حماقت کی فتح
جب نیک مرد و زن سچ بولنے کی ہمت کھو دیں، جب حقائق ناگوار ہو جائیں، جب دیانت اور کردار کی کوئی وقعت نہ رہے، اور جب انا اور خودغرضی قومی سالمیت سے زیادہ اہم ہو جائیں، تو پھر جبر کی فتح کو کوئی نہیں روک سکتا۔ میں خود کو غصے اور کرب کے سمندر…
مطیع اللہ جان اور محسن نقوی: نشئی کون؟
ہم کراچی کے کنکریٹ جنگل کے باسیوں کو اسلام آباد ہمیشہ سے نشے میں ڈوبا ہوا شہر لگتا ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کا، سبزے کا سرور، شام کو سرسراتی ہوا کی سرگوشیاں۔ زندگی میں دو، چار دفعہ ہی شامیں گزارنے کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ حکمران اور اُن کے حواری کیسے رہتے…
قوموں کے زوال کا باعث کون، عوام یا حکمران؟
تاریخ میں قوموں کے عروج و زوال کی داستان دلچسپ بھی ہوتی ہے اور آسودہ بھی کرتی ہے۔ کوئی قوم بھی اپنے عروج کو ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رکھ سکتی، ایک مرحلے کے بعد اس میں زوال کی علامتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ عام طور سے قوموں کے زوال کو معاشرے کا اجتماعی زوال…
کیا لاہور 1952ء کی دی گریٹ لندن اسموگ سے سبق حاصل کر پائے گا؟
مانچسٹر اور نیویارک کی فیکٹریاں صنعتی انقلاب کی فخریہ علامت سمجھی جاتی تھیں جو 18ویں صدی میں ترقی اور خوشحالی کے دور کا آغاز ثابت ہوئیں لیکن اس سنہری دور نے اپنے پیچھے ایک تاریک میراث چھوڑی۔ اس نے ماحولیاتی بحران کے بیج بوئے جن کا ہم آج سامنا کر رہے ہیں۔…
خان باہر تھا تو مشکل، اندر ہے تو مشکل۔۔۔
آپ پی ٹی آئی کی ’فائنل کال‘ کے انجام کا بھلے مذاق اڑا لیں۔ گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کی بڑھکوں اور پھر کارکنوں کو چھوڑ کے غائب ہونے پر کچھ دن اور پھبتیاں کس لیں۔ پارٹی کی کنفیوز قیادت اور عمران خان کی طبعی جذباتیت پر مزید طنز کر لیں۔ ان ہزاروں بھولے…
لیاری: مارا ماری سے کنا یاری تک
کراچی کے مشہور زمانہ ریڈ لائٹ ایریا نیپیئر روڈ سے گزر کر جونا مارکیٹ اور لی مارکیٹ سے متصل بغدادی تھانے کو پیچھے چھوڑ کر گاڑی اب ٹوٹے پھوٹے خستہ حال رستے پر ہچکولے کھاتے ہوئے چلی جارہی تھی۔ یہ رستہ عرصہ پہلے شاید کبھی سڑک کہلاتی ہو گی جو اب وہاں ناپید…
فریادِ بلوچستان
پاکستان کے بہت کم سیاستدانوں کا ادب سے تعلق ہے، اکثر سیاستدان انتہائی ’غیر ادبی‘ طاقتوں کی مدد سے پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں۔ اپنی مودبانہ سیاست کی کامیابی کے بعد وہ تاریخ کے استاد بن جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ صرف ان کی مرضی کی تاریخ کو سچ سمجھا جائے۔…
دی کلائمیٹ بُک: ’موسمیاتی تبدیلی سے مکمل بحالی میں لاکھوں سال لگ سکتے ہیں‘
دنیا اب ایک نئے موسمیاتی دور میں داخل ہوچکی ہے۔ ہماری دنیا میں اب جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ ہم خود ہیں۔ ہم نے فیکٹریاں لگائیں، موٹر گاڑیاں چلائیں اور بہت زیادہ کوئلہ، گیس اور تیل جلا کر درجہ حرارت خوب بڑھا دیا اور بدستور بڑھانے میں مصروف ہیں۔ اس سے…