سپر ایل نینو: ایک گرم ہوتی دنیا اور پاکستان کا غیر یقینی مستقبل

ویب ڈیسک

رات کے دو بج رہے ہیں۔ کراچی کی فضا میں نمی اتنی زیادہ ہے کہ سانس لینا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں بجلی بند ہے۔ کہیں دور سمندر کی سمت سے آنے والی ہوا بھی گرم ہے، جیسے کسی بھٹی کے دہانے سے نکل رہی ہو۔ اسی لمحے ہزاروں کلومیٹر دور بحرالکاہل کے وسط میں، پانی کی سطح کے نیچے ایک خاموش تبدیلی جنم لے رہی ہے۔ ایسی تبدیلی جو شاید آنے والے برسوں میں دنیا کی سیاست، معیشت، خوراک، بارشوں، قحط، جنگلات، گلیشیئرز اور انسانی زندگی کے نقشے بدل دے۔

سائنس دان اسے ”ایل نینو“ کہتے ہیں۔ اور اگر موجودہ اندازے درست ثابت ہوئے، تو دنیا ایک ”سپر ایل نینو“ کے دہانے پر کھڑی ہو سکتی ہے۔

یہ صرف ایک موسمی واقعہ نہیں۔ یہ زمین کے موسمیاتی نظام کے دل میں اٹھنے والی وہ دھڑکن ہے جس کی گونج ایمیزون کے جنگلات سے لے کر سندھ کے کھیتوں تک سنی جا سکتی ہے۔

 ایک سمندر جو دنیا کے موسم پر اثر انداز ہوتا ہے

بحرالکاہل دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے۔ زمین کے تقریباً ایک تہائی حصے پر پھیلا یہ سمندر محض پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ دنیا کے موسموں کا سب سے بڑا ”انجن“ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پانی کا درجہ حرارت طے کرتا ہے کہ کہاں بارش ہوگی، کہاں خشک سالی، کہاں سیلاب آئیں گے اور کہاں فصلیں جل جائیں گی۔

عام حالات میں بحرالکاہل کے خطِ استوا کے قریب چلنے والی تجارتی ہوائیں Trade Winds گرم پانی کو مغرب کی جانب دھکیلتی رہتی ہیں۔ لیکن ہر چند سال بعد یہ ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ تب سمندر کی سطح پر گرمی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے، اور یہی گرمی مشرق کی جانب پھیل کر ایل نینو کو جنم دیتی ہے۔

یہ عمل نیا نہیں، صدیوں سے ہوتا آیا ہے، لیکن اس بار کچھ مختلف ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق بحرالکاہل کی سطح اور اس کے نیچے جمع ہونے والی حرارت اس رفتار سے بڑھ رہی ہے جو پہلے کم ہی دیکھی گئی۔ امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے مطابق جولائی تک ایل نینو کے مکمل طور پر بننے کے امکانات تقریباً 80 فیصد ہیں۔

اہم موسمیاتی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ اس سال کے آخر تک بحرالکاہل کے بعض حصوں کا درجہ حرارت معمول سے 2.5 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ صرف ایک ایل نینو نہیں رہے گا بلکہ ”سپر ایل نینو“ بن جائے گا۔

 سپر ایل نینو: ایک نایاب مگر خوفناک مظہر

ریکارڈ شدہ تاریخ میں صرف تین مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایل نینو کی شدت 2 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گئی:
1982-83، 1997-98 اور 2015-16۔

ان تینوں ادوار نے دنیا پر گہرے اثرات چھوڑے 1982-83 کے ایل نینو نے عالمی معیشت کو تقریباً 4.1 کھرب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ 1997-98 میں یہ نقصان 5.7 کھرب ڈالر تک جا پہنچا 2015-16 کے ایل نینو نے دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، جنگلاتی آگ اور خوراک کے بحران کو جنم دیا۔

لیکن موسمیات کی تاریخ میں ایک اور سایہ بھی موجود ہے۔ 1876 سے 1878 کا وہ عظیم قحط، جسے کئی ماہرین ایک قدیم ”سپر ایل نینو“ سے جوڑتے ہیں۔ اس قحط نے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں کروڑوں زندگیاں نگل لیں۔ اندازوں کے مطابق تقریباً پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوئے۔ صرف برصغیر میں ایک کروڑ لوگ بھوک اور بیماریوں کا شکار بنے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا صنعتی کاربن اخراج سے ابھی پوری طرح گرم نہیں ہوئی تھی۔ آج کی دنیا اس وقت سے کہیں زیادہ گرم ہے۔

ایک خطرناک اتفاق: سپر ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلی

زمین پہلے ہی تیزی سے گرم ہو رہی ہے۔ 1850 کے بعد سے درجہ حرارت کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے، اور تاریخ کے 11 گرم ترین سال موجودہ صدی کے صرف 25 برسوں میں آئے ہیں۔ 2024 کو اب تک کا گرم ترین سال قرار دیا گیا، جب عالمی درجہ حرارت معمول سے تقریباً 1.29 ڈگری زیادہ ریکارڈ ہوا۔

اب سوال صرف یہ نہیں کہ ایل نینو کتنا طاقتور ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک سپر ایل نینو ایک پہلے سے گرم دنیا میں آیا تو کیا ہوگا؟

برطانیہ کے میٹ آفس میں طویل مدتی پیش گوئی کے سربراہ ایڈم اسکیف کہتے ہیں: ”یقیناً کچھ بڑا آنے والا ہے۔ ہمیں اس پر بہت اعتماد ہے، اور یہ ایک بڑا واقعہ دکھائی دیتا ہے۔“ ان کے مطابق اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو 2027 عالمی حدت کا نیا ریکارڈ قائم کر سکتا ہے۔

معاملہ کیوں اب بھی غیر یقینی ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس دانوں کے پاس تمام جدید سیٹلائٹس، سپر کمپیوٹرز اور ماڈلز ہونے کے باوجود وہ ابھی بھی مکمل یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ سپر ایل نینو بنے گا یا نہیں۔

کیوں؟ کیونکہ سمندر صرف آدھی کہانی سناتا ہے۔ باقی آدھی کہانی فضا میں لکھی جاتی ہے۔

مِشیل لُورو کے مطابق ایل نینو اس وقت شدت اختیار کرتا ہے جب سمندر اور فضا کے درمیان تعلق مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس دوران فضائی دباؤ، بادلوں کی تشکیل اور ہواؤں کے پیٹرن بدلنے لگتے ہیں۔

سب سے اہم کردار تجارتی ہواؤں کا ہے۔ اگر یہ ہوائیں کمزور پڑ جائیں تو گرم پانی مزید پھیلتا ہے، لیکن اگر وہ دوبارہ طاقتور ہو جائیں تو ایل نینو کی بڑھوتری رک بھی سکتی ہے۔

لی اورو کہتی ہیں: ”جب ایسا ہوتا ہے تو یہ ایل نینو کی بڑھوتری کو روک دیتا ہے یا بعض اوقات اس عمل کو الٹ بھی دیتا ہے۔“ یعنی دنیا اس وقت ایک ایسے موسمیاتی جوئے کے بیچ میں کھڑی ہے جس کے آخری نتائج ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔

جب دنیا کے جنگلات جلنے لگتے ہیں

ایل نینو کا اثر صرف درجہ حرارت تک محدود نہیں رہتا۔ یہ بارشوں کے نقشے بدل دیتا ہے۔ جہاں نمی ہوتی ہے وہاں خشکی اتر آتی ہے، اور جہاں خشکی ہوتی ہے وہاں طوفانی بارشیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ایمیزون کے جنگلات سوکھنے لگتے ہیں۔ انڈونیشیا میں آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ آسٹریلیا خشک سالی سے جھلسنے لگتا ہے۔ بھارتی مون سون غیر متوقع ہو جاتا ہے۔ خوراک کی عالمی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ سمندری حیات بدل جاتی ہے۔ ماہی گیری کے نظام درہم برہم ہو جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین سپر ایل نینو کو صرف ایک موسمی واقعہ نہیں بلکہ ”ملٹی پلائر ڈیزاسٹر“ کہتے ہیں — ایک ایسی قوت جس کی کئی پرتیں ہیں اور جو پہلے سے موجود بحرانوں کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔

پاکستان: ایک نازک جغرافیہ

پاکستان پہلے ہی دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سالانہ تقریباً 14 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

یہ ملک ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں موسموں کا توازن براہِ راست ہمالیہ کے گلیشیئرز، دریاؤں، مون سون اور زرعی نظام سے جڑا ہوا ہے۔

ایل نینو جب بھی آیا، اس نے پاکستان اور ہندوستان کے مون سون کو متاثر کیا۔ کبھی بارشیں کم ہوئیں۔ کبھی اچانک سیلاب آئے۔ کبھی گرمی کی لہریں جان لیوا ثابت ہوئیں۔

2015 کے طاقتور ایل نینو کے دوران کراچی میں شدید ہیٹ ویو آئی تھی، جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔

اگر سپر ایل نینو آیا تو پاکستان میں کیا ہو سکتا ہے؟ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل محمد افضل کے مطابق، ”2026 کے حوالے سے موسمیاتی ماہرین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 90 فیصد امکانات ہیں کہ سپر ایل نینو تشکیل پائے گا، جس کی وجہ سے مون سون کی بارشیں کم ہو سکتی ہیں اور ہیٹ ویوز زیادہ ہو سکتی ہیں۔“

وہ خبردار کرتے ہیں کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت براہِ راست پانی کے ذخائر اور زرعی پیداوار کو متاثر کرے گا، جبکہ خزاں اور سردیوں میں اس کے اثرات زیادہ واضح ہو سکتے ہیں۔

کچھ ماہرین کے مطابق 90 فیصد امکان کا دعویٰ ایک بہت مضبوط دعویٰ ہے ، ان کے مطابق کچھ موسمیاتی ماڈلز طاقتور یا ممکنہ سپر ایل نینو کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

پاکستان کے نامور ماہرِ موسمیات محمد حنیف نسبتاً محتاط رائے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ”سپر ایل نینو“ کی اصطلاح بعض اوقات غیر ضروری خوف پیدا کرتی ہے، اور اسے ”طاقتور ایل نینو“ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

لیکن وہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس کا دورانیہ طویل ہوا تو پاکستان خشک سالی اور قحط جیسے خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی معیشت کا تقریباً 23 فیصد حصہ زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ 37 فیصد لوگوں کا روزگار اسی شعبے پر منحصر ہے، لیکن حکومتی عدم توجہی اور موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی اس شعبے کو کمزور کر چکی ہے۔

اہم فصلوں کی پیداوار میں تقریباً 13.5 فیصد کمی آ چکی ہے۔ کپاس کی پیداوار 30 فیصد تک گر چکی ہے۔ گندم بھی ہدف سے کم پیدا ہوئی۔

اگر سپر ایل نینو مون سون کو متاثر کرتا ہے، پانی کے ذخائر کم ہوتے ہیں اور گرمی کی شدت بڑھتی ہے تو اس کا براہِ راست مطلب ہوگا: کم فصلیں، زیادہ مہنگائی، پانی کا بحران اور غذائی عدم تحفظ۔

پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں اس سال معمول سے زیادہ گرمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ اس اضافی گرمی کا مطلب صرف گرم موسم نہیں بلکہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا خطرہ بھی ہے۔

گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے، اچانک سیلابوں اور دریاؤں میں غیر معمولی بہاؤ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ یعنی ایک طرف خشک سالی کا خطرہ، دوسری طرف سیلاب کا خدشہ۔ یہی موسمیاتی بحران کی سب سے پیچیدہ شکل ہے: ایک ہی وقت میں دو متضاد آفات۔

ایک ایسا مستقبل جو ابھی لکھا جا رہا ہے

آسٹریلیا کے ’بیورو آف میٹرولوجی‘ کی ماہرِ موسمیات فیلیسٹی گیمبل کہتی ہیں: ”20 سال پہلے ایل نینو کے دوران جو کچھ ہوا تھا، غالباً آج وہ بالکل مختلف انداز میں ظاہر ہوگا۔“

یہ جملہ شاید پورے بحران کا خلاصہ ہے۔ انسانی تاریخ میں پہلی ایک قدرتی موسمیاتی سائیکل ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہا ہے جسے انسان خود پہلے ہی غیر معمولی حد تک گرم کر چکا ہے۔ اسی لیے ماضی اب مستقبل کی مکمل رہنمائی نہیں کرتا۔

شاید سپر ایل نینو اتنا شدید نہ ہو جتنا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شاید ہوائیں اس کی رفتار کم کر دیں۔ شاید سمندر اپنا غصہ کم کر دے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا، تو دنیا صرف ایک اور گرم سال ہی نہیں دیکھے گی، وہ ایک ایسے عہد میں داخل ہو سکتی ہے جہاں موسم محض موسم نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست، خوراک، معیشت، ہجرت اور انسانی بقا کے سب سے بڑے فیصلے کریں گے۔

اور اس پوری کہانی کا آغاز شاید اسی وقت ہو چکا ہے، بحرالکاہل کے گرم ہوتے پانیوں میں، جہاں زمین خاموشی سے اپنا درجہ حرارت بدل رہی ہے۔

مون سون کی بارشوں پر اثر انداز ہونے والے ال نینیو اور لانینا کیا ہیں اور اس وقت ان کی کیا صورتحال ہے؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button