
کہتے ہیں کہ کچھ خوشبوئیں یادوں کے دریچے کھول دیتی ہیں۔ کچھ رنگ احساسات کو بیدار کر دیتے ہیں۔ مہندی وہ نازک خوشبو ہے جو خوابوں کی طرح ہتھیلی پر اترتی ہے اور محبت کے رنگ میں رچ بس جاتی ہے۔ اس کی مہک میں ماضی کی گلیاں آباد ہیں، جہاں دادی اماں کے ہاتھوں کی پوروں پر سرخی مائل نشان، ماں کے دوپٹے میں بسی خوشبو، اور بچپن کی عیدوں کے نقوش ثبت ہیں۔
یہ محض ایک پودا نہیں، بلکہ شادیوں، تہواروں اور خوشیوں کی صدیوں پر محیط ایک داستان ہے۔ یہ ایک ایسا لمس ہے جو ہاتھوں کو چوم کر انہیں نرم حنائی رنگت عطا کرتا ہے۔ ہتھیلی پر بنی باریک لکیریں، انگلیوں کی پوروں پر سجے پھول، اور کلائی پر جھلملاتا سرخ رنگ، یہ سب مہندی کے سچے لمس کی کہانی کہتے ہیں۔
جب کوئی لڑکی بیاہی جاتی ہے، تو مہندی اس کی خوشیوں کی ساتھی بن کر ساتھ چلتی ہے۔ دلہن کے ہاتھوں میں گہری رنگت مہندی کی سچائی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ رسموں میں، دعاؤں میں، گیتوں میں، ہر جگہ مہندی کی خوشبو رچی بسی رہتی ہے۔
مہندی کے ساتھ کئی روایات اور توہمات بھی وابستہ ہیں۔ ہندوستان میں یہ مانا جاتا ہے کہ اگر دلہن کے ہاتھ پر مہندی کا رنگ گہرا ہو تو اس کا ازدواجی رشتہ زیادہ خوشگوار ہوگا اور وہ اپنی ساس کے قریب ہوگی۔ کچھ ثقافتوں میں اسے دلہن اور دولہا کے درمیان محبت کی گہرائی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ مہندی کے کئی روایتی ڈیزائن خوشحالی، محبت، وفاداری، زرخیزی اور خوش قسمتی کے خفیہ نشانات سمجھے جاتے ہیں۔
لڑکیوں اور خواتین کے لئے عید کا پر مسرت موقع بھی مہندی کے بغیر ادھورا ہی رہتا ہے۔ جو اسے ہاتھوں، پیروں اور بالوں میں لگا کر ناصرف اس کے رنگ و خوشبو سے محظوظ ہوتی ہیں بلکہ اس کی ٹھنڈک کا بھی ایک اپنا احساس ہوتا ہے۔
یہ زمین سے جُڑی ایک روایت ہے، جو ہاتھوں میں رنگ بن کر سجی، دلوں میں خوشبو بن کر بسی، اور وقت کے ساتھ ساتھ نت نئے انداز میں نکھرتی گئی۔ آج بھی جب ہاتھوں پر مہندی لگتی ہے، تو ایک بے نام خوشی دل کے نہاں خانوں میں جاگ اٹھتی ہے۔
یہ کہانی ہے سندھ کے ضلع دادو کے شہر ’میہڑ‘ کی مہندی کی، جو دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔ اس کی خوشبو، رنگت اور معیار نے سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر اسے دنیا بھر میں مقبول بنا دیا ہے۔ چاہے دبئی کی گلیاں ہوں، لندن کے بیوٹی اسٹوڈیوز، نیویارک کی شادیاں یا دہلی کے روایتی بازار، ہر جگہ ’میہڑ‘ کی مہندی کی مانگ ہے۔
میہڑ سے تعلق رکھنے والے صحافی ریاض سومرو کے مطابق یہ شہر 1848 میں ایک ہندو خاتون ’میہڑ‘ کے نام پر آباد کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں مہندی کا پہلا پودا تقریباً ایک صدی بعد لگایا گیا، مگر پھر یہ ایسا بار آور ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ’میہڑ‘ مہندی کی دنیا کا ایک بڑا نام بن گیا۔
کہا جاتا ہے کہ میہڑ کی مہندی کا بیج قیامِ پاکستان کے بعد بھارت کے علاقے فریدآباد سے لایا گیا تھا اور لوگوں نے یہاں اپنی زمین میں اس کی کاشت کی اور قدرت نے مہربان ہو کر اس بیج کو شہرتِ دوام بخشی اور آج دنیا بھر میں میہڑ کی مہندی کی دھوم ہے۔
’سپنا مہندی‘ کے نام سے مشہور فیکٹری کے مالک عبدالجبار، جن کے گھرانے نے مہندی کو صرف ایک پودے سے بڑھا کر ایک عالمی پہچان بنانے میں اہم کردار ادا کیا، کے بقول، 1948 میں بٹوارے کے بعد ان کے چچا کو میہڑ میں کسی نے مہندی کا پودا لا کر دیا اور مہندی کے بارے میں بتایا۔ یوں انہوں نے میہڑ کی زمین میں پہلی بار مہندی کا پودا لگایا۔
لیکن کچھ لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قیام سے پہلے بھی میہڑ میں مہندی کی فصل ہوتی تھی، جو آج بھی جاری ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی میہڑ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہزاروں ایکڑ زمین پر مہندی کاشت کی جاتی تھی۔ تقسیم سے قبل میہڑ کے ہندو زمیندار مہندی کی کاشت کرتے تھے، جبکہ مہندی کی دکانیں بھی زیادہ تر ہندو تاجروں اور دکانداروں کی ملکیت تھیں۔
مہندی دراصل ایک پودے کی پتیوں کو پیس کر حاصل ہونے والا پاؤڈر ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس پودے کا سب سے قدیم استعمال تقریباً 9000 سال قبل مصر کے فرعونوں کے زمانے میں ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم مصری تہذیب کی آخری حکمران ملکہ کلیوپٹرا مہندی سے اپنے جسم کو آراستہ کرتی تھی۔ مصری لوگ ممیوں کے ناخنوں پر بھی مہندی لگا کر انہیں دفن کرتے تھے۔
مغربی دنیا میں مہندی کو Henna Tattoos کے نام سے جانا جاتا ہے، اور بعض اوقات خواتین اپنے حاملہ پیٹ پر مہندی کے خوبصورت نقش و نگار بنواتی ہیں یا کیموتھراپی کے دوران سر پر مہندی لگواتی ہیں۔
کہتے ہیں کہ مہندی کا اصل مسکن شمالی افریقہ تھا، مگر یہ خوشبو دار پودا صدیوں کے سفر میں کئی سرزمینوں کی مٹی میں رچ بس گیا۔ آج دنیا کے مختلف خطوں میں مہندی کاشت کی جاتی ہے، لیکن اگر خالص رنگ، منفرد خوشبو اور دیرپا نقوش کی بات ہو، تو سندھ کے ضلع دادو کے شہر میہڑ کی مہندی کا کوئی ثانی نہیں۔
یہاں کے زرخیز کھیتوں میں اگنے والی مہندی نہ صرف مقامی روایت کا حصہ ہے، بلکہ اپنی اعلیٰ کوالٹی کے باعث سرحدوں کو پار کرتی ہوئی بھارت، ایران، مصر اور خلیجی ممالک سے لے کر یورپ اور شمالی امریکا تک پہنچ چکی ہے۔ یہ صرف ایک پودا نہیں، بلکہ صدیوں کی ثقافت اور فطرت کا ایسا تحفہ ہے، جو ہر ہاتھ پر ایک نئی کہانی لکھ دیتا ہے۔
صحافی ریاض سومرو کے بقول، ’میہڑ‘ کی مہندی صرف رنگ ہی نہیں چھوڑتی، بلکہ اس کی خوشبو بھی یادوں کی طرح دیرپا ہوتی ہے، ایسی مٹی کی مہک میں بسی ہوئی کہ جو ایک بار لگا لے، وہ کئی دن تک اس کی خوشبو اور گہرے لال رنگ کے سحر میں گرفتار رہتا ہے۔
یہ مہندی خالص اور کیمیکل فری ہوتی ہے، مگر عبدالجبار کے مطابق، بعض بیوپاری اس کے وزن میں ہیرا پھیری کر جاتے ہیں۔ جب مہندی کے پتوں کو پیسا جاتا ہے، تو اس میں نیم، ٹالہی یا شیشم کے پتے بھی ملا دیے جاتے ہیں، جس سے مقدار تو بڑھ جاتی ہے، مگر اصل مہندی کی خالص خوشبو اور رنگت کمزور پڑ جاتی ہے۔
عام طور پر، مہندی کا گہرا رنگ زیادہ پسند کیا جاتا ہے کیونکہ یہ نقش و نگار کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ کمپنیاں اس کا رنگ گہرا کرنے کے لیے پی-فینائلین ڈائیامین (PPD) نامی خطرناک کیمیکل شامل کرتی ہیں، جو الرجی پیدا کر سکتا ہے۔ 2006 میں، امریکی ڈرمیٹالوجی ایسوسی ایشن نے اسے سال کا سب سے زیادہ الرجی پیدا کرنے والا کیمیکل قرار دیا تھا، کیونکہ یہ جِلد پر شدید الرجک ردعمل یا چھالے پیدا کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ کیمیکل سے پاک مہندی کے کسی بھی قسم کے مضر اثرات نہیں ہیں۔
میہڑ کی مہندی کے پیکٹ بازار میں پاؤ، آدھا یا ایک کلو کے وزن میں عام دستیاب ہوتے ہیں۔ اس منفرد پودے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سال میں دو بار فصل دیتا ہے، گرمیوں میں فی ایکڑ تقریباً 30 من پیداوار جبکہ سردیوں میں یہ مقدار دُگنی ہو جاتی ہے۔
سب سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اس کی ہر فصل کے لیے نیا بیج بونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک ہی پودا کئی سالوں تک مسلسل مہندی اگاتا رہتا ہے، جیسے زمین کا کوئی انمول تحفہ، جو اپنی خوشبو اور رنگت سے زمین کی محبت کا اظہار کرتا ہے۔
مہندی، جسے حنا بھی کہا جاتا ہے، محض ایک پودا نہیں، بلکہ رنگ، خوشبو، اور ثقافت کا ایسا امتزاج ہے جو ہاتھوں پر حسین نقوش چھوڑتا ہے اور یادوں میں بسی خوشبو کی صورت باقی رہتا ہے۔ یہ جھاڑی نما درخت اپنی سخت اور نازک شاخوں کے ساتھ، نوکیلے سرخ پتوں اور خوشبودار سفید پھولوں کا مسکن ہوتا ہے، جو وقت کے ساتھ چھوٹے سیاہ پھلوں میں بدل جاتے ہیں۔
میہڑ کی سرزمین پر مہندی کی کاشت ایک فن کی طرح پروان چڑھی ہے۔ مخصوص بیجوں سے اگنے والے یہ پودے کڑی محنت کے بعد اپنے سبز خزانوں سمیت کارخانوں تک پہنچتے ہیں، جہاں مزدوروں کے ہاتھوں ان کے پتے باریک پسے جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ رنگ کو مزید گہرا اور دلکش بنانے کے لیے کیمیکل اور دیگر اجزا شامل کیے جانے لگے ہیں، لیکن اصل مہندی کی سادگی اور خالص خوشبو آج بھی اپنی پہچان برقرار رکھے ہوئے ہے۔
مہندی کا ٹھنڈک پہنچانے، رنگنے اور زخموں کا مرہم بننے کا سفر
مہندی کا استعمال برصغیر، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں ہزاروں سالوں سے رائج ہے۔ ابتدا میں اسے گرم صحرائی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے قدرتی ٹھنڈک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ مہندی کا ایک گاڑھا پیسٹ بنایا جاتا، جس میں ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور پاؤں کے تلوے ڈبوئے جاتے تھے۔ اسے طبی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا اور جلد پر لگایا جاتا تھا تاکہ پیٹ درد، جلن، سر درد اور کھلے زخم جیسے مسائل کا علاج کیا جا سکے۔
جب یہ دریافت ہوا کہ مہندی کا پیسٹ جلد پر عارضی داغ چھوڑتا ہے، اس پودے میں لاؤزون نامی ایک سرخی مائل نارنجی رنگ موجود ہوتا ہے جو جلد میں موجود کیراٹین سے جُڑ جاتا ہے، تو اس کا استعمال آرائشی مقاصد کے لیے بھی ہونے لگا، کیونکہ یہ ہر سماجی طبقے کے لوگوں کے لیے بآسانی دستیاب تھا۔
پہلے زمانے میں مہندی کے پتے پتھروں کی چکیوں پر پیسے جاتے تھے، مگر اب یہ چینی ’پن‘ والی جدید چکیوں پر پسائی کے عمل سے گزرتی ہے۔ مگر میہڑ کی مہندی محض سنگھار کا ذریعہ نہیں، یہ زخموں کا مرہم بھی ہے۔
ریاض سومرو اور عبدالجبار نے اس روایت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ میہڑ کی مہندی نہ صرف اپنے رنگ و خوشبو میں منفرد ہے بلکہ یہ گہرے زخموں اور پرانے ناسوروں کو بھرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
مصنفہ عروج جعفری اس حوالے سے اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں، ”یہ بات میں نے کئی سال پہلے کراچی کے ساحلی علاقے ’ریڑھی گوٹھ‘ میں محسوس کی، جہاں جھینگے چھیلنے والی خواتین کی زخمی انگلیاں دیکھ کر دل کٹ سا گیا تھا، مگر ایک کم سن لڑکی نے بڑے سکون سے کہا، ’ہم ان زخموں پر مہندی کا لیپ لگا لیتے ہیں۔“
قدرتی ٹھنڈک کا ذریعہ
گرمیوں میں شدید دھوپ اور لو سے بچاؤ کے لیے مہندی استعمال کی جاتی تھی۔ ابتدا میں لوگ ہاتھوں اور پیروں کو مہندی کے پیسٹ میں بھگو کر جسم کا درجہ حرارت کم رکھتے تھے، پھر آہستہ آہستہ مہندی کے نقش و نگار بنانے کا رجحان شروع ہوا۔ پہلے چھوٹی لکڑیوں یا تنکوں کی مدد سے ڈیزائن بنائے جاتے تھے۔
ریاض سومرو کا کہنا ہے کہ اگر کوئی آگ سے جل جائے تو سب سے پہلے جلی ہوئی جگہ پر میہڑ کی مہندی لگائی جاتی ہے۔ اس کا فوری اثر یہ ہوتا ہے کہ جلن رک جاتی ہے، متاثرہ حصہ سن ہو جاتا ہے، اور حیرت انگیز طور پر زخم جلدی مندمل ہونے لگتا ہے۔ ان کے بقول، ”یہ شفا پورے سندھ میں صرف میہڑ کی مہندی میں ہی پائی جاتی ہے!“
مہندی کو رنگ ورم اور ایتھلیٹ فٹ جیسی جلدی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ ٹوٹتے یا پھٹتے ناخنوں کے علاج کے لیے بھی مہندی کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مہندی کے پودے کی چھال بعض امراض، خاص طور پر یرقان کے علاج میں بھی مؤثر سمجھی جاتی ہے۔
کئی خواتین مہندی کو نیل پالش کے متبادل کے طور پر استعمال کرتی ہیں، کیونکہ اس کے لیے نیل پالش ریموور کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جبکہ مہندی کے مسلسل استعمال سے بال نرم اور مضبوط ہوتے ہیں، انہیں چمکدار بناتی ہے اور بالوں کے گرنے کو روکتی ہے۔ اس کے علاوہ، مہندی سر کی پی-ایچ سطح کو متوازن رکھتی ہے، جس سے خشکی، سکری اور بالوں کے قبل از وقت سفید ہونے سے نجات ملتی ہے۔
میہڑ کی مہندی اب مرجھا رہی ہے۔۔
کبھی ایسا تھا کہ میہڑ شہر کے چاروں طرف مہندی کے باغات ہی باغات ہوا کرتے تھے، گویا ہر گھر کا آنگن اس خوشبو سے مہکتا تھا، مگر وقت بدلا، نقل مکانی بڑھی، اور زمینوں کی قیمتیں سونے کے بھاؤ پہنچ گئیں، نتیجتاً یہ سبزہ زار دور دراز کھیتوں تک محدود ہو کر رہ گئے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں سے حکومتی بے توجہی، مناسب سہولیات کی عدم دستیابی، زمین میں سیم و تھور کی زیادتی اور فصل کا مناسب معاوضہ نہ ملنے کے باعث میہڑ کے علاقے میں ہر سال مہندی کی پیداوار میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ مہندی کی کاشت کرنے والے کسانوں کے مطابق گزشتہ سیلاب میں دھان کی فصل کے ساتھ مہندی کی کاشت بھی شدید متاثر ہوئی، لیکن حکومت نے مہندی کے کاشتکاروں کے لیے کسی بھی قسم کے مالی پیکیج کا اعلان نہیں کیا۔ منتخب نمائندوں نے بھی مہندی کی فصل کی اہمیت کو نظرانداز کر دیا۔
تاجروں کو مہندی بیرون ملک برآمد اور درآمد کرنے کے لیے لائسنس بھی دستیاب نہیں۔ متعدد کوششوں کے باوجود کسی بھی تاجر کو ایکسپورٹ اور امپورٹ کا لائسنس نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے تاجر مجبوراً مہندی کراچی اور دیگر شہروں کے تاجروں کو کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
سندھ میں مہندی کو کپاس کے بعد ایک اہم فصل سمجھا جاتا ہے، مگر افسوس، حکومتی توجہ اس پر نہ ہونے کے برابر ہے۔ نہ سبسڈی دی جاتی ہے، نہ بجلی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، اور نہ ہی کاشتکاروں کو کوئی خاص وسائل مہیا کیے جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ یہ سرزمین اپنی خوشبو سے دنیا کو مہکا تو سکتی ہے، مگر خود کسی کی سرپرستی سے محروم رہتی ہے۔
عبدالجبار کا کہنا تھا کہ حکومت کی عدم توجہی نے میہڑ کی مہندی کو وہ مقام نہ دلایا، جس کی یہ مستحق تھی۔ ”1952 سے آج تک نہ ایکسپورٹ لائسنس ملا، نہ وسائل۔“
یہاں کی مہندی پیس کر کراچی بھیج دی جاتی ہے، جہاں بیوپاری اسے بیرونِ ملک ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ افسوس کہ میہڑ میں کوئی مقامی ایکسپورٹر نہیں جو اس زمین کے خالص تحفے کو براہِ راست دنیا تک پہنچا سکے۔
کاروبار کے مسائل اپنی جگہ، مگر اس مہندی کی خوشبو میہڑ کی گلیوں میں رچ بس چکی ہے۔ یہاں کے تقریباً 150 بیوٹی پارلر اسی مہندی سے خواتین کے ہاتھ سجاتے ہیں اور بالوں کو رنگتے ہیں۔ اس مہندی کی خاص بات اس کا قدرتی سرخی مائل رنگ ہے، جو کسی بھی کیمیکل کے بغیر گہرے نقوش چھوڑتا ہے۔
میہڑ کی مہندی کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ اسے سال میں دو مرتبہ کاٹا جاتا ہے، خشک کیا جاتا ہے اور پھر مشینوں میں پیس کر بازار کی زینت بنایا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہاں مہندی کے پندرہ کارخانے تھے، مگر وقت کی گرد نے ان میں سے بیشتر کو مٹا دیا، اب صرف چار کارخانے اور چند درجن دکانیں باقی ہیں۔ تاہم، آج بھی کچھ نوجوان روایتی انداز میں ریلوے اسٹیشن اور سپر ہائی وے پر مہندی کے تھیلے ہاتھوں میں اٹھائے اپنی خاندانی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
آج پانی کی قلت اور حکومتی عدم توجہی نے مہندی کے آبادگاروں کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے، جبکہ مارکیٹ میں بھی اس کی وہ قیمت نہیں مل رہی جو دیگر فصلوں کو حاصل ہوتی ہے۔ اس کے باوجود میہڑ کی مہندی اپنی افادیت اور مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اگر اس فصل کو حکومتی سرپرستی مل جائے تو نہ صرف کسانوں کی خوشحالی بڑھ سکتی ہے بلکہ کارخانوں میں روزگار کے مواقع پیدا کر کے بےروزگاری کا بھی خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ صرف ایک پودا نہیں، بلکہ میہڑ کے مٹی کی خوشبو میں رچی بسی ایک ایسی میراث ہے، جسے سنوارنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ روایت یوں ہی سرخ رنگ کے لمس کے ساتھ آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتی رہے۔