دو گز زمین (روسی ادب سے منتخب شاہکار افسانہ)
پیام ایک غریب کسان تھا، جو تین ایکڑ زمین کے ایک ٹکڑے کو کاشت کرکے اپنے خاندان کو پال رہا تھا۔ ایک دن ماسکو سے اس کی بیوی کی بڑی بہن اس کے گاؤں آئی۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد دونوں بہنیں باتوں میں مصروف ہو گئیں۔ ان کی باتیں ختم ہوتے کا نام…
پریتو (افسانہ)
”تو یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے؟ پکا؟“ ”ہاں پکا!“ پریتو نے بڑی شد و مد سے سر ہلایا. ”وہ جانتا ہے تمہارے شوق کے متعلق؟“ سلطانہ نے کٹار جیسا سوال کیا ”ہاں! اسے کوئی اعتراض بھی نہیں؟“ سلطانہ بھونچکا رہ گئی. ارے بھئی اس کی محبت میں میں سب چھوڑ دوں گی نا…“…
شہر دو قصہ – 10 (آخری)
پنڈولے کا پیالہ طالبِ علمی کے زمانے میں کھانے کے معاملے میں بڑے نفاست پسند تھے۔ دو پیازہ گوشت، لہسن کی چٹنی، سری پائے، کلیجی، گُردے، کھیری اور مغز سے انہیں بڑی کراہت آتی تھی۔ دسترخوان پر ایسی کوئی ڈش ہو تو بھوکے اٹھ جاتے۔ اس ”وزٹ“ میں ایک جگہ میرے اعزاز…
قصہ دو شہر – 9
اونٹ کی مستی کی سزا بھی مجھی کو ملی یہ تو غالباً پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ بڑے حاجی صاحب یعنی تجمل کے والد، تانگا اور موٹر کار رکھنے کو تکبر اور کاہلی کی علامت سمجھتے تھے۔ سائیکل اور اونٹ کی سواری پر البتہ تعرض نہ کرتے۔ اس لیے کہ ان کا شمار وہ…
قصہ دو شہر – 8
چریا مُلا عاصی کے کھٹ مٹھے مزاج کا اندازہ ایک واقعے سے لگائیے جو ایک صاحب نے مجھے سنایا۔ ان کے پڑوسی نے کئی مرتبہ شکایت کی ” آپ کے کرایہ دار نے ایک نئی کھڑکی نکال لی ہے جو میرے دالان میں کھلتی ہے۔ مستورات کی بے پردگی ہوتی ہے۔ ” انہوں نے کوئی…
قصہ دو شہر – 7
روز اک تازہ سراپا نئی تفصیل کے ساتھ پروفیسر قاضی عبدالقدوس، ایم اے، ہر صفحے پر اسٹرپ ٹیز کرتی ہوئی ان مخدراتِ عصمت کے تذکرے کو ہرزہ سرائی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہرزن سرائی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ آپ نے بہت اچھا کیا، اپنے پندرہ بیس ملکوں اور ایک ہزار صفحوں پر…
قصہ دو شہر – 6
آسمان سے اُترا، کوٹھے پہ اٹکا معاف کیجیئے، یہ قصہ شاید میں پہلے بھی سنا چکا ہوں.. آپ بور تو نہیں ہو رہے؟ ہر بار تفصیلات میں کچھ فرق آ جائے تو حافظے کا قصور ہے۔ غلط بیانی مقصود نہیں۔ باوا سے کبھی ہم ناٹک دیکھنے کی فرمائش کرتے تو وہ منیجر کو رقعہ لکھ…
قصہ دو شہر – 5
اور صاحب، مول گنج دیکھ کے تو کلیجا منھ کو آنے لگا۔ یہاں بازارِ حُسن ہوا کرتا تھا۔ آپ بھی دل میں کیا کہتے ہوں گے کہ عجیب آدمی ہے۔ ڈبل حاجی، ماتھے پر گٹا، مگر ہر قصے میں طوائف کو ضرور کانٹوں میں گھسیٹتا ہے۔ کیا کروں۔ ہماری نسل تو ترستی پھڑکتی ہی بوڑھی…