بلوچ سیاست میں خلا، ’مینگل کٹ‘ اور نئے دور کے تقاضے
بلوچ سیاست کے اہم کردار سردار عطاءاللہ مینگل دو ستمبر 2021 کو کراچی کے ہسپتال میں طویل علالت کے باعث انتقال کرگئے تھے۔ ان کی پہلی برسی پر ان کی زندگی پر ایک تفصیلی نظر بلوچ قوم کی سیاست میں بنیادی تبدیلی لانے اور ایک سمت کے تعین میں کردار ادا کرنے والے…
ہمارا نوجوان بے ہودگی کی اس نہج پر اچانک نہیں پہنچا
کالج کے ابتدائی دور میں تھی، جب اپنے ایک مہربان استاد سے طنز اور مزاح کا فرق دریافت کیا۔ تب شاید تعلیم و تربیت کا کاروبار ابھی بے رحم ترقی کی اس نہج پر نہیں پہنچا تھا کہ مطابقت و مسابقت کی دوڑ سوال کو ہی ختم کر دے تب اساتذہ کے پاس سوال سننے…
فضا میں طیارے اپنے پیچھے دھویں کی لکیریں یا ’خطوط التکثیف‘ کیوں چھوڑتے ہیں؟
مصنوعی طریقے سے بنائے گئے مہین سے بادلوں نے انسان کو ایک صدی سے ورطہِ حیرت میں ڈالے رکھا ہوا ہے، لیکن آخر یہ حقیقت میں ہیں کیا؟ سنہ 1915ع میں دنیا کی پہلی کنٹرولڈ طاقت سے چلنے والی پرواز کے تقریباً بارہ سال بعد، آسٹریا کے ماہر طبیعیات رابرٹ اٹلی کے شمال…
آپریشن مڈنائٹ جیکال، بے نظیر حکومت کے خلاف سازش کیسے بے نقاب ہوئی؟
’بے نظیر بھٹو نے میجر جنرل (ریٹائرڈ) نصیراللہ بابر کو میرے پاس بھیجا جو مڈنائٹ جیکال کے نام سے ایک انکوائری لے کر آئے تھے۔ اس میں آئی ایس آئی کے دو افسران بریگیڈیئر امتیاز اور میجر عامر پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم…
پاکستان کے نظام تعلیم میں زبان کی افسوس ناک کہانی
جس ملک میں 70 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہوں اور 75 برس میں اس کے حکمران یہ فیصلہ نہ کر پائیں کہ بچوں کو کس زبان میں پڑھایا جائے تو اس ملک کے نظام تعلیم میں بہت سی خامیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور پاکستان کا بھی یہی حال ہے پاکستان میں نظامِ تعلیم…
افسوس کہ ہم نے ماضی میں آنے والے سیلاب سے بھی کچھ نہیں سیکھا
ہمارے یہاں جاری رہنے والی سیاسی ہنگامہ آرائی اس وقت ہی کم ہوتی ہے جب کوئی انسانی المیہ جنم لیتا ہے۔ کورونا وائرس کے دوران کچھ وقت کے لیے توجہ اس سیاسی محاز آرائی سے ہٹ گئی تھی اور اب موجودہ سیلاب ویسا ہی دوسرا موقع ہے 2010ع میں آنے والے تباہ کن سیلاب…
’کسی سال پانی کی بوند کو ترسیں تو کسی سال اسی پانی سے پناہ مانگیں‘
ہم نے اپنی چالیس سال کی زندگی میں یہ دیکھا ہے کہ اوسطاً ہر چھ سے سات سال بعد ہمارے ملک کو سیلاب سے واسطہ پڑتا ہے۔ خس و خاشاک کی طرح بہتے مویشی، سامان اور بنیادی ضروریات کے لیے تڑپتے انسان ہر چند سال کے بعد المیے کی نئی تصاویر بنے نظر آتے ہیں…
مغربی ذرائع ابلاغ، ان کے شاگرد اور فلسطین
ذرائع ابلاغ اس دَور کی دُور تک مار کرنے والی ایجاد ہیں، مگر جس طرح ذرائع ابلاغ کی رسائی اور دسترس دور دور تک ہے، اسی طرح یہ خود بھی اب کسی فرد کی دسترس سے باہر نہیں رہے۔ فرد اور معاشرہ اس وقت ذرائع ابلاغ کے ساتھ گہرے دو طرفہ تعامل کے تعلق میں…