Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

کالماہم ترینتازہ ترین

ریاست کا المیہ

By Akhtar Rasool
دسمبر 24, 2023 3 Min Read
0

ماہ رنگ۔ ماہ بلوچی میں چاند کو کہتے ہیں۔ اس طرح ماہ رنگ کا مطلب چاند جیسی۔ آج موضوع چاند ہے۔ چاند روشنی اور امید کو کہتے ہیں۔ کوفہ (اسلام آباد) کے لوگوں نے چاند کے ساتھ کیا کیا، وہ سب ہم نے دیکھا۔

اس ظلم اور بربریت کے بارے میں لکھنے کے لیے میرے پاس رقت آمیز اور ہیبت خیز الفاظ نہیں ہیں۔ میں اسلام آباد پولیس کو کافر اور یہودی بھی نہیں کہہ سکتا، کیونکہ میں نے کافر اور یہودیوں کو ان سے اچھا پایا ہے۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے جھوٹ اور حکم امتناعی کا صاف مطلب یہی ہے کہ اسلام آباد پولیس والے کسی اور کی چوکھٹ پر سجدہ کرتے ہیں۔ اور اس کسی اور کو حرف عام میں نامعلوم افراد کے نام سے جانا جاتا ہے۔

تربت بلوچستان سے ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں آج سے 28 دن پہلے شروع ہونے والا یہ تاریخی مارچ جس کو مارچ اگینسٹ بلوچ جینو سائیڈ یعنی بلوچ نسل کشی کے خلاف مارچ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مارچ بلوچستان سے ہوتے ہوئے ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف اور ڈیرہ اسماعیل خان سے اسلام آباد (آباد سے پہلے اسلام کا نام مٹا دینا چاہیے، کیونکہ اسلام کا مطلب امن اور بھائی چارہ ہے) کے دروازے پر پہنچا۔ اگر ماہ رنگ بلوچ اور اس کا لشکر آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کے توریتی اصول پر ہی انتقام لینے کا فیصلہ کرتے تو راستے میں آنے والے ہر شخص کو مسخ کر کے پھینک دیتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا، یہ سارے لوگ پر امن طریقے سے اپنی منزل تک پہنچے۔

اسلام آباد پہنچنے کے بعد ماہ رنگ بلوچ اور اس کے ساتھیوں پر جس طرح کے ظلم ڈھائے گئے، اس کی مثال انسان تو کیا جانوروں کی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ یہ سارے واقعات سوشل میڈیا میں قلمبند ہیں اور دنیا کے کونے کونے تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ وڈیوز اور معصوم بچوں اور عورتوں کی بے بسی اور چیخ و پکار دیکھ کر اگر آپ افسردہ اور اشک بار نہیں ہوئے ہیں تو آپ اشرف المخلوقات نہیں ہیں، آپ کے اندر انسانیت مر چکی ہے اور آپ بس گوشت کا لوتھڑے ہو۔

اسلام آباد کا رویہ دیکھنے کے بعد ملک کے ہر کونے میں ہونے والے مظاہروں کو دیکھ کر یقیناً نامعلوم افراد کے دماغوں پر پھپھوندی سی جمنے لگی ہے۔ وہ طاقت کے نشے میں دھت اس بات سے ناواقف ہیں کہ ایک سچ ہزار جھوٹ پر حاوی ہوتا ہے۔ یہ سچ ماہ رنگ بلوچ ہے۔ یہ سچ پاکستان میں بلوچوں کی کسمپرسی ہے۔ یہ وہ سچ ہے جو زندان میں زندہ ہے اور تخت پر بھی۔ کٹہرے میں بھی وجود تلاشتا ہے اور تختے پر بھی۔ یاد رکھیں کہ ڈوبتا وہی ہے جو تیراک ہے۔ جسے تیرنا نہ آتا ہو وہ پانی میں گھستا ہی نہیں ہے۔ اب یہ پانی سر کے اوپر سے گزرنے والا ہے اور پھر وقت ہمیں بتائے گا کہ کسے تیرنا آتا ہے اور کسے نہیں۔

اسٹیبلشمنٹ اگر اب اپنے عینک کا نمبر نہیں بدلے گا پھر کب بدلے گا۔ بلوچ، اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے جدید نسل کشی کے طریقے کو سمجھ چکے ہیں۔ وہ کسی بھی تاریخی، سماجی یا قانونی طریقے سے بلوچوں سے چھت اور پاؤں تلے کی زمین چھین رہے ہیں، معاشی سکت مفلوج کر رہے ہیں۔ بلوچوں کے اندر کے سکون کو اغوا کر رہے ہیں۔ ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ کر رہے ہیں۔ گھر سے باہر نکلیں تو خود کو ایسے دیدہ و نادیدہ محاصرے میں محسوس کرتے ہیں کہ زمین اور فضا بھی دشمن لگے۔ بلوچ نسل کی عزتِ نفس کو زبانی و عملاً مسلسل کچلتے رہو، کسمسانے کی جرات کرے تو جیل میں بھر دو، چیختے ہوئے سڑک پر آئے تو ٹھنڈا کرنے کے لیے سر کا نشانہ لو۔ بالکل ہی آپے سے باہر ہو کے رسیاں تڑانے لگے اور عالمِ غیض میں حملہ کر دے تو نسل ہی مٹا دو۔ مگر شاید اب یہ آسان نہیں ہے۔ یہ نفرتیں اور دوریاں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اب فاصلے مٹانے کے لئے تمہیں میلوں دور تک پیدل چل کر آنا پڑے گا۔

بلوچستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں تاحال مظاہرے جاری ہیں۔ بازار اور مین شاہراہیں بند ہیں۔ آج لاہور میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔ سندھ کے کافی شہروں میں اور بالخصوص کراچی میں بلوچ اکثریتی علاقوں میں ریاست کے خلاف عوام کا جم غفیر امنڈ آیا۔ ان مظاہروں میں استعمال ہونے والے فلک شگاف نعرے قابل توجہ ہیں۔

(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

arif aajikia on human rights exploitation in pakistanBALOCHbaloch long marchdr mahrang balochdr mahrang baloch speechgidroshia point mahrang balochHuman Rightshuman rights exploitation in pakistanhuman rights in pakistanHuman Rights Violationhuman rights violationshuman rights violations breaking newshuman rights violations in pakistanindia human rights violationsindian human rights violationit's balochi zeemalmahrang balochmahrang baloch arrestmahrang baloch in islamabadmahrang baloch interviewmahrang baloch latestmahrang baloch latest newsmahrang baloch live todaymahrang baloch long marchmahrang baloch protestmahrang baloch speechmahrang baloch statusmahrang baloch today newsmahrang baloch videoministry of human rights pakistanPakistanpakistan human rightspakistan human rights exploitationpakistan newsunited nations human rights councilwho is dr mahrang baloch
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

دنیا میں گاڑیاں کہیں سڑک کے دائیں تو کہیں بائیں طرف کیوں چلتی ہیں؟

renowned-journalist-muhammad-hanif-returned-the-sitara-e-amitaz
Next

نگران وزیر اعظم کی خواب گاہ سے براہ راست

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme