خدا ترسی بھی سائنس ہے
سنہ 2005 کا زلزلہ، سنہ 2010 کا سیلاب اور سنہ 2022 کی آبی قیامت اور اس دوران دہشت گردی سے اجڑے لاکھوں لوگوں سمیت ہم کئی بڑے قومی دھچکوں سے گزر چکے ہیں اور ابھی تو محض ابتدا ہے ایسے آسمانی و زمینی المیات سے کیسے نپٹا جائے یا ان سے پہنچنے والے نقصانات کو…
کیا آپ کو میجک شو دیکھنے کا مزہ آتا ہے؟
آج تک دل چاہتا ہے کہ میرے پاس ایک جادوئی چادر ہو، جسے اوڑھوں تو میں غائب ہو جاؤں۔ غائب ہونے کے بعد کرنا کیا ہے، آف کورس اتنا سارا کچھ تو نہیں بتایا جا سکتا جادوگر اپنی ٹوپی میں سے کبوتر نکالتا ہے تو بچے اسے کتنی حیرت اور دلچسپی سے دیکھتے ہیں، ہم…
ایران آوارگی (قسط-4)
5 جولائی کی دوپہر کو ہم تین گاڑیوں کے قافلے میں ایران شہر پہنچے، راستے میں یہ علاقے آئے: جیکی کور – یہ نوحانی بلوچوں کی اکثریت کا علاقہ ہے۔ تافتان بارڈر سے آنے والے بھی جکی کور سے ہی آگے جاتے ہیں۔ یہاں سے ایک راستہ سرباز کو جاتا ہے۔ سرباز کا علاقہ…
قائدِ اعظم کے وہ افکار جو چھپائے جاتے ہیں
پاکستان کی ریاست، ہمارے دانشوروں اور اہلِ سیاست نے بڑی مہارت سے قائدِاعظم کی فکر کا ایک اہم ترین گوشہ ہم سے چُھپا رکھا ہے، جو اقتصادی نظام، معاشی استحصال، بالادست طبقات کی لوٹ کھسوٹ اور مفلسوں کی بدحالی سے متعلق ان کے خیالات پر مبنی ہے۔ قائدِاعظم محمد…
کرو تم، بھریں ہم!
پاکستان میں موجودہ سیلاب نے اگرچہ ہر ڈوبنے والی شے ڈبو دی ہے مگر پانی پر ایک اہم سوال کی پھولی لاش بھی تیر رہی ہے سوال یہ ہے کہ تباہی کی بنیادی ذمہ داری ہماری اپنی بدانتظامی، بدنیتی، بدعنوانی، ماحولیاتی غیر سنجیدگی اور نیم دلانہ کوششوں پر عائد ہوتی ہے یا…
فرار کی تلاش
ہمیں مشکل حالات کا سامنا کرنا بدتر لگتا ہے اور ایسے میں ہماری کوشش حقیقت سے نظریں چُرا کر خود کو کہیں بھگا لینے کی ہوتی ہے زندگی چونکہ ایک مشقت کا نام ہے، اس لیے اس میں پریشانیاں، مسائل اور تنگی تو بہرحال رہتی ہی ہے لیکن مشکلوں کا سامنا کرنے اور ان کو…
سندھ ہر کچھ سال بعد کیوں ڈوب جاتا ہے؟
میرے سامنے آج 3 ستمبر کا اخبار پڑا ہوا ہے۔ اس کی کچھ لیڈ خبریں اس طرح کی ہیں: ’کپاس اور دھان کی فصلیں تباہ، گندم کی کاشت بھی مشکل سے ہوگی، منچھر کو کٹ لگانے کا فیصلہ ایریگیشن ڈپارٹمنٹ کرے گا۔ پانی کی نکاسی میں 2 سے 3 ماہ لگیں گے: مراد علی شاہ۔‘…
ایران آوارگی (قسط 3)
گوات کش پہاڑی سلسلہ ہے۔ گوات کش کنڈ مشہور پاس ہے، یہ بہت تاریخی علاقہ ہے۔ ڈاکٹر مبارک بلوچ کا کہنا ہے کہ ”جب شہنشاہ ایران بلوچوں کے ساتھ لڑائی سے تنگ آگئے تو انہوں نے 1938 میں یہ اعلان کیا کہ بلوچ اپنے ہتھیار حکومت کے پاس جمع کرائیں۔ بہت سے بلوچ سرداروں…