ایڈورڈ گِبن اور رومی زوال
رومی سلطنت یورپ کی وسیع و عریض سلطنت تھی، جو مغرب سے مشرق تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ کئی ادوار سے گزری، جن میں ریپبلکن اور بادشاہت کے مختلف عہد شامل ہیں۔ اس کی تاریخ کے اہم کردار یہ ہیں: سلطنت کے عہدیدار، جن کا انتخاب الیکشن کے ذریعے ہوتا تھا۔ سینيٹ کا ادارہ…
سوشل میڈیا ہمیں غریب بنا رہا ہے
سوشل میڈیا کے جہاں بہت سے فوائد ہیں، وہیں بہت سے نقصانات بھی ہیں۔ ہم اپنے لیے کوئی بھی فیصلہ سوشل میڈیا کے اثرات سے آزاد ہو کر نہیں لے سکتے۔ ہم وہاں جو ہوتا دیکھتے ہیں، اپنی زندگی میں وہی کرنا چاہتے ہیں۔ اب چاہے وہ کوئی ٹرینڈ فالو کرنا ہو یا دوستوں کی…
زوال اور ہجرت
قومیں عروج و زوال سے گزرتی رہتی ہیں۔ عروج کے زمانے میں حکمران طبقہ دولت مند اور صاحبِ جائیداد ہو جاتا تھا جبکہ نچلے طبقے کے لوگ غربت اور افلاس میں رہتے تھے۔ زوال کی صورت میں اشرافیہ اپنے ملک سے ہجرت کر جاتی تھی اور عام لوگ افلاس کے باوجود اپنے ملک میں…
بے گھری مجھ سے پتہ پوچھ رہی ہے میرا۔۔
جب آپ ماڑی پور روڈ سے ہاکس بے کی طرف جاتے ہیں، تو سمندر سے تقریباً دو کلومیٹر دور ایک کنکریٹ کی دیوار سڑک کے بائیں جانب دکھائی دیتی ہے۔ یہ دیوار ہاکس بے ڈرائیو تک پہنچ کر بائیں جانب مڑ جاتی ہے اور تقریباً ایک کلومیٹر تک جاری رہتی ہے۔ دیوار سے گھیرے گئے…
کیا پاکستان میں لینِن کی سوچ کو بطور ماڈل اپنایا جا سکتا ہے؟
کچھ مورخوں اور مفکرین کی دلیل یہ ہے کہ تاریخ کو تبدیل کرنے کا کام شخصیتوں کا ہے۔ جب عظیم افراد اپنے خیالات و افکار سے سوسائٹی کو متاثر کرتے ہیں تو عوام میں تبدیلی کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس دوسرے مورخوں کا خیال ہے کہ تبدیلی پہلے سوسائٹی سے شروع…
دروازے پہ دستک جب گھنٹی میں بدلی تو مہمان زحمت ہونا شروع ہو گئے؟
سردیاں ہوتی تھیں، دھوپ کے آنے میں تھوڑی دیر ہوا کرتی اور اس وقت پہلی دستک اخبار والے کی سنائی دیتی تھی۔ ان دنوں اخبار والے سائیکل پہ آیا کرتے اور اخبار دروازے کے نیچے سِرکانے کے بعد باقاعدہ ایک تھاپ دروازے پہ دیا کرتے کہ بھئی جاگتے ہیں تو اٹھا لیجے۔…
یحییٰ خان اور میرا استعفیٰ (تیسرا حصہ)
اگلے روز صبح سویرے راجہ صاحب محمود آباد ہمارے ہاں تشریف لائے۔ ان کے ساتھ میرے دیرینہ برادرانہ تعلقات تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ کل رات یحییٰ خاں نے انہیں اور اسٹینڈرڈ بینک کے مسٹر علوی کو ڈنر پر مدعو کیا ہوا تھا۔ جوں جوں وہسکی کا نشہ تیز سے تیز ہوتا…
یحییٰ خان اور میرا استعفیٰ (دوسرا حصہ)
مارشل لاء لگے ہوئے دس روز گزر چکے تھے۔ اس تمام عرصہ میں یہ برگزیدہ لوگ یا تو اقتدار کی باہمی چھینا جھپٹی میں الجھے ہوئے تھے یا دفتروں کی حاضریاں گن کر، سڑکوں پر جھاڑو پھروا کر یا نالیاں صاف کروا کر قوم کے ہنگامی مسائل حل کرنے میں مصروف تھے۔ اب تک کسی…