Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Dr-Mahrang-Baloch-baloch-balochistan
خبریںاہم ترینتازہ ترین

ماہ رنگ بلوچ کی کہانی، جو جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت بلوچ نوجوانوں کے قتل کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گئیں

By Akhtar Rasool
دسمبر 21, 2023 4 Min Read
0

تربت سے اسلام آباد تک حالیہ لانگ مارچ کی قیادت کرنے والی ماہ رنگ بلوچ سنہ 2020 میں اس وقت سب کی توجہ کا مرکز بنی تھیں، جب صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں طلبا کے آن لائن کلاسز کے خلاف ایک احتجاج کے دوران بولان میڈیکل کالج کے طلبا کو گرفتار کیا گیا تھا

اس احتجاج میں ماہ رنگ بلوچ کو بھی پولیس نے گرفتار کیا تھا اور وہ پولیس وین میں بٹھائے جانے تک اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کر رہی تھی

بعد ازاں اسی روز انہیں رہا کر دیا گیا تھا اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بیان جاری کیا تھا کہ ’حکومت نے کسی طالب علم کی گرفتاری کا حکم نہیں دیا تھا۔‘

ماہ رنگ بلوچ کے مطابق ان کا آبائی ضلع قلات ہے۔ وہ پانچ بہنیں اور ایک بھائی ہے اور سب تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد عبدالغفار واپڈا میں ملازمت کرنے کے علاوہ مزدور، قوم پرست اور بائیں بازو کی سیاست کرتے تھے۔

ماہ رنگ کا دعویٰ ہے کہ ’سنہ 2006 میں وہ (ماہ رنگ کے والد) پہلی مرتبہ لاپتہ ہوئے جس کے کچھ عرصے بعد وہ واپس آ گئے تھے۔ پھر وہ 2009 میں لاپتہ ہوئے اور 2011 میں ان کی مسخ شدہ لاش ملی تھی۔‘

ماہ رنگ بلوچ کے مطابق ’اس کے بعد ہم سب بہن بھائی والدہ کے ہمراہ کراچی چلے گئے جہاں کئی سال تک خاموشی سے زیر تعلیم رہے۔ بلوچستان سے طویل عرصے بعد اس وقت میرا رابطہ بحال ہوا جب مجھے بولان میڈیکل کالج میں داخلہ ملا۔‘

’بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں داخلے کے دوران میں نقاب کیا کرتی تھی اور خاموشی سے پڑھائی کر رہی تھی۔ خیال تھا کہ کسی بھی طرح پہلے اپنی پڑھائی مکمل کر لوں اور پھر اس کے بعد سیاست میں بھی فعال کردار ادا کروں گی۔ مگر پتا نہیں کیا ہوا کہ 2016 میں میرے بھائی کو لاپتہ کر دیا گیا۔ جس پر میں نے اپنا نقاب اُتارا اور احتجاج شروع کر دیا۔‘

ان کے مطابق اُس کے بعد سے وہ طلبا سیاست میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ ماہ رنگ بلوچ کا کہنا ہے کہ ’سنہ 2006 میں جب میرے والد لاپتہ ہوئے تو اس وقت میں پانچویں کلاس میں پڑھتی تھی۔ اس وقت بھی والد کو بازیاب کروانے کے لیے میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج میں شامل تھی۔‘

’اس احتجاج میں میرے والد کے دوست ذاکر مجید بلوچ نے مجھ سے کہا کہ مجھے تقریر کرنی ہے۔ وہ میری پہلی تقریر تھی۔

’میں جب تقریر کے لیے کھڑی ہوئی تو اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ مجھے میرے والد یاد آ رہے تھے۔ والد کو یاد کر کے میں نے رونا شروع کر دیا اور زور زور سے رونے لگی۔ اس موقع پر صرف یہ ہی کہہ سکی کہ میرے والد کو چھوڑ دیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد ذاکر مجید بلوچ نے تقریر کی، وہ بھی لاپتہ ہوئے اور وہ اب بھی لاپتہ ہیں۔

ماہ رنگ بلوچ کے مطابق ان کی سیاسی تربیت بچپن ہی سے ان کے والد نے کی۔ ’جب 2017 میں بھائی لاپتہ ہوا تو میرے اندر کا سیاسی کارکن بھی بیدار ہو گیا۔‘

بھائی کی گرفتاری کے خلاف جب انھوں نے نقاب اُتار کر سڑکوں کا رُخ کیا تو ’تین ماہ بعد ہمارا بھائی واپس آ گیا۔‘

’میں نے پھر نقاب کر لیا کیونکہ میں نے تعلیم مکمل کرنی تھی۔ ڈاکٹر بننا تھا۔ مگر بلوچستان کے اندر طالبات ویڈیو سکینڈل سامنے آیا جس پر میں چپ نہ رہ سکی اور ایک بار پھر احتجاج میں حصہ لیا۔ اس مرتبہ پھر وہی سلوک ہوا۔‘

’اس کے بعد فیصلہ کیا کہ اگر حق کے لیے احتجاج کے دوران دوپٹے کھینچے جاتے ہیں اور نقاب اتارے جاتے ہیں تو پھر اب نقاب پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد طلبا سیاست میں فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا جو کہ اب تک جاری ہے۔‘

ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ ان کے والد ایک باشعور سیاسی کارکن تھے۔ ’مجھے یاد ہے کہ وہ اکثر و بیشتر ہم سب، ہماری پھوپھپیوں، چچاؤں کو اکٹھا کرتے اور سب کے ساتھ بحث مباحثہ کرتے تھے۔‘

’یہ بحث مباحثہ سیاسی ہوتا تھا اس کے بعد اکثر وہ مجھے وقت دیا کرتے تھے۔ میرے ساتھ بات کرتے، مجھے اب احساس ہو رہا ہے کہ وہ میری سیاسی تربیت کیا کرتے تھے۔ مجھے کہا کرتے تھے کہ جب حق مانگا جاتا ہے تو اس کے بدلے میں اکثر و بیشتر ظلم ہوتا ہے اور وہ ظلم برداشت کرنا ہوتا ہے مگر فتح حق کی ہوتی ہے۔‘

ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’میرے والد کہا کرتے تھے کہ میں نے پہلے ڈاکٹر بننا ہے اور ساتھ میں سیاست کرنی ہے۔ ڈاکٹر بن کر اپنے لوگوں کی خدمت کرنی ہے اور ان کے لیے مثال بننا ہے اور سیاست کر کے اپنا حق مانگنا ہے۔‘

’مجھے میرے والد صاحب نے سکھایا ہے کہ ظلم کو ظلم کہنا ہے اور میں ظلم کو ظلم کہوں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے۔‘

Tags:

arif balochBALOCHBaloch Genocidebaloch long marchbaloch long march ar dera ismail khanbaloch long march dg khanbaloch long march towards islamabadbaloch yakjehti committe long marchbalochi best songsbalochi hd songbalochi hit songsbalochi old songsbalochi songbalochi songsbalochi top singerbalochi velogbalochi videobalochi video songbanuk karima balochdr mahrang balochdr mahrang baloch speechdr sabiha balochdr shali balochGenocidehd balochi songit's balochi zeemalKarima Balochlatest balochi songLong Marchlong march against baloch genocidelong march of balochlong marchh balochmahrang balochmarch against baloch genocidenew balochi songnew balochi song 2021pakistani balochisammi deen balochsanj balochstop baloch genocidevbmp long marchwhat is the purpose of baloch long march
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
baloch-genocide-balochistan-pakistan-longmarch-islamabad
Previous

نہتی بلوچ ماؤں، بہنوں پر لاٹھی اٹھانا ریاست کے کھوکھلا ہونے کا ثبوت ہے“ ماہ رنگ بلوچ۔ لانگ مارچ پر کریک ڈاؤن، سینکڑوں گرفتار

baloch-national-army-gulzar-imam-sarfaraz-balochistan
Next

ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے بلوچ کمانڈر سرفراز بنگلزئی کون ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme