Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Boredom-can-also-have-benefits
کالماہم ترینتازہ ترین

بوریت کے بھی فائدے ہو سکتے ہیں؟

By Akhtar Rasool
فروری 18, 2025 5 Min Read
0

گرمیوں کی لمبی دوپہروں میں جب وقت نہ گزرنے کی شکایت سے تنگ آ کے ہم لوگ پنکھوں والے کمرے چھوڑ، ننگے پاؤں تپتی گلی میں نکل جاتے تھے، تب، اگر کوئی بتاتا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب تمہارے ہاتھ میں ٹی وی، ٹیپ ریکارڈ، وی سی آر، ریڈیو، اخبار، ہزاروں کتابیں اور فلمیں ہوں گی، تب بھی تم اسی طرح بور ہو گے تو میں بالکل یقین نہ کرتا۔

مطلب ایسے ہو کس طرح سکتا ہے؟

25 روپے کی کیسٹ میں 10 گانے آتے تھے، دس روپے تین گھنٹے کی فلم کے بدلے گلانے پڑتے تھے، اخبار اور کتابوں کا خرچہ الگ ۔۔۔ یہ سب مفت ہوں گے، ان کے ساتھ ٹیلیفون بھی ہوگا اور ویڈیو کال بھی ہو سکے گی، پی سی او سے نہیں، اپنے ذاتی فون سے۔

بغیر کسی خرچے کے، اور ساری زندگی میں ان سب چیزوں کا مالک ہوں گا ۔۔۔ اور پھر بھی میں بور ہوں گا؟ یہ تو سوچ کی ہر ایک حد سے باہر کا سوال ہوتا۔

ایک آدمی اتنے سارے وسائل رکھنے کے باوجود کیسے بور ہو سکتا ہے؟

تب دوپہر کو ٹی وی بھی نہیں چلتا تھا بلکہ شام کو مکھی آنا بند ہوتی اور پی ٹی وی کا وہ بِلے کی مونچھوں جیسا لوگو ایک کمال بورنگ میوزک کے ساتھ طلوع ہوتا، کچھ دیر چپکا رہتا اور وقت رینگ رینگ کے آگے بڑھتا، پھر کسی انسان کی شکل نظر آتی، رات آٹھ بجے جا کے ڈھنگ کی چیزیں کچھ دکھاتے اور 12 بجے وہ بھی ختم۔

سُن زندگی تھی، سست، بے آواز، خاموش ۔۔۔ ہول کیسے اٹھتے ہیں خاموشی سے، بوریت سے، اگر آپ نے کبھی وہ دوپہریں گزاری ہوں تو آپ کو سمجھ آئے۔

مطلب کہ بے مقصدیت، بے کاری اور انتہائی سست قسم کا وقت ۔۔۔ یعنی اتنا آہستہ کہ بعض اوقات اگر زبردستی دوپہریں کمروں میں گزارنا پڑتیں تو اپنے دماغ میں، پنکھا چلنے سے جو آوازیں آتی ہیں، ان کے میوزک پہ میں مختلف لفظ بٹھانا شروع کر دیتا تھا۔

چل بے، چل بے، چل، با ۔۔ ہر ۔۔ جا ۔۔۔ چل بے، چل بے، چل ۔۔۔ یہ اس موسیقی سے ایک بندش پیش خدمت تھی۔

ان دوپہروں میں، اس وقت تفریح کی جو معراج ہوا کرتی تھی، یعنی آخری حد کہ جو کوئی بادشاہ بھی افورڈ نہیں کر سکتا ہوگا، مثال کے طور پہ وہی ویڈیو کال، گانوں کی ویڈیوز ۔۔۔ تو آج وہ سبھی کچھ اپنے ہاتھ میں ہے لیکن بوریت استاد جی پھر بھی ہے۔

میں نے بہت سوچا، پھر نیٹ پہ کھوجتا رہا، کُل ملا کے بات سمجھ میں یہ آئی کہ معمول انسان کو بور کرتا ہے، امکانات کا ختم ہو جانا بور کرتا، ہر چیز دسترس میں ہونا بور کرتا ہے بلکہ بعض اوقات حیرت کا امکان ختم ہونا بھی آپ کو بوریت میں ڈال سکتا ہے۔ یعنی اب کوئی آدمی اڑتا ہوا بھی آ کے سامنے کھڑا ہو جائے تو ہم لوگ حیران نہیں ہوں گے، بس ڈھونڈیں گے کہ اس نے انجن کدھر فٹ کیا ہوا ہے۔

قبرستان میں آدھی رات کو اگر کفن اوڑھے لاش آپ کا راستہ روک لے تو یقین کریں آپ ڈرنے کی بجائے اس کی ویڈیو بنائیں گے اور اکیلے نہ ہوئے تو دوسرا بندہ اس کی چادر کھینچنے کی بھی کوشش کرے گا تاکہ پتہ چلے کہ اندر کیا ڈرامہ ہے۔ ہاں ڈریں گے آپ تب، اگر سامنے پستول ہو ۔۔۔ باقی کیا بچا ہے ڈرنے کو؟

یعنی چانسز ختم ہو گئے ہیں ڈرنے کے، حیران ہونے کے، سرپرائز کے ۔۔۔ مجھ سے پوچھیں تو سوائے ایک چیز کے مجھے اب حیرت کبھی نہیں ہو سکتی، صرف ایک کرتب رہ گیا ہے جو سائنس نے اب تک نہیں دکھایا، سالم آدمی کو شعاعوں میں تبدیل کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا۔ یعنی میں ایک مشین کے سامنے بیٹھوں، وہ مجھے روشنی کے ذرات میں تبدیل کرے اور روشنی ہی کی رفتار سے مجھے امریکہ پہنچا دے۔

دوپہر کا کھانا میں اُدھر چھوٹی بہن کے گھر کھاؤں اور شام کو اُن کے وہاں کی مشین مجھے واپس یہاں بھیج دے۔ اس سے شاید مجھے حیرانی کا موقع مل جائے، نیا پن نہ ہونے کی بوریت کم ہو جائے، ورنہ کیا ہے باقی؟

لیکن دوسری طرف اسی بوریت نے مجھے زندگی سے نمٹنا بھی سکھایا ہے۔ دنیا کی بہترین اور بے شمار کتابیں وہی گرم دوپہریں گزارتے ہوئے میں نے پڑھیں، سب سے اچھی تنقیدی رینکنگ والی نیٹ فلکس سیریزیں میں نے اسی بوریت کاٹنے کے چکر میں دیکھیں، سچے لوگوں کے گانے جو دماغ کو سکون دیتے ہیں، وہ بھی اسی بوریت مارنے کو سنے، بے تحاشا سوچا، بے شمار چیزیں لکھیں، کئی شوق پالے، پورے کیے، چھوڑ دیے، اور اس دوران ملے کئی تجربے اور سبق، وہ باندھ کے اُدھر، دماغ کے اوپر والی پرچھتی پہ کہیں رکھ دیے اور بس چلتا گیا۔

آج بیٹھا اور کافی سوچا، دماغ خالی تھا بالکل، بوریت کا مسلسل والا بلیک ہول چل رہا تھا، اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس میں سے فقیر کچھ نکال کے بانٹے نہ؟

تو بس کشکول سے جو نکلا، وہ یہ ہے کہ بوریت ہی آپ کو ہمیشہ کچھ نیا کرنے کی ترغیب دیتی ہے، بوریت ہی میں روٹین توڑ کے آپ کوئی دوسرا کام شروع کرتے ہیں جو بعض اوقات فائدہ مند بھی ثابت ہو جاتا ہے، بوریت ہی بنیادی طور پہ دماغ کو آرام دیتی ہے، بوریت ہی میں زندگی کے مشکل فیصلے آپ پوری توجہ سے کر سکتے ہیں، بوریت ہی میں خود کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور بدترین بوریت میں ہی بہترین تخلیقی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں!

لیکن بوریت میں بہرحال سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ بندہ کم بخت شدید بور ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار کچھ ناپسندیدہ فیصلے بھی ہو جاتے ہیں۔

ان فیصلوں سے بچیں، زندگی کو دھکا دیں، سب کچھ ٹائم پاس ہے، گرمیوں کی وہ دوپہریں اب نہیں آئیں گی، سردیوں کی یہ راتیں بھی جانے والی ہیں ۔۔۔ جو چیز رہنے والی ہے، وہ آپ اور آپ کی بوریت ہے۔

یہ اب سر کے ساتھ ہی جائے گی، خدا خوش رکھے!

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

appreciating boredomappreciating simplicityawareness and mindfulnessbalancing routine and excitementbenefits of boredomboredomboredom-induced creativitybreaking monotonychanging perspectiveschildhood imaginationchildhood memoriesCreative ThinkingCultural Shiftscuriosity and explorationdealing with changedealing with monotonydecision makingdecision-making risksdeeper understandingdigital age paradoxdigital entertainmentdiminishing surprisesEmotional BalanceEmotional ResilienceEmotional Well-Beingendless entertainmententertainment evolutionentertainment overloadescapismexistential questionsHistorical Perspectiveshuman adaptabilityHuman EmotionsHuman Natureimpact of convenienceimpact of digital mediaimpact of expectationsimpact of free timeimpact of instant gratificationimpact of routinesimpact of technologyinspiration from boredominstant access to informationlack of excitementlearning from boredomlearning patiencelife reflectionslife’s unpredictabilityloss of wondermanaging timemedia consumptionmental relaxationmental stimulationmindless consumptionmodern distractionsmodern lifestylemonotony and routinemotivation and boredomnew opportunitiesnostalgia and growthnostalgic experiencesovercoming boredomoverexposure to mediaparadox of choicepast vs presentpersonal anecdotespersonal growthpersonal philosophypersonal reflectionphilosophical insightsProblem Solving Skillsproductivity and idlenesspsychological adaptationpsychological effects of boredomreality vs expectationsredefining happinessredefining productivityrisk-taking behaviorroutine vs adventureseeking noveltyseeking thrillSelf-Awarenessself-improvementself-reflectionshaping thoughtssocial behaviorsocial changesspontaneous actionssummer afternoonstechnology and boredomtime perceptionTV and radiounexpected benefitsunexpected discoveriesunexpected joysunexpected life lessonsunexpected outcomesunintended consequencesunpredictability in lifeunpredictable experiencesvaluing time
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Pakistan-The-helplessness-of-the-farmers-the-indifference-of-the-rulers-and-the-threat-of-wheat-scarcity-knocking-at-the-door
Previous

کسانوں کی بے بسی، حکمرانوں کی بے حسی اور دروازے پر دستک دیتا گندم کی نایابی کا خطرہ!

Palestinian-Fiction-and-short-stories
Next

کیک فروش (فلسطینی ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme