کھنڈر سے برآمد ہوئی نامعلوم شاعر کی ایک نظم
امر گل شہر کے بیچوں بیچ ایک پرانا برگد تھا۔ اس کی جڑوں میں مٹی نہیں، مہر شدہ سرکاری فائلیں دبی تھیں جن میں انسانوں کی خاموشی لپٹی تھی۔ عجیب برگد تھا جس کے پتے زرد نہیں ہوتے تھے، صرف رنگ بدلتے تھے: کبھی آئینی سبز، کبھی قانونی نیلا، کبھی اقتدار کا سنہری۔…
ایک نظم، جو سات سو برس تک ’بلیک ڈیتھ‘ کے بارے میں غلط فہمی کی بنیاد بنی رہی!
اگر آپ سے کہا جائے کہ سات سو سال تک دنیا کے سب سے بڑے تاریخی سانحے، ’طاعونِ اعظم‘ (Black Death) کے پھیلاؤ سے متعلق جو کچھ ہم جانتے رہے، وہ دراصل ایک ادبی نظم کی غلط تشریح تھی۔۔۔ تو کیسا لگے گا؟ تاریخ کے اوراق میں کبھی کبھی سچ خاموش رہ جاتا ہے اور…
شہباز شریف کے بعد اب فیفا کے سربراہ جیانی انفانتینو بھی۔۔
شرم الشیخ کی گہما گہمی، ماحول میں کیمرے، فلیش لائٹس، سرکاری پروٹوکول۔ جب دنیا کے رہنماؤں نے امن کے دعووں کے ساتھ اسٹیج سجا رکھا تھا، اچانک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر روک کر پیچھے کھڑے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو بلوا لیا۔ مائیک کے قریب…
ہجامڑو کریک کے سمندری جنگلات، زرمبادلہ اور ماحولیاتی توازن کا ذریعہ
کچھ روز قبل ہمیں سندھ کے ساحلی علاقے ’ہجامڑو کریک‘ کا دورہ کرنے کا موقع ملا، جو کراچی کے جنوب مشرق میں واقع ایک اہم ماحولیاتی مقام ہے۔ یہ علاقہ انڈس ڈیلٹا کا حصہ ہے اور یہاں مینگروز کے گھنے جنگلات، ساحلی حیاتیات اور مقامی ماہی گیر برادری کی زندگی کا…
آپ کا اگلا کمپیوٹر شاید کسی کھاد کے ڈھیر میں اُگے گا۔
ذرا لمحہ بھر کو تصور کیجیے کہ آپ کے باورچی خانے کے کاؤنٹر پر رکھا ہوا ایک مشروم نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ ڈیٹا بھی محفوظ کر رہا ہے، ردِعمل دے رہا ہے، اور وقت کے ساتھ ”سیکھ“ رہا ہے۔۔ یہ محض سائنسی افسانہ نہیں، بلکہ اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک حیران کن…
ملیر اور کارپوریٹ سامراج کی نئی یلغار
اگر ملیر کی تاریخ کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ علاقہ آج بھی نوآبادیاتی کالونیل ازم کے دائرے میں سامراجی طاقتوں کی پیدا کردہ سازشی حالات سے گزر رہا ہے۔ برطانوی سامراج بظاہر تو اس سرزمین سے رخصت ہوگیا، لیکن درحقیقت اس نے اپنے دلالوں کو…
پرندوں کے صبح کے گیت کا راز اور سائنس
سورج ابھرنے کے لیے ابھی راستے میں ہوتا ہے لیکن اس کے روشن قدموں کی آہٹ پا کر فضا میں ایک سرگوشی گونجنے لگتی ہے، پرندوں کا اجتماعی نغمہ۔ یہ وہ لمحہ ہے جب زمین، ہوا اور روشنی ایک ساتھ جاگتے ہیں۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ آخر پرندے طلوعِ آفتاب سے پہلے اتنی…
یہاں غربت کے کفن پر ترقی کا اشتہار چَھپتا ہے۔۔
بچپن میں ہم ایک کھیل کھیلتے تھے، جس میں ایک اور پھر دوسرے ہاتھ کا انگوٹھا، جو اس وقت ابھی محض ٹھینگا ہی ہوا کرتا تھا، کسی کو دکھا کر ترنم سے کہتے تھے، ”اسے کھا لو، اسے رکھ لو۔۔“ آج یہی کھیل ہمارے ساتھ حکمراں اشرافیہ، ایلیٹ کلاس کھیل رہی ہے جو اعداد و…