
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سفارتی سرگرمیوں میں اچانک تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا مجوزہ دورۂ پاکستان منسوخ کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب موجودہ جنگ بندی اپنی معیاد مکمل کرنے کے قریب تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے باضابطہ اور "متفقہ تجویز” کے منتظر ہیں، جس کے بعد مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچایا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں فوجی اور سفارتی دباؤ اپنی شدت پر ہے اور پاکستان ثالثی کے کردار میں سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔
آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران نے چند روز قبل بالواسطہ رابطہ کر کے عندیہ دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا خواہش مند ہے۔ امریکی صدر کے مطابق ایران روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں ڈالر کی ممکنہ آمدنی کے پیش نظر اس آبی گزرگاہ کو فعال رکھنا چاہتا ہے۔
تاہم امریکہ نے واضح کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں اور اہم بحری راستوں پر عائد پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اقتصادی دباؤ تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ضروری ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس علاقے میں کشیدگی عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
ایران کا ردعمل: ناکہ بندی جنگ کے مترادف قرار
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرنا جنگ کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف جنگ بندی کی روح کے خلاف ہے بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، مذاکرات کو بامعنی نہیں سمجھا جا سکتا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ دباؤ کی پالیسی کے تحت بات چیت ممکن نہیں۔
خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کی وارننگ
ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈ مرکز خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے بھی سخت بیان جاری کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایرانی مسلح افواج مکمل طور پر متحرک ہیں اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن ردعمل دیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ اہداف پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں اور افواج مکمل تیاری کی حالت میں ہیں۔ اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سنجیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کی وضاحت اور نئی پابندیوں کی دھمکی
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی ایرانی معیشت پر دباؤ کی حکمت عملی کی وضاحت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی سمندری تجارت اور تیل برآمدات کو محدود کر کے حکومت کے بنیادی مالی وسائل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک یا کمپنی خفیہ طور پر ایران کے ساتھ تجارت کر کے امریکی پابندیوں کو نظرانداز کرے گی، اس کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
امریکی حکام کے مطابق اقتصادی دباؤ کا مقصد ایران کو ایسے معاہدے پر آمادہ کرنا ہے جو خطے میں طویل المدتی استحکام کا باعث بن سکے۔
ایرانی پارلیمان کا سخت مؤقف
ایران کی پارلیمنٹ کے رکن محمود نبویان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات غیر معقول اور نقصان دہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یکطرفہ دباؤ اور پابندیوں کے ماحول میں بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔
یاد رہے کہ وہ پہلے دور کے مذاکرات میں ایرانی وفد کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کے اندر بھی مذاکرات کے حوالے سے رائے منقسم ہو سکتی ہے۔
پاکستان کا کردار اور جے ڈی وینس کا منسوخ شدہ دورہ
وائٹ ہاؤس کی تصدیق کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کا مجوزہ دورۂ اسلام آباد فی الحال منسوخ کر دیا گیا ہے۔ وہ اس ماہ دوسری مرتبہ پاکستان آنے والے تھے اور امن مذاکرات کے اگلے مرحلے پر تبادلہ خیال متوقع تھا۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق اسلام آباد دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے ایران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ تاہم اب تک باضابطہ تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
سفارتی تعطل اور ممکنہ منظرنامہ
صدر ٹرمپ کے اعلان سے فوری طور پر جنگ کے دوبارہ بھڑکنے کا خطرہ ٹل گیا ہے، لیکن بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں۔
ایران کا مطالبہ ہے کہ بحری ناکہ بندی ختم کی جائے، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ پہلے ایران کو قابل قبول تجویز پیش کرنی ہو گی۔ اس اختلاف نے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں فریق لچک کا مظاہرہ نہ کریں تو خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورت حال عالمی منڈیوں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
عالمی اور علاقائی اثرات
خلیجی خطہ پہلے ہی کئی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان کا ثالثی کردار اسے سفارتی طور پر اہم پوزیشن میں لے آیا ہے، تاہم اس کے لیے توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج ہو گا۔
اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ خطے میں ایک نئے سفارتی باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر پابندیوں، معاشی دباؤ اور عسکری بیانات کا سلسلہ مزید کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔
امریکی نائب صدر کے دورۂ پاکستان کی منسوخی، جنگ بندی میں غیر معینہ توسیع، اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا برقرار رہنا اس بات کی علامت ہے کہ بحران ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔
فی الحال فریقین براہ راست تصادم سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں، مگر اعتماد کی کمی اور سخت مؤقف مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ایران کی جانب سے کسی باضابطہ تجویز اور اس پر امریکی ردعمل سے صورتحال کی سمت کا تعین ہو گا۔
خطے اور عالمی برادری کی نظریں اب اسلام آباد پر بھی مرکوز ہیں، جہاں ممکنہ طور پر اس سفارتی بحران کا اگلا مرحلہ طے پا سکتا ہے۔
-
ایران کو امریکہ سے مذاکرات پر شکوک، روس اور چین کا محتاط مؤقف
-
خلیجِ عمان میں کشیدگی: ایرانی کارگو جہاز کی تحویل پر تہران اور واشنگٹن آمنے سامنے




