Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Injured-child-Western-media-and-two-sources
کالماہم ترینتازہ ترین

زخمی بچہ، مغربی میڈیا اور دو ذرائع

By Akhtar Rasool
جنوری 15, 2024 4 Min Read
0

مغربی میڈیا عام طور پر اپنے آپ کو عالمی میڈیا کہتا ہے، ساری دنیا کو خبر اور رائے کا فرق بتاتا ہے۔ مغربی یونیورسٹیوں اور نیوز روموں میں سکھایا جاتا ہے کہ ہر خبر چھپنے یا نشر کرنے سے پہلے دو ذرائع سے تصدیق صحافت کا بنیادی اصول ہے۔

مغربی اداروں کے لیے کام کرنے والے ساتھی رپورٹر بتاتے ہیں کہ اگر وہ کسی بڑے واقعے کے چشم دید گواہ بھی ہوں تو بھی ان کی خبر اس وقت تک قابل اشاعت نہیں سمجھی جاتی، جب تک دو ذرائع سے اس کی تصدیق نہ ہو جائے۔

چند سال پہلے ایک مغربی جریدے کے لیے کراچی میں گرمی کی شدید لہر پر ایک کہانی لکھی، بیچ میں یہ بھی لکھ دیا کہ کراچی میں کوئی ایسے بس اسٹاپ نہیں ہیں، جہاں پر چھت ہو۔

میری مدیر نے گوگل میپ پر جا کر کراچی کے کچھ ایسے بس اسٹاپ ڈھونڈ لیے، جہاں پر ٹوٹی پھوٹی سی ہی چھت تھی۔ میں اپنی سُستی پر شرمسار ہوا اور اپنی مدیر کے ادارتی معیار کا قائل ہو گیا۔

اس ہفتے دنیا میں سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ جنوبی افریقہ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کا مقدمہ تیار کر کے اقوام متحدہ کی عالمی عدالت میں پہنچا۔ ایک دن جنوبی افریقہ کو اپنا کیس پیش کرنا تھا، اگلے دن اسرائیل کو اپنا دفاع کرنا تھا۔ اس سے آسان ایڈیٹوریل فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ عالمی عدالت میں کیس پے پوری دنیا کی نظریں لگی ہیں۔ دونوں دن، دونوں ملکوں کا موقف لوگوں تک پہنچنا چاہیے تھا۔

مغرب کے تقریباً تمام نشریاتی اداروں اور بڑے اخباروں نے جنوبی افریقہ کی طرف سے پیش کیے گئے شواہد اور ان کے وکلا کے دلائل کو براہ راست نہیں دکھایا۔ اگلے دن اسرائیل اپنے دفاع کے لیے پیش ہوا تو ساری نشریات روک کر براہ راست کارروائی دکھائی گئی۔

کسی ادارے نے اپنے اس فیصلے کی وضاحت پیش نہیں کی۔ شاید انہیں یقین ہے کہ جدید صحافت اور اس کی اخلاقیات انہی کی ایجاد ہے اور وہ جب چاہیں نئے معیار ایجاد کر لیں۔

اس معاملے میں ان کا رویّہ اسرائیل کے دفاعی وکلا جیسا ہی تھا کہ تم ہم پر نسل کشی کا الزام لگا کر ہمیں بدنام کر رہے ہو، ہمارے پہلے سے دکھی دلوں کو اور دکھی کر رہے ہو۔۔ لیکن ہم جو کر رہے ہیں اس سے ہمیں روک کر تو دکھاؤ۔

مغربی دانشور ہم جیسے ملکوں کو ’بنانا ریپبلک‘ اور ہماری عدالتوں کو ’کینگرو کورٹ‘ کہتے ہیں، لیکن میں نے کسی بڑی سے بڑی ڈکٹیٹرشپ کے بارے میں بھی یہ نہیں سنا کہ ایک میچ ہو رہا ہو، جب مخالف باری لے رہا ہو تو یہ تاثر دیا جائے کہ کون سا میچ۔۔ اور جب اپنی ٹیم باری لینے آئے تو فوراً لائیو کوریج شروع کر دی جائے۔

عالمی عدالت میں جنوبی افریقہ کے وکلا اور ان کے ساتھیوں سے مقدمہ سن کر مغربی تہذیب کے وارث یقیناً نیلسن منڈیلا کو یاد کر رہے ہوں گے، پچھتا بھی رہے ہوں گے کہ اسے جیل سے نکلنے ہی کیوں دیا تھا۔

جنوبی افریقہ کی آزادی کے بعد مغربی رہنماؤں نے نیلسن منڈیلا کو معصوم سا انکل بنانے کی کوشش کی تھی، لیکن سفید بالوں میں وہ دہشت گرد ہی رہا۔ اب بھی اس پر الزام یہ ہی لگ رہا ہے کہ وہ اپنی قبر سے بھی جنوبی افریقہ کے وکیلوں کے ذریعے دہشتگردی کر رہا ہے۔

نیلسن منڈیلا کے روحانی بچوں نے ہمیں بتایا کہ ماضی کی نسل کشی کرنے والے اپنے ارادے کو بھی چھپاتے تھے اور کوشش کرتے تھے کے دنیا کی نظر سے چھپا کر کریں۔

منڈیلا کے دہشتگرد وکیل نے عالمی عدالت کو بتایا کہ یہ تاریخ کی پہلی ’نسل کشی‘ ہے، جس میں شکار ہونے والے اپنی موت کو لائیو اسٹریم کر رہے ہیں اور ایسا کرنے والے نہ صرف اپنا ارادہ چھپانے کی کوشش نہیں کر رہے بلکہ کر کے بتا رہے ہیں، مقدس کتابوں کے حوالے دے کر بتا رہے ہیں کہ شیر خواروں کے قتل کا حکم ہے۔

اور مبینہ طور پر نسل کشی کرنے والی پہلی فوج ہے جو ٹک ٹاک پر لاشوں پر بھنگڑے ڈال رہی ہے۔ اگر نازی جرمنی اپنے گیس چیمبروں میں کیمرے لگا کر دنیا کو لائیو فیڈ دیتے تو بھی شاید مغربی میڈیا اپنے ایڈیٹوریل گائیڈ لائن کھول کر بیٹھ جاتا اور سوچتا کہ ظلم کس طرف سے ہو رہا ہے۔

غزہ میں ہسپتالوں میں شیرخواروں کو دفناتے، بچاتے طبی عملے نے ایک نئی اصطلاح ایجاد کی ہے ’ڈبلیو سی این ایف‘ یعنی ’زخمی بچہ جس کے خاندان میں سب مارے گئے۔‘

مغربی میڈیا ابھی تک وہ دو ذرائع ڈھونڈ رہا ہے، جس سے بچے کی شناخت ہو سکے لیکن چونکہ ہم نے ماں باپ، چچا، خالو، چھوٹا بھائی، بڑا بھائی، گلی میں کھیلنے والے بچے سب مار دیے تو دو ذرائع کہاں سے لائیں۔۔!؟

بشکریہ بی بی سی اردو۔

Tags:

canada india relationschina and africachinese governmentComedianforeign media on indiagizmodo mediahindustan timesht mediaIndiaindia israelindia most wanted listindia newsindian podcastlatest lander song 2019latest news indialester holtmehdi hasanpalestine and israelpalestine and israel debatepalestine and israel warrussia and ukrainesocial mediaukraine and russiaunsolved mysterieswestern penduz songs
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Bla-bla-dalala-dalala-situation-is-ours-to-go-
Previous

بلا بلا ڈالا ڈالا حال ہمارا جانے ہے

Kharoonjar-Mountain-Preservation-cultural-heritage
Next

کارونجھر صرف سندھ کا نہیں دنیا کے قدیم تھذیبوں کا امین ہے: سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme