ملیر: زرعی زمینیں اور ثقافتی ورثہ خطرے میں
نام نہاد ”ترقی“ اپنا خراج بہت جلد درختوں اور جنگلی حیات کی سینکڑوں اقسام کو نگل کر وصول کرے گی۔ ان میں سے بعض نایاب اور مقامی اقسام ایسی ہیں جو صرف ملیر کے علاقے میں پائی جاتی ہیں اور جنہیں بالغ ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مزید برآں، مون سون کے موسم…
دریاؤں کے لیے جدوجہد کے بین الاقوامی دن کے حوالے سے آگاہی پروگرام
آج 14 مارچ کو ’’دریاؤں کے لیے جدوجہد کے بین الاقوامی دن‘‘ (International Day of Action for Rivers) کے موقع پر سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (گڈاپ شاخ) اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کی جانب سے کونکر لائبریری میں ایک خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس…
خوف، مزاحمت اور دیواروں میں قید گواہی
کل شام، اپنے گاؤں کے درختوں کے سائے میں اور فصلوں کے درمیان چلتے ہوئے، جب اچانک ایک اژدھے پر نظر پڑی، جسے ہم بھیڑیا ٹاؤن کہتے ہیں، تو ایک لمحے کو خوف سے آنکھیں بند ہو گئیں۔ یہی گاؤں، میری جنم بھومی، جس کے آنگن میں کبھی طرح طرح کے درختوں کی چھاؤں ہوا…
عوامی ہیرو دھرمیندر: ایک تجزیہ (حصہ ہفتم)
دھرمیندر اور دوہری نگاہ کی معیشت (Dual gaze economy) لورا مالوی کے فیمن اسٹ نظریے کا جب ہندی سینما پر اطلاق کیا جائے تو ہمارے سامنے دو نظریاتی سوالات کھڑے ہوجاتے ہیں ـ ایک؛ مارکسی سوال جو ثابت کرتا ہے امریکی سینما کے برعکس ہندی سینما میں بیانیے کی ملکیت…
ڈیوڈ آرنڈٹ کی نظر میں بہتر تحریری عمل کے پانچ مراحل
تحریر محض الفاظ کو کاغذ پر اتار دینے کا عمل نہیں، بلکہ یہ سوچ، احساس اور شعور کی ایک طویل ریاضت ہے۔ اچھی تحریر محض اتفاقاً نہیں لکھی جاتی؛ اس کے پیچھے وقت، مطالعہ، مسلسل نظرِ ثانی اور خود احتسابی کا عمل کارفرما ہوتا ہے۔ ڈیوڈ آرنڈٹ اس تحریر میں لکھنے کے…
ماں بولی (حصہ ہشتم)
ماں بولی کے اس مرحلے پر ہم برصغیر سے نکل کر اس کے گرد و نواح کی ریاستوں کی طرف دیکھتے ہیں، تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ زبان کو اختیار بنانے یا دبانے کے فیصلے قوموں کی تقدیر کس طرح بدل دیتے ہیں۔ اس حصے میں چین اور افغانستان دو ایسے تجربات ہیں جو ایک…
عوامی ہیرو دھرمیندر: ایک تجزیہ (حصہ ششم)
برٹش فلم اسکالر لورا مالوی (Laura Mulvey) کے طویل مضمون Visual pleasure and narrative cinema کو سینما کے فیمن اسٹ مطالعے میں سنگِ میل کا درجہ حاصل ہے ـ ان کے مطابق کمرشل سینما ”مردانہ نگاہ“ (male gaze) پر مبنی ہے ، کیمرہ، ہیرو اور فلمی بیانیہ مل کر عورت…
قرونِ وسطیٰ میں کون سی زبانیں استعمال ہوتی تھیں؟
قرونِ وسطیٰ کی دنیا لسانی اعتبار سے نہایت متنوع تھی، تاہم چند بڑی زبانیں ایسی تھیں جو مختلف خطّوں میں رابطے اور ابلاغ پر حاوی رہیں۔ یہ مضمون اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں کون سی زبانیں استعمال ہوتی تھیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں کس طرح…