نئی مہا بھارت
پاکستانی سیاست کبھی بھی بور نہیں تھی۔ یقین نہیں آتا تو گوجرانوالہ کے جلسے میں کی گئی نواز شریف کی تقریر اور پھر ٹائیگر فورس سے کی گئی وزیر اعظم عمران خان کی تقریر سن لیں۔ ایسا خوفناک منظر پہلے کبھی نہیں بنا تھا جو اب بن چکا ہے ایک دفعہ عامر متین نے اپنے…
حد کرتے ہو صاحب!
جن کے ہاتھوں میں سندھ کی باگ تھی، انہوں نے تو اس دھرتی کے بھاگ میں جیسے ابھاگن بننا ہی لکھ دیا ہے ، کرسی کو دوام دینے کے لیے دیمک سے دوستی نبھائی گئی، لیکن دیمک کب کاٹھ کی دوست بنی ہے؟ اقتدار کو طول تو شاید سر جھکائے رکھنے سے مل جائے، لیکن…
ﺍﻟﻔﺮﺩﻭﺱ ﺑﺮﻭﺋﮯ ﺯﻣﯿﮟ ﺍﺳﺖ ۔ بلوچستان ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ ﺁﺳﭩﻮﻻ ﺟﺰﯾﺮﮦ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺻﻮﺑﮯ ﺑﻼﺷﺒﮧ ﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﻨﺎﮐﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺎﻻﻣﺎﻝ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺻﻮﺑﮧ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﺑﯿﺸﺘﺮ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮕﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﺻﻮﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﯼ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﻣﯿﺮ ﻭ ﮐﺒﯿﺮ ﮨﮯ۔ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﺻﻮﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻭﺭ…
جزائر پر غاصبانہ قبضے کا آرڈیننس اور آج کے لُول وڈیرے
کسی بھی صوبے کی زمین اور وسائل ایک صدارتی آرڈیننس کی مار ہونگے، کیا پاکستان کا قیام اسی نعرے کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا؟ مقتدر حلقوں سے گذارش ہے کہ صرف پون صدی پیچھے جائیے، اس سوال کا جواب آپ وہیں چھوڑ آئیں ہیں. ہوش کے ناخن کا محاورہ بھی اور اس پر…
ڈیپ سی فشنگ ٹرالرز سے جزائر تک…! ( دوسری قسط)
ڈیپ سی فشنگ ٹرالرز کا مسئلہ فالفور حل کرنے کی ضرورت تھی، جس کے لیے صوبائی و وفاقی حکومت کو ایمرجنسی بنیادوں پر انہیں واپس بھیج دینا چاہیے تھا. ملک بھر کے ماہیگیر یک آواز ہوکر ڈیپ سی فشنگ ٹرالرز کو مکمل طور پر رد کر چکے ہیں، اس کے باوجود صوبائی و وفاقی…
ڈیپ سی فشنگ ٹرالرز سے جزائر تک۔۔۔! (پہلی قسط)
مرحلہ وار انداز میں مقامی لوگوں کو بےروزگار کرنے، ان کو قدرت کی طرف سے عطا کردہ وسائل سے محروم کرنے، علاقہ بدر کرنے اور خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے، جس کے لیے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے جارہے ہیں، معاملہ ڈیپ…
ایک تصویر ایک کہانی: 9
آج جس تصویر کی کہانی ہے اُسے عرف عام میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کہتے ہیں. بندر روڈ پر رچمنڈ وٹرنری ھاسپٹل کے ساتھ بندر کی طرف جاتے ہوئے، بائیں ہاتھ پر اس عمارت کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ دراصل ضلع لوکل بورڈ کراچی کے آفس کی عمارت ہے، اس کے…
سانحۂ اے پی ایس کی رپورٹ اور ایک اہم سوال
سولہ دسمبر 2014ع کے دن بھاری اسلحے سے لیس دہشتگرد آرمی پبلک اسکول میں گھسے اور پھولوں کلیوں سے معصوم بچوں پر قہر بن کر ٹوٹے، قہقہے چیخوں میں بدلے، زندگی موت میں تبدیل ہو گئی، اور کتابیں لہو میں نہا گئیں.. اُس دن نے اِس دیس کو کس شدت سے احساس دلایا تھا،…