کھیرتھر ماحولیاتی انصاف چاہتا ہے!
کھیرتھر نیشنل پارک (KNP) سندھ کے اضلاع کراچی، دادو اور جامشورو کے بعض حصوں پر محیط ایک محفوظ قدرتی خطہ ہے۔ اس کے جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کو ایک جامع قانونی فریم ورک کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ تاہم، ان تحفظات کے باوجود غیر قانونی کان کنی، تعمیراتی سرگرمیوں…
ماں بولی (حصہ چہارم)
سقوطِ ڈھاکا کے بعد یوں محسوس ہوا تھا کہ شاید ریاست اپنی غلطیوں سے سیکھے گی، قومیتوں اور زبانوں کو ان کا وہ حق دے گی جس سے وفاق مضبوط ہوتا ہے، مگر جوں جوں ہم تاریخ کے ابواب پلٹتے ہیں، اندازہ ہوتا ہے کہ واقعات بدل گئے، نقشہ بدل گیا، لیکن ریاستی ذہنیت میں…
عوامی ہیرو دھرمیندر: ایک تجزیہ (حصہ دوم)
فلمی کیریئر کا مختصر خاکہ دھرمیندر کے مطابق وہ 1935 میں غیرمنقسم پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ فلموں میں آنے کے حوالے سے وہ بتاتے ہیں دلیپ کمار کی فلم ”شہید“ (1948) دیکھنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بمبئی (آج ممبئی) جاکر دلیپ کمار…
ماں بولی (حصہ سوم)
جب میں ماں بولی کی اہمیت پر لکھتا ہوں تو ذہن بار بار اس تاریخی لمحے کی طرف جاتا ہے، جہاں ہماری ریاست نے پہلی بار اپنی ہی بنیاد کو آزمایا، اس لیئے پنجاب میں زبانوں کی صورتحال کے بعد دیگر صوبوں میں ماں بولیوں پہ بات کرنے سے پہلے اس درد ناک لمحے کو…
عوامی ہیرو دھرمیندر: ایک تجزیہ (حصہ اول)
دھرمیندر ہندی سینما کے پہلے hyper-masculine تھے۔ یہ محض کوئی جذباتی یا غیر ثابت شدہ دعویٰ نہیں، بلکہ ہندی سینما میں اسٹار امیج کی تاریخ سے ثابت شدہ ہے۔ دھرمیندر کی اس شدید مردانگی جس میں مضبوط پٹھوں کی نمائش، غصیلا چہرہ، چوڑی چھاتی، تیس تیس غنڈوں کی…
ماں بولی (حصہ دوم)
میں مادری زبانوں کی حیثیت اور اہمیت پر لکھ رہا ہوں۔ بات اپنی ماں بولی کے درد کی ہے، مگر کسی بھی موضوع پر لکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اسے مکمل، تحقیقی اور وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔ زبان صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوتی، وہ اپنے پیچھے کوئی پورا معاشرتی ڈھانچہ،…
ماں بولی (حصہ اول)
یہ یاد نہیں کہ جب پہلی بار اسکول بھیجا گیا تو ماحول کیسا تھا۔ دھندلی یادیں بس اتنا بتاتی ہیں کہ ایک سلیٹ، چاک، ایک کاپی، پینسل اور سندھی کی پہلی کتاب ساتھ تھی۔ کیا پڑھایا جاتا تھا، یہ یاد نہیں، مگر سندھی الف ب بڑی ترنم کے ساتھ پڑھائی جاتی تھی۔ ایک بلوچ…
ندی کے زہر میں دفن تہذیب: ’سوناءِ کُوھر‘ کا المیہ
پہاڑی علاقوں کی وہ ندیاں، جو بارش کے بعد جنم لیتی ہیں اور جھرنوں کی صورت میں بہتے ہوئے نیچے کے میدانوں تک زندگی پہنچاتی ہیں، دراصل قدرت کا وہ خاموش تحفہ ہیں جن پر پورا ایک ماحولیاتی نظام قائم ہوتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی سے نکلنے والا شفاف پانی جب کئی کلومیٹر…