Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Did-Rekha-want-to-marry-Pakistani-actor-Talat-Hussain
کالماہم ترینتازہ ترین

کیا ریکھا پاکستانی اداکار طلعت حسین سے شادی کرنا چاہتی تھیں؟

By Akhtar Rasool
اگست 9, 2024 4 Min Read
0

باقی دنیا کا تو پتہ نہیں لیکن پاکستانی مرد حضرات بہت گپ باز ہیں۔ آپ نے چوک چوراہوں میں بیٹھے بابوں سے ان کی جوانی کے قصے سن رکھے ہوں گے، کیسے کوئی حسینہ ان کے پیچھے پڑ گئی تھی، اس نے بہت کوشش کی لیکن ہیرو صاحب اپنا دامن صاف بچا لے گئے۔ ہوائی چھوڑنے میں شوبز شخصیات گلی محلے کے بابوں سے بھی چار ہاتھ آگے ہیں۔

اب طلعت حسین صاحب کو ہی لے لیجیے، ان کے حوالے سے یوٹیوب اور مختلف ویب سائٹس بھری پڑی ہیں کہ ریکھا ان سے شادی کے لیے بے چین تھیں، بس وہ ہی سائیڈ مار گئے۔

اگر آپ ان دنوں سوشل میڈیا پہ موجود وائرل الفاظ میں یہ ہوائی جاننا چاہیں تو کچھ یوں تھی کہ ’ممبئی میں قیام کے دوران مشہور انڈین اداکارہ ریکھا میرے پاس خود چل کر آئیں اور میری اداکاری کی تعریف کی جبکہ وہ یہ بات جانتی تھیں کہ میں شادی شدہ ہوں، پھر بھی انہوں نے بہت ہی تمیز سے میرا پیچھا کیا، لیکن جب میں نے ان کی طرف سے کچھ زیادہ التفات نوٹس کیا، تو آہستہ آہستہ پیچھا چھڑانے ہی میں عافیت سمجھی۔‘

ریکھا اور طلعت حسین نے ساون کمار کی فلم ’سوتن کی بیٹی‘ میں ایک ساتھ کام کیا۔ یہ فلم 1989 میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں طلعت حسین ایڈوکیٹ مہرا کا کردار نبھاتے ہیں۔

اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ریکھا ان کے پاس چل کر گئیں اور اداکاری کی تعریف کی ہو۔ انڈین اداکار یا شوبز سے وابستہ دیگر شخصیات دوسرے فنکاروں کو داد دینے میں ہمیشہ سخاوت کا مظاہرہ کرتی ہیں، اس لیے یہ معمول کی بات ہے۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کچھ ایسا فرمایا تو وہ گپ بازی ہے یا ڈیمینشیا کے اوائل کا شاخسانہ ہو گا۔

ذرا سے التفات کو کچھ اور سمجھنا اور خیالات کی دنیا میں سپنوں کے محل تعمیر کرنا، آپ اسے اداکار کی معصومیت بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی گاؤں سے نیا نیا شہر آئے اور کسی کلاس فیلو لڑکی کے نوٹس مانگ لینے پر بچوں کے نام تک سوچ لے۔

ایسا ہی ایک قصہ استاد سلامت علی خان اور لتا کے حوالے سے اچھالا جاتا ہے۔ استاد سلامت علی خان کے بقول ’ممبئی میں ہمارا معمول ہوتا کہ ہم اکثر لتا بائی کے مہمان بنتے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ہم نے لتا منگیشکر کے ہاں قیام کر رکھا تھا۔ لتا بائی نے اپنی تمام تر مصروفیات کینسل کر دی تھیں۔ درجنوں پروڈیوسر اور میوزک ڈائریکٹر اپنی فلموں کے گانوں کے لیے ڈیٹس لینے ان کے گھر آتے لیکن وہ کسی سے مل نہیں رہی تھیں۔‘

اس افسانے کی اگلی کڑی کے مطابق اس سے فلموں کا بزنس ٹھپ ہو گیا، انڈر ورلڈ نے دھمکیاں دینا شروع کر دیںا، پھر استاد سلامت اور نزاکت علی خان واپس آ گئے۔

دونوں کی شادی نہ ہو سکنے کی سب سے دلدوز وجہ یہ بیان کی گئی کہ اس سے انڈیا پاکستان کی جنگ چھڑ سکتی تھی۔ آپ استاد سلامت کے حوالے سے یہ بات ملاحظہ فرمائیں: ’انہیں ہندو سماج میں ایک دیوی مانا جاتا ہے، ہندوستان سمیت پوری دنیا میں ہندو لتا منگیشکر کو اوتار سمجھتے ہیں، اس لیے لتا سے میری شادی ہونا آسان معاملہ نہیں تھا۔ اس وقت مجھے یوں لگا کہ اگر میں نے لتا سے شادی کر لی تو کم از کم یہ ہو سکتا ہے کہ مجھے اور لتا کو ختم کر دیا جائے اور زیادہ سے زیادہ یہ بھی ممکن تھا کہ پاکستان اور انڈیا میں جنگ ہو جاتی، ایسا ممکن تھا کیونکہ دونوں کے مابین مسائل بھی ہیں اور یہ لڑنے کے بہانے بھی ڈھونڈتے رہتے ہیں۔‘ استاد سلامت کی معصومیت کا جواب نہیں۔

طلعت صاحب نے لندن اکیڈمی آف میوزک اینڈ ڈرامیٹک آرٹ سے تھیٹر آرٹس میں ٹریننگ حاصل کی اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ نجی محفلوں میں گھنٹوں ادب، فلسفے اور آرٹ پر گفتگو کر سکتے تھے۔ لب و لہجہ نستعلیق اور مطالعہ وسیع تھا۔

دوسری طرف استاد سلامت علی خاں عام زبان میں ’چٹے اَن پڑھ‘ تھے۔ معمول کی زندگی میں دونوں مختلف طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ استاد سلامت علی خان جیسا کلاسیکی گوّیا کون ہو گا لیکن زندگی نے انہیں موقع نہیں دیا کہ وہ جدید شہری زندگی کا تمدن سیکھ سکیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر دونوں کی گفتگو کا موضوع اور معصومیت ایک جیسی ہے۔

ایسے مسائل پاکستان کی شوبز انڈسٹری سے جڑے افراد کے ساتھ عام ہیں۔ شاید یہ وہی گپ بازی کلچر ہے جو گلی محلوں میں عام ملتا ہے۔ سر عام ٹی وی پر نہ کہہ سکے تو نجی محفلوں میں اڑا دی۔

کیا یہ ناآسودہ خواہشات کو تھپکی دینے کا بندوبست ہے؟ آپ کی زندگی محبت اور حسن و جمال سے محروم رہ گئی، اس کی کسک پچھلی عمر میں تنگ کرتی ہے تو آپ خود کی طفل تسلی کے لیے کہانیاں گھڑ لیتے ہیں؟ آپ باتوں سے اپنے زخم مندمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟

ابھی پچھلے ہفتے لاہور میں ریڈیو اور ٹی وی کی ایک نامور شخصیت سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے چپکے سے بتایا کہ جب میری شادی ہوئی تو میڈم نور جہاں بھی تشریف فرما تھیں۔ انہوں نے کہا: ’تم پہ تو میں نظر رکھ کر بیٹھی تھی، خیر اب تو یہ ہو گیا، جا تجھے اپنی بہن کی خاطر بخش دیا۔‘ میڈم نے کسی کو بخش دیا؟ مطلب کچھ بھی!

لیکن یہ پاکستان ہے، یہاں کچھ بھی چلتا ہے۔ ریکھا جی طلعت حسین سے شادی کرنا چاہتی تھیں، بیچاری نہ کر سکیں۔ لتا اپنی حسرتیں دل میں لیے اس دنیا سے گزر گئیں، اگر استاد سلامت ان سے شادی کر لیتے تو پاکستان انڈیا میں ایسی جنگ چھڑتی کہ لوگ کوروں اور پانڈووں والی مہا بھارت بھول جاتے۔ ہت تیری کی!

بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

actor talat hussainactor talat hussain deathactor talat hussain passed awaypakistan's veteran actor talat hussain passed awayrekharekha love storyrekha talat hussainrekha talat hussain latest programtala aziz and rekhatalat hussaintalat hussain about rekhatalat hussain actortalat hussain and rekha movietalat hussain deathtalat hussain interviewtalat hussain life storytalat hussain passes awayveteran actor talat hussain passes away
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Inclusion-of-Balochi-Language-in-Google-Translate-Benefits-and-Challenges
Previous

گوگل ٹرانسلیٹ میں بلوچی زبان کی شمولیت: فوائد اور چیلنجز

Five-Free-AI-Courses-with-Certificate-in-2024
Next

2024 میں سرٹیفکیٹ کے ساتھ 5 مفت اے آئی (AI) کورسز

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme