Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

کھیرتھر، جہاں میرے خواب بستے ہیں۔۔

By Akhtar Rasool
اگست 25, 2023 3 Min Read
0

کراچی کا نام سنتے ہی کچرا، دھواں، کنکریٹ کے جنگل کا گمان ہوتا ہوگا، مگر اسی کراچی میں ایک جگہ ہے جس کا نام ہے ’کھیرتھر نیشنل پارک‘ جو سندھ کا واحد نیشنل پارک ہے۔۔ اب سندھ کا واحد نیشنل پارک ہے تو رقبہ کے لحاضٹ سے چھوٹا ہو یا بڑا، ہمیں اسی میں قدرت کو قریب سے دیکھنا ہوگا

یہ بات ہے سنہ انیس سو چورانوے کی، جب چوتھی جماعت کی مجھے معاشرتی علوم کی کتاب میں جو سب سے کام کا اور سب سے دلچسپ مضمون لگا، وہ تھا کراچی کے قریب کسی نیشنل پارک کے وجود کا ہونا۔۔ ذہن میں گمان رہا کہ اس نیشنل پارک میں بھی ہاتھی شیر گلدار بھیڑیے کا راج ہوگا۔ اس وقت تک کھیر متھر نیشنل پارک ضلع دادو کی حدود میں آتا تھا۔

بے انتہاء اشتیاق رہا اس سحر کا، جس کو دیکھنے کا لطف کھیرتھر نیشنل پارک میں ہو مگر کیا کریں کبھی ایسی سحر بیس سال تک آئی ہی نہیں، نا اسکول والوں کو نا ابا حضور کو یہ خیال آیا کہ بچے کو کہاں جانا پسند ہے۔۔ یہ ہیں ہماری ترجحیات، جن کی بدولت ہماری قوم کو جنگلی حیات کی اہمیت سے آگاہی نہیں

خیر ایک دن ماہِ جون کی انتہائی گرم دوپہر بالاآخر میں کھیرتھر نیشنل پارک پہنچ ہی گیا، مگر یہ کیا۔۔ یہاں نا کوئی ہاتھی نا کوئی شیر نا کوئی ہرن۔۔ چند گھنٹے گزارے اور گھر کی راہ لی لیکن تشنگی برقرار رہی

لیکن اب سالوں بعد ہم راستہ دیکھ چکے تھے، سو آئے دن رختِ سفر باندھتے اور کھیرتھر نیشنل پارک کی راہ لیتے، مگر اس سحر کا بے انتہا انتظار رہا کہ کوئی تو سحر آئے گی جب کھیرتھر نیشنل پارک میں رات گزار کر صبح دیکھیں گے۔ بارہا کھیرتھر کے سفر میں یہ عقد کھلا کہ یہ علاقہ آج بھی اپنے اندر صدیوں کی تاریخ اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے اور یہاں شیر گلدار اب تو نہیں ہوتے مگر انواع و اقسام کے پرندے اور دیگر جنگلی حیات یہاں رہتی ہے اور بستی ہے

بس یہ اشتیاق مجھے ایک دن اس راستے پر لے گیا۔ کھیرتھر نیشنل پارک کا راستہ میرے گھر سے محض 60 کلومیٹر پر محیط ہے۔ ایک رات میں نے رختِ سفر باندھا اپنی سالوں کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کہ اب جو سحر آئے گی، وہ کھیرتھر نیشنل پارک میں آئے گی۔۔ بس پھر کیا تھا، بالاآخر میں کامیاب ہوا۔ صبح صادق کا وقت کھیرتھر نیشنل پارک میں دیکھنے کا اور رات کے پہر میں کھیرتھر نیشنل پارک گھومنے کا جو لطف آیا، وہ میرے خون میں شامل تھا، کیونکہ میرے دادا کو بھی جنگل میں رات گزارنے کا شوق تھا۔۔ رات کے پہر ہی جنگل آپ سے بات کرتا ہے، اپنا رعب و جوبن دکھاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کراچی میں رہنے والوں کے لیے کھیرتھر نیشنل پارک کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ کوشش کریں ایک بار اس نیشنل پارک کی سیر ضرور کریں۔

ایک ایسی ہی سیر کے دوران میرے کیمرے کے سامنے بیٹھا یہ مہمان عقاب جو سر زمین روس سے یہاں سردی گزارنے آیا ہے، اپنے نسل کے ان آخری چند عقابوں میں سے ہے، جو صدیوں سے روس کے برف زاروں سے کراچی کے ان چٹیل و سخت جان پہاڑوں پر اپنی سردیاں گزارنے آتے ہیں۔۔ مجھے آپ کو ہی ان عقابوں کو اور کھیرتھر نیشنل پارک کو بچانا ہے، کیونکہ کھیرتھر کا وجود ہی کراچی کے وجود کا باعث ہے۔

Tags:

adventureadventure videobike tourhiking trackinghillsHistoryjohikeerthar mountain rangekheertharKhirtharkhirthar mountainkirtharkirthar mountainkirthar mountain range sindhkirthar national parknaturalNatureold fortranipurranipur cityranipur city historySindhiSindhu Deshthanothanobola khantouringtoursim culturetravel log of pipra sur a natural pond in khirthur hills range in sindh pakistanwahi pandhi
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پروفیشنل مؤرّخ

Next

فطرت کے تحفظ کے لیے ’بائیو ڈائیورسٹی فنڈ‘ قائم کر دیا گیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme