
موجودہ زمانے میں چاہے نظریاتی ریاستیں ہوں یا جمہوری ریاستیں، دونوں میں نصاب کے ذریعے طالبِ علموں کی مینوفیکچرنگ کی جاتی ہیں۔ اِنہیں علم کا وہ حصّہ پڑھایا جاتا ہے جو ریاست کے مُفاد میں ہو۔ علم کا وہ حُصول جو عالمی معلومات سے متعلق ہو اور جس میں مُختلِف اقوام کی تاریخ اور کلچر ہو، اِس علم کو نصاب سے دُور کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس تعلیمی نِصاب میں قوم پرستی اور وطن پرستی کے جذبات شِدّت کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔
امریکہ کی نصابی کتابوں میں یکطرفہ معلومات دی گئیں ہیں۔ اِس میں یورپ سے آنے والے نوآبادکاروں کی محنت و مُشقت کا ذِکر ہے، مگر غلامی کے ادارے کے بارے میں خاموشی ہے۔ ریڈ انڈین کے قتل عام کا بھی کم ہی ذکر ہے۔ تاثر یہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جیسے امریکہ سفید فام نسل کو تحفے میں مِلا تھا، جسے اُنہوں نے اپنی محنت و لیاقت سے سرسبز و شاداب کیا۔
امریکی مصنف Randall Curran اور Charles Dorn نے اپنی کتاب Patriotic Education in a Global Age میں تعلیم میں وطن پرستی پر زور دیا ہے۔ جبکہ عالمگیریت قوم اور وطن پرستی کے خلاف ہے اور یہ قومی کلچر کے خاتمے کی حامی ہے۔ اس کتاب کے مصنفین کی دلیل یہ ہے کہ وطن پرستی امریکی معاشرے کے لیے ضروری ہے کیونکہ وطن پرستی کے جذبات معاشرے کی اصلاح کریں گے۔ لوگ اس کی محبت میں ذاتی مُفادات کو ختم کر دیں گے اور اس کی بنیاد پر سیاسی، سماجی اور معاشی بحرانوں کا مُقابلہ کریں گے۔
مُصنفین کا خیال ہے کہ وطن پرستی کے جذبات کا ہونا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اس کی وجہ سے لوگوں میں باہمی روابط پنپتے ہیں، معاشرے کو صحتمند رکھنے کے لیے قانون کی پابندی کی جاتی ہے، جرائم اور بدعنوانیوں کو روکا جاتا ہے اور معاشرے کے کلچر کو ترقی دینے کے لیے اَدب، آرٹ، موسیقی تعمیرات اور مجسمہ تراشی میں اضافے کیے جاتے ہیں۔
جب قومی کردار کی تشکیل ہوتی ہے، تو ہر فرد کو اس کا احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے کردار سے قومی تصور کو خراب نہ کرے۔ جو قومیں اپنے قومی کردار کی حامی ہوتی ہیں، انہیں دنیا میں عزت حاصل ہوتی ہے، لہٰذا شہریت کا تعلق وطن سے ہوتا ہے۔ کسی سیاستدان نے کہا تھا کہ جو افراد خود کو عالمی شہری سمجھتے ہیں، وہ کہیں کے بھی شہری نہیں ہوتے اور نہ ہی اُن کی کوئی شناخت ہوتی ہے۔
لیکن وطن پرستی کے دوسرے پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے، کیونکہ حکمراں طبقے وطن پرستی کے جذبات کو استعمال کرتے ہوئے عوام کو اپنے سامراجی عزائم میں شامل کر لیتے ہیں اور یہ کہاوت مشہور ہو جاتی ہے کہ میرا مُلک صحیح ہو یا غلط، وہ میرا مُلک ہے۔۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ اَمرتسر میں جَلیاں والے باغ کا قتل ہو، وطن پرست انگریز اُس کی حمایت کرتے ہیں۔ ویتنام میں مائی لائی کا قتل عام ہو، امریکہ معاشرہ اُس پر احتجاج نہیں کرتا ہے۔
اِس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وطن پرستی معاشرے کے داخلی معاملات میں سماجی اصلاحات کو فروغ دیتی ہے، لیکن یہ کسی تنقید کو برداشت نہیں کرتی ہے، اور اس کے ناقِد غدار ہو جاتے ہیں، لیکن خارجی معاملات میں وطن پرستی کسی اخلاقیات کا خیال نہیں رکھتی اور اپنے مُلک کی مُفادات کی خاطر ہر ظُلم و ستم کو جائز قرار دیتی ہے۔
اِس وجہ سے تعلیمی نصاب میں وطن پرستی کو شامل کرتے ہوئے سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ کس حد تک معاشرے کے لیے مُفید ہے اور کس حد تک اس کو استعمال کر کے ترقی پسند تحریکوں کو روکا جاتا ہے۔ وطن پرستی کا ایک اَلمیہ یہ ہے کہ اس میں تاریخ کو مَسخ کیا جاتا ہے اور مورخوں کی کوشش ہوتی ہے کہ قوم کی غلطیوں اور کمزوریوں کو چھپایا جائے۔ اس کی وجہ سے ایک عرصے تک قومیں اپنی غلطیوں سے واقف نہیں ہوتیں ہیں۔ اس سلسلے میں سینسر شِپ عائد کر دی جاتی ہے اور کتابوں کی اشاعت پر پابندیاں لگا دی جاتیں ہیں، لیکن یہ پابندیاں وطن پرستی کے نام پر قوم کو گمراہ کرتیں ہیں۔ جب حکومتیں وطن پرستی کے نام پر اپنی قوم کو لاعِلم رکھیں گی تو قوم میں کبھی بھی اپنی کمزوری کا احساس نا ہوگا اور نہ ہی اپنی غلطیاں دُور کرنے کی کوئی کوشش ہو گی۔
وطن پرستی کا جذبہ اگر تعلیم کے ذریعے شِدّت کے ساتھ نوجوانوں میں پیدا کر دیا جائے، تو یہ دوسرے تمام نظریات کو رَد کر دیتا ہے اور معاشرے کو محدود دائرے میں اَسیر کر دیتا ہے۔
بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)