کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط دوم)
وادی پاچران سے آگے بڑھتے ہوئے ہمارا سفر مول کے تاریخی شہر کی جانب جاری تھا، جہاں راستے میں مول ندی جیسی خوبصورت ندی بھی پڑتی ہے۔ مول ندی نہ صرف جامشورو بلکہ کراچی کے ملیر کی ایک وسیع اراضی کے لیے بھی بے حد اہم ہے، خاص طور پر ملیر ندی کے تناظر میں…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط اوّل)
یہ سفر کونکر گبول اسٹاپ سے شروع ہوا۔ صبح ٹھیک 7 بج کر 45 منٹ پر ہم نے اپنی موٹر سائیکلوں کا رخ کھیرتھر کے دامن کی طرف موڑ دیا۔ اس سفر میں میرے ساتھ حفیظ بلوچ، اختر رسول، نور احمد، عبدالباسط، سارنگ اور دو دوست طلحہ اور شکور شامل تھے۔ ہم سب کے دل…
پانی کا عالمی دن اور کراچی میں پانی کا بحران
پانی کی تاریخ ہمیشہ جغرافیہ سے شروع ہوتی ہے، مگر اس کا انجام سیاست پر ہوتا ہے۔ کراچی اس حقیقت کی ایک زندہ مثال ہے، ایک ایسا شہر جس کی پیاس محض فطری نہیں، بلکہ انسانی فیصلوں کی پیداوار ہے۔ آج جب ہم پانی کے عالمی دن پر اس بحران کو دیکھتے ہیں تو یہ…
دریاؤں اور ندیوں کے تحفظ کے لیے جدوجہد کا عالمی دن اور ہم
(دریاؤں کی جدوجہد کے عالمی دن کے موقع پر سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (سگا، گڈاپ شاخ) اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کی جانب سے 16 مارچ 2026 کو کونکر لائبریری گڈاپ میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں سندھ کے دانشوروں، ادیبوں، محققین اور ماہرینِ قانون نے…
‘ٹرمپ جیسا کوئی نہیں’ — وسعت اللہ خان
وسعت اللہ خان کا nuova کالم: ٹرمپ جیسا کوئی نہیں۔ 20ویں صدی میں چرچل اور مارگریٹ تھیچر سے زیادہ امریکہ پسند کوئی برطانوی وزیرِ اعظم نہیں گزرا۔
ملیر: زرعی زمینیں اور ثقافتی ورثہ خطرے میں
نام نہاد ”ترقی“ اپنا خراج بہت جلد درختوں اور جنگلی حیات کی سینکڑوں اقسام کو نگل کر وصول کرے گی۔ ان میں سے بعض نایاب اور مقامی اقسام ایسی ہیں جو صرف ملیر کے علاقے میں پائی جاتی ہیں اور جنہیں بالغ ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مزید برآں، مون سون کے موسم…
خوف، مزاحمت اور دیواروں میں قید گواہی
کل شام، اپنے گاؤں کے درختوں کے سائے میں اور فصلوں کے درمیان چلتے ہوئے، جب اچانک ایک اژدھے پر نظر پڑی، جسے ہم بھیڑیا ٹاؤن کہتے ہیں، تو ایک لمحے کو خوف سے آنکھیں بند ہو گئیں۔ یہی گاؤں، میری جنم بھومی، جس کے آنگن میں کبھی طرح طرح کے درختوں کی چھاؤں ہوا…
عوامی ہیرو دھرمیندر: ایک تجزیہ (حصہ ہفتم)
دھرمیندر اور دوہری نگاہ کی معیشت (Dual gaze economy) لورا مالوی کے فیمن اسٹ نظریے کا جب ہندی سینما پر اطلاق کیا جائے تو ہمارے سامنے دو نظریاتی سوالات کھڑے ہوجاتے ہیں ـ ایک؛ مارکسی سوال جو ثابت کرتا ہے امریکی سینما کے برعکس ہندی سینما میں بیانیے کی ملکیت…