کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ)-تیسری قسط
مجھے مارنے کے لئے محمد فہیم کو بھی صرف ایک گولی چلانی تھی ۔ اگر وہ اپنے کام میں ماہر ہوتا تو شاید سیکنڈز کے ہزارویں حصہ میں یہ کام کر سکتا تھا لیکن وہ خود مارا گیا ۔ میں نے تصاویر بنانے کے بعد اپنا کیمرہ واپس گاڑی میں رکھ دیا ۔ اتنی دیر…
کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ)
اس کے بعد پیش آنے والے واقعات اور حالات کے بارے میں، میں آپ کو اپنے ماضی کے مختصر تذکرے کے بعد بتاتا ہوں… بگ سٹون کیپ ورجینا، (1979 ) جہاں میں پیدا ہوا، وہاں زندگی اتنی بھی آسان نہیں تھی۔ میرے والد وہاں کوئلہ کی صنعت میں کام کرتے تھے اور وہیں وہ…
کرائے کا فوجی (ریمنڈ ڈیوس کی کتاب The Contractor کا اردو ترجمہ)
❖ اپنی اس کتاب میں ریمنڈ ڈیوس نے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں اس کتاب میں اس نے لکھا ہے کہ وہ کس طرح گرفتار ہوا اور پھر کس طرح رہا ہوا. ریمنڈ ڈیوس لکھتا ہے کہ 23 جنوری 2011 کو لاہور میں دو نوجوان اچانک میرے سامنے آگئے میں سمجھا وہ مجھے قتل کرنا…
عالی جاہ کو دی گئی بریفنگ
امر گل عالی جاہ! اشرافیہ نے ہمارے خزانے کی ساری اشرفیاں محافظوں کو ساتھ ملا کر اپنی تجوریوں میں منتقل کر دی ہیں… عالی جاہ..! ہمارے خزانے میں مضبوط معیشیت کے بڑے بڑے اشتہار بھاری تعداد میں سخت نوٹیس اور مذمتیں، محب الوطنی اور غداری کے استعمال شدہ…
ملک ریاض! یہ وطن تمہارا ہے ہم ہیں خوامخواہ اس میں…
حکومت تمہاری ہے سیاستدان تمہارے ہیں ایمان تمہارا ہے ایوان تمہارا ہے میڈیا تمہارا ہے اخبار تمہارے ہیں خبریں تمہاری ہیں زمیں تمہاری ہے قبریں تمہاری ہیں… منظر تمہارے ہیں پس منظر تمہارا یے نظارے تمہارے ہیں ادارے تمہارے ہیں فوجیں تمہاری ہیں موجیں تمہاری…
”بحریہ“ میں ہے ”تلاطم“ کہ سندھ آتا ہے
میڈیا کے روبرو وہ کس ڈھٹائی سے جھوٹ بول رہا تھا ”نوٹس لیا ہے سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے ملیر والوں کو پورا حق ملنا چاہئیے“ اس وقت اس کے گلے سے بینظیر نہیں بلکہ زرداری بول رہا تھا وہ جو سندھ کے پ پ پرست قومپرستوں کی آخری امید ہے کیا اس کو…
مہلب
پتہ ہے جب تم صبح اٹھ کر گھر کی کھڑکیاں کھولتی ہو، گھر کی ایک کھڑکی کے قریب باہر لگا گلاب کا پودا، ہاں وہی گلاب کا پودا برسات کے موسم میں تمہارے گلابی رخساروں کی طرح جس کی ٹہنیوں پر سرخ پھول کھلتے تھے… اب کے بھی اس پر اسی طرح پھول کھلے اور…
ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﻭﻗﺖ ﭼﭗ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ!
ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ لیے گئے ﺍﺩﮨﺎﺭ ﮐﮯ ﺭﺟﺴﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﻧﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺿﮧ ﭼﮑﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻡ ﻣﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻭﮦ ﻻﭨﮭﯽ ﮐﮯ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﭼﻠﺘﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺿﻌﯿﻒ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮫ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺩﮬﮍﮎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ… ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﻭﮦ ﻟﮑﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑَﭩﯽ ﺩﻧﯿﺎ…