ٹرمپ کی ’پراجیکٹ فریڈم‘ معطلی، تہران۔بیجنگ رابطے اور خلیج میں بڑھتی بے چینی

سنگت ڈیسک

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی، سمندری جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں، اور بڑے عالمی کھلاڑیوں کی سفارتی سرگرمیاں ایک ایسے موڑ کی نشاندہی کر رہی ہیں جہاں جنگ اور مذاکرات ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔

امریکی صدر (Donald Trump) ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی جانب پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں شروع کیا گیا امریکی مشن ’پراجیکٹ فریڈم‘ وقتی طور پر روک دیا گیا ہے۔ یہ آپریشن اُن تجارتی جہازوں کی رہنمائی کے لیے شروع کیا گیا تھا جو کشیدگی کے باعث خطرے میں گھرے ہوئے تھے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (Truth Social) ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ باہمی مشاورت اور پاکستان سمیت چند دیگر ممالک کی درخواست پر کیا گیا، جو حالیہ بحران میں سفارتی کردار ادا کر رہے تھے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی دباؤ اور پابندیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

عسکری مرحلے کا اختتام یا نئی حکمتِ عملی؟

واشنگٹن میں بریفنگ دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ (Marco Rubio) مارکو روبیو  نے کہا کہ ایران کے خلاف مشترکہ امریکی۔اسرائیلی کارروائی، جسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا گیا تھا، اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد مکمل ہو چکی ہے۔

روبیو کے مطابق امریکہ کی موجودہ سرگرمیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور مقصد صرف عالمی جہاز رانی کا تحفظ ہے۔ انہوں نے تہران کو خبردار کیا کہ اگر امریکی جہازوں پر حملہ ہوا تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب وقت ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور ایک ایسے راستے کا انتخاب کرے جو خطے میں استحکام اور معاشی بحالی کی طرف لے جائے۔

تہران کا مؤقف: ’پسپائی امریکہ کی‘

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے امریکی اقدام کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ تہران کے نزدیک آپریشن کی معطلی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ عالمی دباؤ اور عملی مشکلات کے باعث اپنی پوزیشن نرم کرنے پر مجبور ہوا ہے۔

ادھر ایران نے متحدہ عرب امارات پر حملوں کے الزامات کی تردید کی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایرانی افواج نے امارات کے خلاف کسی میزائل یا ڈرون کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ اگر ایران کے خلاف کسی قسم کی کارروائی ہوئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

بیجنگ میں اہم سفارتی رابطہ

بحران کے اسی ماحول میں ایرانی وزیر خارجہ (Abbas Araghchi) عباس عراقچی بیجنگ پہنچے، جہاں ان کی ملاقات چینی وزیر خارجہ (Wang Yi) وانگ یی سے ہوئی۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (Xinhua News Agency) شنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے تعلقات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بیجنگ اس بحران میں کھلے عام کسی فریق کی حمایت سے گریز کرتے ہوئے استحکام کی کوشش کر رہا ہے، تاہم وہ اپنے معاشی مفادات کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔

خلیج میں جہازوں پر حملوں کی اطلاعات

خلیج فارس میں حالیہ دنوں میں متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی کے قریب ایک مال بردار جہاز کو ممکنہ طور پر میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس سے عملے کے چند افراد زخمی ہوئے۔

برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے بھی خطے میں مشکوک سرگرمیوں کی تصدیق کی ہے، جن میں آتشزدگی اور حملوں کی اطلاعات شامل ہیں۔ ان واقعات نے عالمی شپنگ کمپنیوں اور انشورنس اداروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہاں معمولی رکاوٹ بھی عالمی منڈیوں میں قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ہیں، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری کے خلاف دباؤ قرار دیتا ہے۔ اس تناظر میں سفارت کاری، عسکری طاقت اور معاشی مفادات ایک پیچیدہ توازن میں بندھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

فی الحال صورتحال ایک نازک مگر فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ ایک طرف واشنگٹن عسکری دباؤ برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کی بات کر رہا ہے، دوسری طرف تہران چین جیسے اتحادیوں سے روابط مضبوط کر رہا ہے۔

اگر ’پراجیکٹ فریڈم‘ کی معطلی واقعی کسی وسیع معاہدے کا پیش خیمہ بنتی ہے تو یہ خطے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر، آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی کشیدگی کا مرکز بن سکتی ہے , اور اس کے اثرات خلیج سے کہیں آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔

______________________

قشم و بندرعباس دھماکے: آبنائے ہرمز میں ایران۔امریکہ تناؤ میں اضافہ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button