زندگی کے یہ رنگ بھی دیکھنے ہی پڑیں گے
آج کل ٹک ٹاک ویڈیوز اور فیس بک ریلز کا زمانہ ہے، ایسے بہت سے ویڈیو کلپ ملیں گے جن میں کوئی نوجوان چپکے سے کیمرہ اٹھائے اپنے کسی اہل خانہ یا دوست کا تعاقب کرتا اور اس کی دلچسپ حرکتوں کو ریکارڈ کرتا ہے۔ آج کل ہمارے حوالے سے کوئی ریکارڈنگ کرے تو اکثر…
جمہوریت کے رنگ ڈھنگ
آج ہم اپنے طور پر جمہوریت کے رنگ روپ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اساتذہ سے جمہوریت کے بارے میں ہم کچھ پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو وہ ہمیں ٹال دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، فقیروں کا کیا کام جمہوریت اور آمریت سے؟ تم لوگ اللّٰہ اللّٰہ کیا کرو، اور…
ٹیکسلا کی لوک کہانیاں جو دو ہزار سال بعد بھی زندہ ہیں
ٹیکسلا کس نے بسایا، یہ سوال حل طلب ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ اگر سر جان مارشل تقریباً سو سال پہلے ٹیکسلا کی کھدائیاں نہ کرتے اور یہاں سے وہ کتبہ دریافت نہ کرتے جس پر شہر کا نام ٹیکسلا لکھا ہوا تھا توہم آج بھی اس شہر کو شاہ ڈھیری ہی پکار رہے…
افواہوں کی دُنیا
افواہیں اُس وقت پھیلتی ہیں، جب خبروں پر سینسر شپ ہو۔ معلومات کے ذرائع پر پابندیاں ہوں۔ سوسائٹی میں سیاسی انتشار ہو اور لوگ معاشی بحران سے گزر رہے ہوں تو اس ماحول میں افواہوں کے ذریعے لوگ حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ افواہوں کے بارے میں یہ نہیں کہا جا…
مکلی کو نقلی بننے سے روکنے کی ضرورت
سندھ کے شہر مکلی جانا ہو اور وہاں کے قدیم قبرستان نہ جایا جائے تو سفر ادھورا رہ جاتا ہے۔ دروازے پر موجود ٹکٹ روم اور ساتھ ہی ایک کمرے میں غیر ملکی سیاحوں کی حفاظت کے لیے موجود اہلکاروں کو دیکھ کر اچھا لگا۔ لیکن جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو پھر سے وہی…
جنوبی کوریا کی خوشی پاکستانیوں کو کیوں چڑھی ہوئی ہے؟
جنوبی کوریا کی پیدائش دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور سوویت یونین کی سرد جنگ کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ فاتحین نے ایک ہی ملک کو کاٹ ڈالا۔ شمالی حصے میں پچھلے 76 برس سے ’کِم خاندان‘ کی کمیونسٹ بادشاہت ہے، جبکہ جنوبی کوریا میں کب آمریت جمہوریت کا اور جمہوریت…
عوام کا خوف
کچھ مہینے پہلے، بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے گوادر میں ایک جرگہ بلایا۔ اس کا مقصد بلوچستان کے بہت سے چیلنجز کو اجاگر کرنا تھا جیسے کہ جبری گمشدگیوں سمیت پسماندگی اور ریاستی زیادتیاں۔ پھر ردعمل سامنے آیا۔ سب سے پہلے، گوادر میں اجتماع منعقد کرنے کی اجازت —…
بدترین رات
جرمن ناول نگار فرانز کافکا کے بقول، ’یہ صرف ان کی حماقت سے ہوا کہ وہ خود پر اتنا زیادہ اعتماد کرتے ہیں‘۔ آدھی رات گزر چکی تھی کہ جب وزیر داخلہ نے ڈی چوک پر کھڑے ہوکر فخریہ انداز میں اعلان کیا کہ بغیر گولیاں چلائے دارالحکومت کو مظاہرین سے خالی کروا لیا…