Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

international-day-of action-for-river
اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

دریاؤں کے لیے جدوجہد کے بین الاقوامی دن کے حوالے سے آگاہی پروگرام

By Akhtar Rasool
مارچ 14, 2026 2 Min Read
0

آج 14 مارچ کو ’’دریاؤں کے لیے جدوجہد کے بین الاقوامی دن‘‘ (International Day of Action for Rivers) کے موقع پر سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (گڈاپ شاخ) اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کی جانب سے کونکر لائبریری میں ایک خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور انہیں درپیش خطرات کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنا تھا۔

پروگرام میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دانشوروں، ادیبوں اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری، ڈاکٹر رخمان گل پالاری، حفیظ بلوچ، ایڈووکیٹ کاظم مہسر اور راشد واڈھیلو شامل تھے۔

پروگرام کے مہمانِ خصوصی، معروف محقق اور دانشور ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ دریاؤں کے لیے عمل کا یہ بین الاقوامی دن محض بیٹھ کر ماتم کرنے یا اپنے وسائل کی تباہی پر افسوس کرنے کے لیے نہیں، بلکہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی کی غلطیوں پر آنسو بہانے کے بجائے ہمیں اپنے دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی گزرگاہوں کو بچانے کے لیے عملی جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف باتوں سے ماحولیاتی تباہی نہیں رکے گی بلکہ ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عملی میدان میں آنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور سرسبز سندھ دیا جا سکے۔

مقررین نے سندھ کی تہذیب میں دریاؤں اور ندی نالوں کی تاریخی و ثقافتی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے گڈاپ اور اطراف کے علاقوں میں ندی نالوں پر قبضوں، ریت کی غیر قانونی کھدائی اور ماحولیاتی بگاڑ پر تشویش کا اظہار کیا اور آبی وسائل کے تحفظ کے لیے موجود قوانین پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

مقررین نے مقامی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے آگے آئیں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ دریاؤں اور ندی نالوں کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ بننے والی غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کیا جائے اور ایسے پروگراموں کو صرف دن منانے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی باقاعدہ آگاہی مہم چلائی جائے۔

یہ پروگرام گڈاپ کے علاقے میں ماحولیاتی شعور کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، جہاں مقامی افراد اور معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے اپنے وسائل سے محبت کا اظہار کیا۔

Tags:

Advocate Kazim Mahesarawareness programBiodiversityCivic EngagementClimate changecollective responsibilitycommunity programcultural heritageDr Kaleemullah LashariDr Rukhman Gul Palarieco awarenesseco friendly activitieseco policiesEcologyEcosystem Protectioneducational awarenessencroachment on streamsenvironmental awarenessenvironmental campaignenvironmental challengesenvironmental consciousnessenvironmental degradationEnvironmental Destructionenvironmental educationenvironmental protectionenvironmental threatsfuture generationsFUTURE OF SINDHGadap areaGadap branchgreen environmentgreen initiativesgreen SindhHafeez Balochhistorical significanceillegal constructionsillegal excavationillegal sand miningimportance of riversindividual responsibilityintellectualsInternational Day of Action for Riverskeynote speakerKonkar Librarylaw enforcementlocal communitylocal issueslocal leadershipNatural BalanceNatural Beautynatural drainagenatural ecosystemnatural flow of riversNatural Heritagenatural resource depletionnatural water channelsnatural waterwaysnature conservationpractical strugglepublic awarenessPublic interestpublic mobilizationpublic participationpublic servicerainwater channelsRashid WadheeloResearch Scholarriver and cultureriver protectionriver restorationriver survivalRivers Daysafe futureSand and Gravel Miningsave rivers movementsindh cultureSindh EnvironmentSindh Graduates AssociationSindh HeritageSindh Indigenous Rights AllianceSindh riverssocial leaderssocial organizationssocial responsibilitysocial unitySoil fertilitystreams and waterwaysSustainable Developmentwater conservationWater Crisiswater flowwater importancewater is lifeWater PollutionWater Resourceswater scarcitywater systemwelfare activitieswriters
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
environmental-disaster-karachi
Previous

خوف، مزاحمت اور دیواروں میں قید گواہی

malir-agriculture-heritage-civilization-Malir-Expressway-education-city
Next

ملیر: زرعی زمینیں اور ثقافتی ورثہ خطرے میں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme