سری لنکا بدترین بحران کا شکار کیسے ہوا؟
سری لنکا کا سیاسی و معاشی بحران اب خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہاں افراط زر یا مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور دال چاول اور تیل جیسی بنیادی اشیائے صرف بھی عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ آخر یہ چھوٹا سا ملک اس بحران کا…
حکومت مل گئی پر ووٹ کو عزت نہ مل سکی
’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگانے والی پاکستان کی متحدہ اپوزیشن کو حکومت تو مل گئی ہے لیکن اس سوال کا جواب ابھی باقی ہے کہ ووٹ کو عزت کیوں نہ مل سکی۔ پاکستان میں سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ‘ووٹ کو عزت دو‘ محض ایک نعرہ ہے، جسے سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ…
جنگلات کی تباہی: خاموش تماشائی کب تک؟
پاکستان میں وائلڈ لائف جو پہلے ہی سے مشکلات کا شکار تھی، اس کو مزید خطرے میں ڈالا گیا ہے۔ گذشتہ ایک دہائی میں وسیع پیمانے پر وائلڈ لائف کی فطری مسکنوں کو تباہ کیا گیا اور انسانی سرگرمیوں کے باعث ان میں تبدیلی آئی ہے صرف یہی نہیں، بلکہ ملک بھر میں تیزی سے…
امریکا نے کن کن حکومتوں کے تخت الٹے؟
عمران خان کی جانب سے ان کی حکومت بدلنے کے پیچھے امریکی ہاتھ کی موجودگی کی بات میں کتنا س ہے؟ اس کا تصفیہ تو آنے والا وقت کرے گا، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکا نے سرد جنگ کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں 72 بار حکومتیں بدلنے کی کوشش کی ہے،…
ریڈیو پاکستان: ’یہ پل بھر میں کیا ماجرا ہو گیا‘
ریڈیو پاکستان کے ایک سابق نیوز ڈائریکٹر بھلے وقتوں میں زراعت کا پروگرام کیا کرتے تھے دو ڈھائی سال وہ روزانہ سٹوڈیو پہنچتے اور لال بتی جیسے ہی سگنل دکھاتی ان کا پروگرام شروع ہو جاتا مالیہ معاف، آبیانہ معاف، زرعی قرضوں کی اقساط نرم، زرعی پیداوار بڑھانے کے…
پاکستان: ہونڈا 125 کا ڈیزائن تبدیل کیوں نہیں ہوتا؟
مئی 1974ع میں ہونڈا والوں نے دو بندے جاپان سے پاکستان صرف اس لیے بھیجے کہ یہاں کس قسم کی موٹر سائیکل کامیاب ہو سکتی ہے وہ لوگ پہلے تھائی لینڈ، ملائیشیا، ایران، انڈونیشیا اور فلپائن سے پھیرا مار کے آئے تھے۔ جو کچھ انہوں نے ان سب ملکوں میں دیکھا وہ ادھر…
ابو طبیلہ: ’کرائے کا اطالوی فوجی‘ جو پشاور کا سخت گیر حاکم بنا اور زندگی کی بازی محبت کے ہاتھوں ہارا
تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو خیبر پختونخوا کا صوبائی دارالحکومت پشاور متعدد مرتبہ بیرونی حملہ آوروں کا نشانہ بنا اور بظاہر اس کی بنیادی وجہ یہی لگتی ہے کہ یہ شہر براستہ درہ خیبر ہندوستان پر حملہ آور ہونے والوں کی گزرگاہ تھا۔ سنہ 1818 میں شمال مغربی سرحدی…
سمندری خول(سیشیلز)، گرم ہوتا سمندر اور سمندری زندگی کے مستقبل کے لیے ایک تاریک پیشین گوئی
برسوں پہلے ساحل کے ساتھ ٹہلنے کا مطلب اکثر سمندری گولے جمع کرنا ہوتا تھا جو ساحل پر دھل چکے تھے۔ یہ ایک غیر فعال لیکن پرلطف تفریح سمجھا جاتا تھا۔ جیسے جیسے زیادہ لوگوں نے اپنا مجموعہ شروع کیا ایک صنعت ابھرنا شروع ہوگئی جو پوری دنیا سے سمندری خول فروخت…