز رومز میں دلتوں کی غیر متناسب نمائندگی کا انکشاف کیا گیا تھا

رپورٹ کے مطابق سن 2019 میں بھارت کے تقریباً 88 فیصد صحافی ’اونچی ذات‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ آج بھی اس صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے

ایک اور دلت صحافی اشوکا داس نے بھی ماہانہ میگزین اور نیوز پورٹل ’دلت دستک‘ کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد خبروں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے دلت سماج کے بارے میں بیداری پھیلانا ہے

اشوکا داس کہتے ہیں ’’بھارتی اداروں، بشمول عدلیہ اور تعلیمی اداروں، میں اونچی ذات کی گیٹ کیپنگ عام ہے۔ یہاں میڈیا بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے‘‘

’اعلیٰ ذات‘ کے غلبے والے بھارتی نیوز رومز میں ایک دلت صحافی کے طور پر ان کے تجربے نے اشوکا داس کو یہ احساس دلایا کہ کس طرح ان کی شناخت نے ان کے لیے حدود پیدا کی ہیں۔ اشوکا کہتے ہیں ’’آپ کسی خاص عہدے سے اوپر نہیں اٹھ سکتے۔ آپ کی ترقی میں تاخیر ہوتی ہے۔ اور یہ واضح طور پر آپ کی ذات کی شناخت کی وجہ سے ہوتا ہے‘‘

 دلت میڈیا کے لیے مشکلات

سن 2012 میں اشوکا داس نے ’دلت دستک‘ کا آغاز کیا تھا تاکہ دلتوں کے ایسے مسائل کو اجاگر کیا جا سکے، جنہیں مین اسٹریم میڈیا نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس وقت سے، پلیٹ فارم کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اسے فنڈز تلاش کرنے اور ایک مستحکم ٹیم کو برقرار رکھنے جیسی مشکلات کا سامنا ہے

ان متبادل دلت میڈیا آؤٹ لیٹس کے علاوہ، دیگر میڈیا اقدامات جیسے ’راؤنڈ ٹیبل انڈیا‘، اور ’دی دلت وائس‘ جیسے پلیٹ فارمز کا ابھرنا بھی شامل ہے، جو بھارتی شہریوں میں بیداری اور شعور پیدا کرنے کے مقصد سے، دلت مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں

آکسفیم اور ’نیوز لانڈری‘ کی رپورٹ کے مطابق ایڈیٹر انچیف، مینیجنگ ایڈیٹر، ایگزیکیٹو ایڈیٹر، بیورو چیف اور ان پٹ/ آؤٹ پٹ ایڈیٹر سمیت نیوز روم کے ایک سو اکیس اہم عہدوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں سے ایک سو چھ اعلیٰ عہدے ’اونچی ذات‘ کے صحافیوں کے پاس ہیں

صرف پانچ عہدے دیگر ذاتوں کے پاس ہیں اور چھ اقلیتی برادریوں کے صحافیوں کے پاس ہیں۔ باقی چار افراد کی شناخت معلوم نہیں ہو سکی

نئی دہلی میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ہریش وانکھیڑے نے بھارتی میڈیا میں ذات پات کی تقسیم کے رجحان پر تحقیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے ”مرکزی دھارے کے میڈیا کی طرف سے دلت مسائل کی کوریج ’پریشان کن‘ ہے۔ ایک متبادل کے طور پر دلت میڈیا کا ابھرنا بہت اہم ہے تاکہ مین اسٹریم میڈیا کے غالب بیانیے کو چیلنج کیا جا سکے، جو ہمیشہ دلتوں کے خلاف مظالم کو اور دلت نقطہ نظر کو اپنی کہانیوں میں دفن کر دیتا ہے۔‘‘

Tags:

breaking newscaste reservation system in indiadalet digital media systemsIndiaindia newsindia news liveindia tv newsindian express newsIndian YoutuberJournalismkerala-based journalist siddique kappanlatest from indialatest newslatest news in englishlatest news indialive news indiandtv news in englishNewsnews from indianews headlinesnews in indianews indiarahul gandhi newsthe wire newstop newsworld news
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

مہذب مغرب: جرمنی میں اسلاموفوبیا بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا ہے، رپورٹ

Next

یونان کشتی حادثہ: ’کوسٹ گارڈز نے رسی باندھ کر کشتی کو کھینچا، جس سے وہ الٹ گئی‘ بچ جانے والوں کا بیان

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme