Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

خبردار، کم عمری میں اینٹی بایوٹکس دماغی نشوونما کے لیے خطرناک!

By Akhtar Rasool
جولائی 19, 2021 2 Min Read
0

نیوجرسی : تجربہ گاہ میں ہونے والے ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ عموماً بچوں کو ابتدائی عمر میں دی جانے والی مشہور اینٹی بایوٹکس، پینسلین (ایمپسلین اور اموکسو سیلین) سے جسم (بالخصوص معدے) کے اندر بیکٹیریا اور جرثومے کی کیفیات بدل جاتی ہے۔ یہ خردنامئے اور بیکٹیریا اربوں کھربوں کی تعداد میں موجود ہیں ۔ لیکن ساتھ ہی اینٹی بایوٹکس سے جینیاتی کیفیات پر بھی فرق پڑتا ہے۔ اس سے وہ خلیات متاثر ہوتے ہیں جو ابتدائی عمر میں دماغی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

پینسلین سے وابستہ ادویہ بچوں کو دوسال کی عمر سے پہلے عام طور پر کھلائی جاتی ہیں اور امریکہ میں اس کے تین کورس کرائے جاتے ہیں۔ رٹگرز یونیورسٹی میں ایڈوانسڈ بایوٹیکنالوجی مرکز کے سربراہ مارٹِن بلیسر کہتے ہیں کہ انہوں نے بعض نومولود جانوروں پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ اگرچہ یہ ابتدائی کام ہے خردنامیوں کی تبدیلی اور دماغی نشوونما کے درمیان گہرا تعلق ظاہر ہوا ہے

اس سلسلے میں چوہے کے ان بچوں کو پینسلین کی ہلکی خوراک دی گئیں، جنہوں نے چند روز قبل آنکھ کھولی تھی۔ دوسرے گروہ کے بچوں کو اینٹی بایوٹکس نہیں دی گئی، بعدازاں ان دونوں کا باہمی موازنہ کیا گیا۔ جن چوہوں کو پینسلین دی گئی تھی، ان کی آنتوں میں خردنامیوں کی ترتیب بدلی اور دماغی کارٹیکس اور ایمگڈالا کی تشکیل کرنے والے جین کا ایکسپریشن بھی بدل گیا

دماغ کے یہ دو گوشے بہت اہم ہیں، اول مقام پر حافظہ تشکیل پاتا ہے اور دوسرا گوشہ خوف اور دماغی تناؤ سے وابستہ ہوتا ہے۔ اس بات کے گہرے ثبوت ملے ہیں دماغ میں خردنامیوں اور بیکٹیریا وغیرہ اور دماغی سگنل کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ اس طرح دماغ اور آنتوں کے درمیان گہرا تعلق پایا گیا ہے

ماہرین یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اینٹی بایوٹکس سے معدے اور آنتوں کے صحت مند خلیات جس طرح بدلتے ہیں ان کا اثر دماغ پر پڑتا ہے اور نومولود اپنے بچپن اور یا بلوغت میں اعصابی تنزلی اور دماغی نفسیات کے شکار بھی ہوسکتے ہیں

ماہرین نے اپنی تحقیق سے سامنے آنے والے نتائج کے تناظر میں تجویز کیا ہے کہ اس ضمن میں آگہی دینے کے ساتھ ساتھ لازمی ہے کہ بہت چھوٹے بچوں کو حتی الامکان اینٹی بایوٹکس دینے سے گریز کیا جائے.

Tags:

AntibioticKidsMedicine
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فیس بک میسنجر میں ’آواز ایموجی‘ کا اضافہ

Next

یونین کونسل سطح، میرٹ پر ملازمتیں دی جائیں گی، ناصر حسین شاہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme