شوگر ملوں سے بہتا زہریلا فضلہ، جو جنوبی سندھ کو ویران کر رہا ہے
بدین میں امیر شاہ سیم نالے کے کنارے قدیم گاؤں آسیلی پر آسیب زدہ جگہ کا گمان ہوتا ہے۔ چند سال پہلے تک بھرا پُرا یہ گاؤں اب مکینوں سے خالی ہو چکا ہے اور ٹوٹے پھوٹے مکانوں، سونی گلیوں اور اجاڑ راستوں پر اب ڈھونڈے سے بھی کوئی انسان دکھائی نہیں دیتا لوک سجاگ…
شجرکاری کے موسم میں درخت لگانے کا درست طریقہ
مون سون کی آمد آمد ہے، ایسے میں درخت لگانے کا موسم بھی جاری ہے، کیوں نہ کچھ درختوں، بیلوں اور جھاڑیوں پر نظر ڈالی جائے، جنہیں ابھی سے لے کر تقریباً وسط ستمبر تک لگایا جاسکتا ہے تاکہ ہم بھی اپنے ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کچھ حصہ ڈال سکیں مقامی ورائیٹیز…
دنيا سے پلاسٹک کا فضلہ ختم کرنے کا سوال۔۔ کیا یہ ممکن ہو سکے گا؟
انسانی سرگرمياں سالانہ بنيادوں پر چار سو تیس ملين ٹن پلاسٹک پيدا کرتی ہيں، جو نہ صرف زمين بلکہ اس پر بسنے والے انسان اور جانوروں کے ليے بھی انتہائی مضر ہے۔ اب حکومتيں پلاسٹک کے کوڑے کرکٹ کے خاتمے کے ليے کوششیں کر رہی ہيں فرانسيسی دارالحکومت پيرس ميں پير…
پاکستان میں تتلیوں کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔۔
اگرچہ پاکستان میں تتلیوں کی آبادی کے حوالے سے مصدقہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان کی آبادی میں تیزی سے کمی آ رہی ہے ایرڈ ایگری کلچر یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبۂ اینٹامولوجی (علم ِحشرات) سے وابستہ ڈاکٹر عمران…
وفاق کی سندھ کو ’کاربن کریڈٹ‘ کے ذریعے بیس کروڑ ڈالر کمانے کی اجازت
وفاقی حکومت نے سندھ کو آئندہ دو دہائیوں کے دوران ’مینگروو جنگلات کو وسعت دینے‘ کے لیے بیس کروڑ سے بائیس کروڑ ڈالر (ستاون ارب سے تریسٹھ ارب روپے) تک کا کاربن کریڈٹ حاصل کرنے کی اجازت دے دی ہے، تاکہ پاکستان کے وعدوں کے تحت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم…
ماؤنٹ ایورسٹ اپنی سترویں سالگرہ پر برف سے محروم ہو رہا ہے؟
کوہ پیما برادری ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیے جانے کی 70ویں سالگرہ منانے کی تیاری کر رہی ہے لیکن اس کے ساتھ دنیا کے اس سب سے اونچے پہاڑ پر درجہ حرارت میں اضافے، گلیشیئر اور برف کے تیزی سے پگھلنے اور موسم کے گرم اور غیر متوقع ہونے کے بارے میں تشویش بھی بڑھ…
ماحول دوست بیٹری فری ڈیوائسز بنانے میں سرگرم پاکستانی پی ایچ ڈی اسکالر
ہم میں سے ہر ایک کو کبھی نہ کبھی موبائل فون یا دیگر آلات میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کی چارجنگ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ہم سوچتے ہیں کہ کیا ان بیٹریوں کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی ہے؟ ممکن ہے ابھی تو اس کا جواب اثبات میں نہ ہو…
تم کو بھی لے ڈوبیں گے
کرہِ ارض پر پائی جانے والی نباتات و حیاتیات و جمادات انسانی وجود سے بہت پہلے سے موجود ہیں اور اگر ساڑھے چار ارب سال پر محیط بقائی کیلنڈر کی جمع تقسیم کی جائے تو اس حساب سے انسان کو یہاں موجودہ شکل میں وجود پذیر اور آباد ہوئے محض چند گھنٹے ہی گذرے ہیں…