عوامی ہیرو دھرمیندر: ایک تجزیہ (حصہ اول)
دھرمیندر ہندی سینما کے پہلے hyper-masculine تھے۔ یہ محض کوئی جذباتی یا غیر ثابت شدہ دعویٰ نہیں، بلکہ ہندی سینما میں اسٹار امیج کی تاریخ سے ثابت شدہ ہے۔ دھرمیندر کی اس شدید مردانگی جس میں مضبوط پٹھوں کی نمائش، غصیلا چہرہ، چوڑی چھاتی، تیس تیس غنڈوں کی…
ماں بولی (حصہ دوم)
میں مادری زبانوں کی حیثیت اور اہمیت پر لکھ رہا ہوں۔ بات اپنی ماں بولی کے درد کی ہے، مگر کسی بھی موضوع پر لکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اسے مکمل، تحقیقی اور وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔ زبان صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوتی، وہ اپنے پیچھے کوئی پورا معاشرتی ڈھانچہ،…
وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کیسے تباہ ہوئی؟ نئی سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے
ہزاروں برس پہلے، جب دریائے سندھ کے کنارے اینٹوں سے بنے منظم شہر آباد تھے، نکاسیِ آب کے شاندار نظام کام کر رہے تھے اور شہری زندگی اپنے عروج پر تھی، تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ عظیم تہذیب کسی جنگ، حملے یا اچانک قدرتی آفت کے بغیر، خاموشی…
ماں بولی (حصہ اول)
یہ یاد نہیں کہ جب پہلی بار اسکول بھیجا گیا تو ماحول کیسا تھا۔ دھندلی یادیں بس اتنا بتاتی ہیں کہ ایک سلیٹ، چاک، ایک کاپی، پینسل اور سندھی کی پہلی کتاب ساتھ تھی۔ کیا پڑھایا جاتا تھا، یہ یاد نہیں، مگر سندھی الف ب بڑی ترنم کے ساتھ پڑھائی جاتی تھی۔ ایک بلوچ…
گُگھر کی قیمتی رال، ماحول دشمنوں کے منہ سے بہتی لالچ کی رال اور عالمی تحفظ کی کہانی
کارونجھر اور کھیرتھر کے پتھریلے دامن میں اگنے والی ایک خاموش، کانٹوں بھری جھاڑی، گُگھر یا گگرال آخرکار دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ وہ پودا جس کی رال صدیوں سے حکما، ویدوں اور دوا سازوں کے لیے خزانے سے کم نہیں تھی، اب عالمی قانون کے حصار میں آ چکا ہے۔…
ندی کے زہر میں دفن تہذیب: ’سوناءِ کُوھر‘ کا المیہ
پہاڑی علاقوں کی وہ ندیاں، جو بارش کے بعد جنم لیتی ہیں اور جھرنوں کی صورت میں بہتے ہوئے نیچے کے میدانوں تک زندگی پہنچاتی ہیں، دراصل قدرت کا وہ خاموش تحفہ ہیں جن پر پورا ایک ماحولیاتی نظام قائم ہوتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی سے نکلنے والا شفاف پانی جب کئی کلومیٹر…
قانون سازی نہیں، ریتی بجری کی چوری ہی رکوا دو!
ملیر کی زرعی تہذیب کی ”رگِ جاں“ اور ”شہہ رگ“ وہ مخزنِ عظیم ہے، جس کا نام ”ریتی بجری“ ہے۔ اس عظیم الشان زرعی تہذیب کے زوال کی اصل وجہ ملیر کی ندیوں سے وسیع پیمانے پر ریتی بجری کے اخراج اور چوری کا بھیانک عمل ہے، جو اربوں روپے کا کالا کاروبار ہے۔ فطری…
منچھر جھیل: خاموش زہر اور ڈوبتی تہذیب کی المناک کہانی
منچھر جھیل صرف ایک آبی ذخیرہ نہیں، بلکہ سندھ کی تاریخ میں رچی بسی ایک زندہ تہذیب تھی، مگر آج یہ جھیل ایک ایسا کھلا زخم بن چکی ہے جس پر برسوں سے سرد مہری اور خاموشی کی پٹی باندھی جا رہی ہے۔ کبھی تقریباً اڑھائی سو مربع کلومیٹر پر پھیلی یہ میٹھے پانی کی…