Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Should-patriotism-be-included-in-the-educational-curriculum-or-not
کالماہم ترینتازہ ترین

تعلیمی نصاب میں وطن پرستی کو شامل کرنا چاہیے یا نہیں؟

By Akhtar Rasool
اپریل 2, 2025 4 Min Read
0

موجودہ زمانے میں چاہے نظریاتی ریاستیں ہوں یا جمہوری ریاستیں، دونوں میں نصاب کے ذریعے طالبِ علموں کی مینوفیکچرنگ کی جاتی ہیں۔ اِنہیں علم کا وہ حصّہ پڑھایا جاتا ہے جو ریاست کے مُفاد میں ہو۔ علم کا وہ حُصول جو عالمی معلومات سے متعلق ہو اور جس میں مُختلِف اقوام کی تاریخ اور کلچر ہو، اِس علم کو نصاب سے دُور کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس تعلیمی نِصاب میں قوم پرستی اور وطن پرستی کے جذبات شِدّت کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔

امریکہ کی نصابی کتابوں میں یکطرفہ معلومات دی گئیں ہیں۔ اِس میں یورپ سے آنے والے نوآبادکاروں کی محنت و مُشقت کا ذِکر ہے، مگر غلامی کے ادارے کے بارے میں خاموشی ہے۔ ریڈ انڈین کے قتل عام کا بھی کم ہی ذکر ہے۔ تاثر یہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جیسے امریکہ سفید فام نسل کو تحفے میں مِلا تھا، جسے اُنہوں نے اپنی محنت و لیاقت سے سرسبز و شاداب کیا۔

امریکی مصنف Randall Curran اور Charles Dorn نے اپنی کتاب Patriotic Education in a Global Age میں تعلیم میں وطن پرستی پر زور دیا ہے۔ جبکہ عالمگیریت قوم اور وطن پرستی کے خلاف ہے اور یہ قومی کلچر کے خاتمے کی حامی ہے۔ اس کتاب کے مصنفین کی دلیل یہ ہے کہ وطن پرستی امریکی معاشرے کے لیے ضروری ہے کیونکہ وطن پرستی کے جذبات معاشرے کی اصلاح کریں گے۔ لوگ اس کی محبت میں ذاتی مُفادات کو ختم کر دیں گے اور اس کی بنیاد پر سیاسی، سماجی اور معاشی بحرانوں کا مُقابلہ کریں گے۔

مُصنفین کا خیال ہے کہ وطن پرستی کے جذبات کا ہونا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اس کی وجہ سے لوگوں میں باہمی روابط پنپتے ہیں، معاشرے کو صحتمند رکھنے کے لیے قانون کی پابندی کی جاتی ہے، جرائم اور بدعنوانیوں کو روکا جاتا ہے اور معاشرے کے کلچر کو ترقی دینے کے لیے اَدب، آرٹ، موسیقی تعمیرات اور مجسمہ تراشی میں اضافے کیے جاتے ہیں۔

جب قومی کردار کی تشکیل ہوتی ہے، تو ہر فرد کو اس کا احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے کردار سے قومی تصور کو خراب نہ کرے۔ جو قومیں اپنے قومی کردار کی حامی ہوتی ہیں، انہیں دنیا میں عزت حاصل ہوتی ہے، لہٰذا شہریت کا تعلق وطن سے ہوتا ہے۔ کسی سیاستدان نے کہا تھا کہ جو افراد خود کو عالمی شہری سمجھتے ہیں، وہ کہیں کے بھی شہری نہیں ہوتے اور نہ ہی اُن کی کوئی شناخت ہوتی ہے۔

لیکن وطن پرستی کے دوسرے پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے، کیونکہ حکمراں طبقے وطن پرستی کے جذبات کو استعمال کرتے ہوئے عوام کو اپنے سامراجی عزائم میں شامل کر لیتے ہیں اور یہ کہاوت مشہور ہو جاتی ہے کہ میرا مُلک صحیح ہو یا غلط، وہ میرا مُلک ہے۔۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ اَمرتسر میں جَلیاں والے باغ کا قتل ہو، وطن پرست انگریز اُس کی حمایت کرتے ہیں۔ ویتنام میں مائی لائی کا قتل عام ہو، امریکہ معاشرہ اُس پر احتجاج نہیں کرتا ہے۔

اِس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وطن پرستی معاشرے کے داخلی معاملات میں سماجی اصلاحات کو فروغ دیتی ہے، لیکن یہ کسی تنقید کو برداشت نہیں کرتی ہے، اور اس کے ناقِد غدار ہو جاتے ہیں، لیکن خارجی معاملات میں وطن پرستی کسی اخلاقیات کا خیال نہیں رکھتی اور اپنے مُلک کی مُفادات کی خاطر ہر ظُلم و ستم کو جائز قرار دیتی ہے۔

اِس وجہ سے تعلیمی نصاب میں وطن پرستی کو شامل کرتے ہوئے سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ کس حد تک معاشرے کے لیے مُفید ہے اور کس حد تک اس کو استعمال کر کے ترقی پسند تحریکوں کو روکا جاتا ہے۔ وطن پرستی کا ایک اَلمیہ یہ ہے کہ اس میں تاریخ کو مَسخ کیا جاتا ہے اور مورخوں کی کوشش ہوتی ہے کہ قوم کی غلطیوں اور کمزوریوں کو چھپایا جائے۔ اس کی وجہ سے ایک عرصے تک قومیں اپنی غلطیوں سے واقف نہیں ہوتیں ہیں۔ اس سلسلے میں سینسر شِپ عائد کر دی جاتی ہے اور کتابوں کی اشاعت پر پابندیاں لگا دی جاتیں ہیں، لیکن یہ پابندیاں وطن پرستی کے نام پر قوم کو گمراہ کرتیں ہیں۔ جب حکومتیں وطن پرستی کے نام پر اپنی قوم کو لاعِلم رکھیں گی تو قوم میں کبھی بھی اپنی کمزوری کا احساس نا ہوگا اور نہ ہی اپنی غلطیاں دُور کرنے کی کوئی کوشش ہو گی۔

وطن پرستی کا جذبہ اگر تعلیم کے ذریعے شِدّت کے ساتھ نوجوانوں میں پیدا کر دیا جائے، تو یہ دوسرے تمام نظریات کو رَد کر دیتا ہے اور معاشرے کو محدود دائرے میں اَسیر کر دیتا ہے۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

alternative ideologies rejectionAmerican curriculumAmerican nationalismarchitecture growthart appreciationbiased educationbiased textbooksblind allegiance risksblind loyaltybook bansBritish nationalismcensorshipCharles Dorncitizenship valuesCivic Responsibilitycorruption preventioncrime reductioncritical discoursecritical thinking suppressioncultural developmentcultural suppressioncurriculum ethicsdemocratic statesdistorted national identityeconomic stabilityeducation ethicseducation system impacteducational reformethical double standardsethical governanceexternal ethical neglectfalse historical narrativesfree thought limitationglobal citizenship critiqueglobal knowledge exclusionglobal patriotismgovernment influence on educationgovernment propagandahistorical accountabilityHistorical Awarenesshistorical distortionhistorical truthhistory distortionhistory manipulationidentity crisisideological confinementideological statesimperialist ambitionsindependent thinkinginformed patriotismintellectual confinementintellectual oppressioninternal social reformJallianwala Bagh massacreknowledge censorshiplaw enforcementliterature promotionmanipulated historical perspectivesmanipulated national pridemanipulated patriotismmisinformationmoral awarenessmoral hypocrisymoral responsibilitymusic advancementMy Lai massacrenational character formationnational culture preservationnational ignorancenational unity narrativenationalism dangersnationalism in curriculumnationalism promotionnationalism vs. globalismnationalistic biasNative American genocidepatriotic biasPatriotic educationpatriotism and globalizationpatriotism critiquepatriotism manipulationpatriotism vs. ethicspatriotism’s ethical limitsPolitical Stabilityprogressive movements suppressionpropaganda dangersRandall Curranrevisionist historyruling class exploitationsculpture enhancementselective knowledgeself-interest suppressionsettler colonialismslavery omissionSocial StabilitySocietal Reformstate-controlled educationstate-controlled narrativesTruth Suppressionunquestioned loyalty dangersunquestioned nationalismwhite supremacy narrativeyouth indoctrinationyouth political indoctrination
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
There-is-a-lot-of-Ghibli-art-on-the-internet-What-is-Ghibli-art-and-what-is-its-background
Previous

انٹرنیٹ پر گبلی آرٹ کی بھرمار۔۔ گبلی آرٹ کیا ہے اور اس کا پسِ منظر کیا ہے؟

Mehndi-of-Mehr-Sindh-A-story-of-touches-of-fragrance-and-whispers-of-colors
Next

میہڑ کی مہندی: خوشبو کے لمس اور رنگوں کی سرگوشی کی کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme