Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

renowned-journalist-muhammad-hanif-returned-the-sitara-e-amitaz
کالماہم ترینتازہ ترین

نگران وزیر اعظم کی خواب گاہ سے براہ راست

By Akhtar Rasool
دسمبر 24, 2023 5 Min Read
0

نوٹ: گزشتہ روز معروف صحافی محمد حنیف نے ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں بلوچوں کے لانگ مارچ پر کریک ڈاؤن اور تشدد کے خلاف بطور احتجاج ’ستارہِ امیتاز‘ واپس کردیا۔ اس حوالے سے سماجی روابط کی ویب سائٹ ایکس پر انہوں نے ستارہ امیتاز واپس کرنے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا ’’ریاست کی جانب سے تفویض ستارہ امتیاز احتجاجاً واپس کر رہا ہوں، ایسی ریاست جو بلوچ شہریوں کے اغوا اور ان پر تشدد پر مبنی رویہ جاری رکھے ہوئی ہے۔ میرے عہد کے صحافی دیکھ چکے ہیں کہ ماہ رنگ بلوچ اور سمی بلوچ احتجاجی کیمپ میں بڑھے ہوئے، یہ دیکھ کر شرمندہ ہوں کہ نئی نسل کو بنیادی وقار سے محروم رکھا جا رہا ہے۔‘‘


بلوچ لانگ مارچ اور ریاستی رویہ کے حوالے سے ان کی یہ تحریر یہاں پیش کی جا رہی ہے۔

 

چونکہ ہمارے نگران وزیراعظم کے بارے میں افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ انہیں کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے تو انہوں نے یقیناً طالب علمی کے زمانے میں وہ والا شعر ضرور سُنا ہوگا، جس کا ایک مصرع ہے:

تمہاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

اس مصرعے میں کوئی شاعرانہ مبالغہ آرائی نہیں ہے، اگر یقین نہیں آتا تو بغیر گوگل کیے صرف یہ بتا دیں ہمارا آخری نگران وزیراعظم کون تھا؟ یا اس سے پہلے کون تھا؟ یا کسی کا ایک کا نام یاد آ رہا ہو تو بتا دیں۔ یہ تاریخ کا وہ کُوڑے دان ہے، جس میں سب نگران گئے، اور جو اب ہیں، وہ بھی جائیں گے۔

کسی نے اچھا کیا وہ بھی بھلا دیا گیا، کچھ بُرا کرنے کے اختیارات ہی نہیں ملتے، اس لیے ان کے نام پر جو بُرا ہوا اس کا الزام بھی انہیں کوئی نہیں دیتا۔ جھنڈے والی گاڑی، پرائیویٹ جہاز اور محل نما گھر کا خواب اتنا عام اور اتنا قدیم ہے کہ نگرانوں کو ہم رشک کی نظر سے دیکھتے ہیں یا حسد کی نظر سے، یا کچھ زیادہ سیانے اُن کے کریئر کے گراف پر نظر دوڑا کر سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اِس منزل تک کیسے پہنچنا ہے۔

لیکن پتا نہیں کیوں موجودہ نگرانوں کو دیکھ کر رشک کی بجائے رحم آتا ہے، کیونکہ وہ روز اپنے آپ کو اور پھر ہمیں یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی محنت اور لگن سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔

کبھی اُستادوں کو یاد کرتے ہیں، کبھی ٹی وی کیمرے کے سامنے بیٹھ کر ماں کی دعاؤں کا ذکر کرتے ہیں اور کبھی کیمرے کی آنکھ میں دیکھ کر آنکھوں کو خوابناک بنا کر بتاتے ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں میرا سب سے پسندیدہ کمرہ میرا بیڈروم ہے۔

ذرا میرے بیڈ روم والی ادا پر غور کیجیے، آپ نے شاید بچپن میں گڑیا، گڈے کی شادی والا کھیل کھیلا ہوگا، جس میں بچے گڑیا کی بارات اور گُل پاشی وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہمارے نگران بھی گڑیا، گڈے کی شادی والے کھیل میں مصروف ہیں۔ ان کی حرکتوں کو طاقت کی معصومانہ سی حرص سمجھ کر درگزر کیا جا سکتا تھا اگر ان کے پسندیدہ بیڈ روم کی طرف جانے والی راہداریوں میں خون کے دھبے نہ ہوتے۔

کل رات ہمارے نگران وزیراعظم اپنے پسندیدہ خوابگاہ میں سوئے اور سونے سے پہلے انہیں علم تھا کہ ان کے آبائی صوبے سے ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے بچیاں، عورتیں، بچے اور نوجوان اسلام آباد پہنچے۔

نگران وزیراعظم نے ایک بلوچ صحافی کو بتایا کہ جب میں سونے جا رہا تھا تو میں نے اسلام آباد انتظامیہ کو ہدایات دیں کہ بلوچ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔ اب میں نہیں جانتا کہ جب نگران وزیراعظم اپنی خوابگاہ کا دروازہ بند کر لیتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔

ہم تصور کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے فیورٹ بیڈروم میں اپنے فیورٹ بستر پر، اپنی فیورٹ ریشمی رضائی تان کر، اپنی فیورٹ کتاب پڑھتے ہوئے سو جاتے ہیں۔ اس خوابگاہ کے باہر کے مناظر البتہ پورے ملک نے دیکھے ہیں۔

عین اُس وقت جب بلوچستان سے لایا گیا نگران محوِ خواب ہوا تو اسلام آباد کی سڑکوں پر سخت سردی میں مظاہرین پر پانی والی توپ سے یخ اور غالباً گندے پانی کی بوچھاڑ کی جاتی ہے، وردی والے اور بغیر وردی والے وحشیانہ لاٹھی چارج کرتے ہیں۔ جو صرف اپنے پیاروں کی آزادی اور انصاف مانگنے آئے تھے، ان کو گھسیٹ کر تھانوں میں بند کیا جاتا ہے اور پھر سڑکوں پر بسیں کھڑی کر دی جاتی ہیں کہ انہیں جہاں سے آئے ہیں، وہاں چھوڑ کر آؤ۔

اب ہمیں کوئی اسلام آباد کے راز جاننے والا ہی بتا سکتا ہے کہ نگران وزیراعظم جب سونے کے لیے اپنے فیورٹ بیڈروم میں جاتا ہے تو دروازہ اندر سے خود بند کرتا ہے یا باہر سے بند کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد کی یخ بستہ رات میں پانی کی توپ کی یلغار میں ٹھٹھرتے ایک تھانے سے دوسرے تھانے میں اپنے بچوں کو ڈھونڈتے مظاہرین میں ماہ رنگ اور سمی دین بلوچ بھی شامل ہیں۔

پاکستان کا کوئی بھی صحافی جو کبھی کراچی، کوئٹہ یا اسلام آباد پریس کلب سے گزرا ہے، وہ جانتا ہے کہ ماہ رنگ اور سمی بچپن ہی سے احتجاجی کیمپوں میں بیٹھی ہیں، ہماری آنکھوں کے سامنے جوان ہوئی ہیں اور لیڈر بنی ہیں۔ اب اپنے پیارے ہلاک اور گمشدہ بھائیوں کے لیے آواز اٹھانے اسلام آباد پہنچی ہیں، تو پولیس والے ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے مرد کہاں ہیں؟ کچھ مار دیے، باقی غائب کر دیے، ایک کو وزیراعظم کی خوابگاہ میں بند کر دیا یا اس نے اندر سے کنڈی لگا لی۔

دوسرا سوال یہ کہ وزیراعظم بھی تمہارا، سینیٹ کا چیئرمین بھی، چیف جسٹس بھی تمہارا، پھر اسلام آباد میں دربدر کیوں ہو۔ سمی دین بلوچ جس کی تعلیم و تربیت احتجاجی کیمپوں میں ہوئی ہے، اس کا سیدھا سا جواب دیتی ہے کہ یہ سوال ان تینوں سے جا کر پوچھو۔ ہمارے تمام سیاستدانوں پر الزام لگتا ہے کہ انہیں جب ضرورت پڑتی ہے تو وہ بوٹ پالش کرنے کے کام پر لگ جاتے ہیں، کبھی کسی بغاوت کا جھانسہ بھی دیتے ہیں لیکن ایک ہاتھ میں بوٹ چمکانے والا برش تیار رکھتے ہیں۔

نگرانوں کی نوکری کی تو غالباً پہلی شرط ہی یہی ہے، لیکن نئے نگران شاید اس لیے ایک ہاتھ آگے ہیں کہ سارا دن بوٹوں کے چھوڑے ہوئے خون کے دھبے بھی صاف کرتے ہیں اور پھر تھک ہار کر اپنے فیورٹ بیڈروم میں سو جاتے ہیں۔

بشکریہ: بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

azadi march againbaloch long march islamabadbalochistan protest against pakistanbalochistan protest against pakistan nuclear testbritish pakistani writer and journalist mohammed hanifby muhammad hanifCrackdowncrackdown fbi filescrime crackdownel salvador gang crackdownfbi crackdownflint police crackdowngang crackdowngang crackdown el salvadorgang violencegun violencehanifimran khan long marchimran khan long march callJournalismJournalistjournalist hanif vlogjournalistsLong Marchlong march islamabadmohammadmohammad hanifMohammed Hanifmohammed hanif bbcmohammed hanif blogmohammed hanif vlogmohammed hanif vlog on india pakistanmohammed hanif writer pakistanmufti mohammad hanif qureshi on imran khanMuhammad Hanifmuhammed hanif bbcnew crackdownpakistan journalist hanifpakistani writer-journalist mohammed hanifpashtoon long marchpashtun long marchpashtun long march jalsa peshawarpeshawar pashtun long marchpolice crackdown on baloch solidarity marchpti leader long marchpti long marchpti long march livepti long march updateracketeer influenced and corrupt organizationthe long marchthe nationalthe national cbcthe national fullthe national on demandViolenceviolent crime crackdown in flintwar on drugswatch the fbi fileswatch the fbi files online freewatch the national
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ریاست کا المیہ

Pakistan-condemned-the-custodial-killing-of-three-civilians-in-Occupied-Kashmi
Next

پاکستان کا مقبوضہ کشمیر میں تین شہریوں کے حراستی قتل پر اظہار مذمت

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme