عورتوں کے موڈ ایویں نئیں خراب ہوتے!
شادی کے بعد امی پشاور سے ملتان آئیں۔ ایک دن آندھی آئی تو امی کہتی ہیں میں رو پڑی۔ تھوڑی دیر پہلے سارا گھر صاف کیا تھا، برآمدہ اور صحن دھویا تھا، ملتان کی آندھی جو آئی تو ساری صفائی صاف کر گئی۔ دوبارہ ہر چیز پہ ایک تو مٹی پڑ گئی اور پھر پہلے…
امریکی نصابی کتب میں پڑھائی جانے والی یک طرفہ تاریخ
تاریخ کے مضمون کو قوم پرستی کے نام پر تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ خاص طور سے نصاب کی کتابوں میں، جو تاریخ پڑھائی جاتی ہے، وہ طالب علموں کو یک طرفہ علم دیتی ہے۔ امریکہ نصابی کتب میں تاریخ کا صرف ایک رخ ہی پیش کیا جارہا ہے۔ قومی ریاست میں تعلیمی نصاب کو…
شکر ہر وقت کیسے اور کس چیز پہ کیا جا سکتا ہے؟
چھوٹا سا قد تھا ان کا، باریک بال سر کے، اکثر ایک رومال باندھا ہوتا، تین انگل داڑھی، ہر وقت چلتے رہتے تھے، کبھی ٹھوکر کھاتے، گِر جاتے، اٹھتے، کپڑے صاف کرتے، جہاں چوٹ لگی ہوتی گھر جا کے بتاتے، دوا لیتے اور اگلے کام کے لیے دوبارہ تیاری پکڑ لیتے۔ میں نے…
ہم مالک ہیں، غلام نہیں!
اک عذاب ہے زمیں زادوں کے لیئے، جو صدیوں سے اپنے گھروں گاؤں کھیتوں میں اپنی شناخت رسم رواج کے مطابق زندگی گذارتے آ رہے تھے کہ ناگاہ شہر ناگ کی صورت پھن پھیلائے ان کے گھروں گاؤں کھیتوں کو نگلتا جا رہا ہے۔۔ امیر زادوں، زرداروں اور منصب کی کرسیوں پر بیٹھے وہ…
آپ اب بھی ایک جانور ہیں!
ارتقائی نقطہ نظر سے خود شعوری بہت دیر سے پیدا ہونے والی خصوصیت ہے اور اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ یہ ہمیں خود کو سمجھنے میں مدد دے سکے گی۔ شعور ایک تالاب میں کمل کے پھولوں کی مانند ہے: ہم پھولوں کو دیکھتے ہیں، لیکن یہ نہیں جانتے کہ ان…
ملیر ایکسپریس وے اور شہروں کی نقشہ سازی
کراچی میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بہت سا شاندار اور مہنگا انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا ہے۔ تاہم، اس میں سے زیادہ تر نے شہر کی تاریخ، گرین بیلٹ اور تعمیراتی ورثے کو مٹا دیا ہے۔ اس نے آثار قدیمہ کی جگہوں، صدیوں پرانی بستیوں، مذہبی اور تعلیمی اداروں، لوگوں…
شعلے فلم کے ’رحیم چاچا‘ جنہوں نے کراچی میں درزیوں کی ہڑتال کروائی
ایک صبح جب اوتار کرشن ایلفنسٹن اسٹریٹ پر واقع ٹیلرنگ ورکشاپ پر صبح پہنچے تو وہاں کے مالک نے انہیں ایک لفافہ تھما دیا، جس میں تحریر تھا کہ ہمیں آپ کی خدمات کی مزید ضرورت نہیں۔۔ ان سمیت دیگر ملازمین کو بھی ایسے ہی لفافے دیے گئے تھے۔ یہ خبر پورے کراچی میں…
اڈیالہ سے آکسفرڈ تک۔۔۔
زندگی میں انگریزی کی جو پہلی ضخیم کتاب پڑھی تھی، اس کا نام تھا ’دی گریٹ اسکیپ‘۔ اس میں ان قیدیوں کی کہانیاں تھیں جو دنیا کی محفوظ ترین جیلوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ کوئی جیل کے گارڈ کا بھیس بدل کر بھاگا، کسی نے اپنے آپ کو دھوبی کی وین میں…