جب اسرائیل نے عراقی یہودیوں کو تل ابیب منتقل کرنے کے لیے فضائی پل قائم کیا۔۔

دنیا کے طاقتور ممالک کی مدد سے سرزمینِ فلسطین پر قبضے کے نتیجے میں اسرائیل کے قیام کے بعد دنیا بھر سے یہودیوں کو اس سرزمین پر بسانے کا آغاز ہوا، جس کے تحت یورپ کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں آباد یہودیوں نے بھی یہاں کا رُخ کیا

یہ ’ہولوکاسٹ‘ کے بعد یہودیوں کے لیے ایک ایسے ملک کی بنیاد تھی، جہاں وہ خود کو مکمل طور پر محفوظ تصور کر سکتے تھے

دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح پچاس کی دہائی میں عراق سے بھی یہودیوں کی اسرائیل نقل مکانی کا آغاز ہوا اور بڑی تعداد میں عراقی یہودیوں کو تل ابیب منتقل کیا گیا

2021ع کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت عراق میں صرف تین یہودی باقی ہیں۔
اس حوالے سے العربیہ نیٹ نے ان واقعات کی منظرکشی کی ہے، جب اسرائیل نے عراق سے یہودیوں کے انخلا کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے یہودیوں کو اسرائیل لانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے، جن کے تحت فضائی راستوں کے ذریعے عراق سے یہودیوں کو تل ابیب منتقل کیا گیا

اسرائیل نے 5 جولائی 1950 کو یہودیوں کی اسرائیل منتقلی کا قانون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر عمل کرتے ہوئے دنیا بھر میں مقیم یہودیوں کو اسرائیل آ کر بسنے کے لیے کہا گیا

حکام کی جانب سے اسرائیل آنے والے یہودیوں کو فوری طور پر شہریت دینے کے علاوہ ان کی رہائش کے انتظامات کے حوالے سے بھی ہنگامی بنیادوں پر کام کیا گیا

نقل مکانی کے قانون میں اس امر کی خاص طور پر نشاندہی کی گئی کہ دنیا بھر سے آنے والے یہودیوں کے لیے تمام رکاوٹیں ختم کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ انہیں جلد از جلد اسرائیل میں آباد کیا جا سکے

یہودی مائیگریشن قانون

عراقی یہودیوں کا شمار دنیا کی قدیم ترین یہودی آبادیوں میں کیا جاتا ہے۔ 1950 کے اوائل میں عراق کے یہودیوں میں ڈاکٹرز، وکیل اور اسی قسم کے اعلیٰ پیشوں پر کام کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود تھی

اعلیٰ تعلیم یافتہ عراقی یہودیوں کو اسرائیل میں لا کر آباد کرنا اسرائیلی حکام کی سب سے بڑی خواہش تھی، جسے مدنظر رکھتے ہوئے 1950 میں قانون سازی کی گئی تاکہ عراقی یہودیوں کے پڑھے لکھے طبقے کو اسرائیل میں لاکر آباد کیا جا سکے

اسرائیلی ریاست کے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی عراق نے 1940 کی دہائی کے اواخر میں ایسے قوانین نافذ کیے، جن کے تحت یہودیوں کی نقل مکانی پر پابندی عائد کر دی گئی

اس کے ساتھ ہی بغداد میں صہیونی تحریک کو وطن دشمنی پر مبنی تحریکوں کی فہرست میں شامل کیا جاچکا تھا، جس کے بعد ان تمام یہودیوں کا ریکارڈ مرتب کیا گیا، جو اس تنظیم سے وابستہ تھے

بعدازاں عراق سے نقل مکانی کرنے والے یہودیوں کو قید کرنے کے احکامات صادر ہوئے، جس کے بعد ایسے افراد کے خلاف کارروائی شروع کی گئی

1950 میں جب اسرائیلی حکام کی جانب سے مائیگریشن کا قانون منظور ہوا تو عراقی یہودیوں کی وطن واپسی کے لیے اسرائیلی حکومت نے عراقی حکام سے مذاکرات کا آغاز کیا

1951 کے آغاز میں عراقی حکومت نے یہودیوں کو مشروط نقل مکانی کی اجازت دی، جس کے تحت یہودیوں پر مختلف پابندیاں عائد کی گئیں، جن کے تحت کوئی بھی یہودی اپنے ساتھ 140 ڈالر سے زیادہ رقم نہیں لے جاسکتا تھا

علاوہ ازیں ذاتی سامان لے جانے پر بھی پابندی عائد تھی۔ اس قانون کے تحت وہ اپنے ساتھ 66 پونڈ وزن سے زیادہ کا سامان بھی نہیں لے جا سکتے تھے

یہودیوں پر یہ پابندی بھی عائد تھی کہ وہ اپنے ساتھ قیمتی زیورات نہیں لے جا سکتے تھے

عائد کردہ شرائط کے حوالے سے عراقی حکام کا خیال تھا کہ یہودی ان شرائط پر عمل کرنے سے ہچکچائیں گے اور واپسی کے خیال سے دستبردار ہو جائیں گے

ان سخت شرائط کے باوجود عراقی حکام یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ عراقی یہودیوں کی بڑی تعداد نے نقل مکانی کی تیاریاں شروع کر دیں اور مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد فوری طور پر نوے ہزار عراقی یہودیوں نے اپنے ناموں کا اندراج نقل مکانی کرنے والوں کی فہرست میں درج کروا دیا

 فضائی پل

یہودیوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے حوالے سے عراقی حکام کو یہ خدشہ تھا کہ اگر نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد آٹھ ہزار سے تجاوز کر گئی تو ریاستی انتظامیہ کو شدید خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا

دوسری جانب اسرائیل نے بڑی تعداد میں عراقی یہودیوں کو فضائی راستے سے قبرص پہنچایا، جہاں سے انہیں تل ابیب منتقل کیا گیا

عراقی یہودیوں کو لانے کے لیے اسرائیل کی جانب سے نقل مکانی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ’فضائی پل‘ قائم کیا گیا، تاکہ مسلسل پروازوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ تعداد میں عراقی یہودیوں کو اسرائیل پہنچایا جاسکے۔
اس حوالے سے جو آپریشن شروع کیا گیا تھا، اسے ’عذرا‘ اور’نحمیاہ‘ کا خفیہ نام دیا گیا

1952ع کے آغاز تک عراقی یہودیوں کی بڑی تعداد کو تل ابیب منتقل کیا جا چکا تھا اور عراق میں صرف چھ ہزار یہودی باقی رہ گئے تھے

عراق میں عبدالکریم قاسم کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی بہت سے عراقی یہودی اسرائیل منتقل ہو چکے تھے۔ 1968 تک عراق میں باقی رہنے والے یہودیوں کی تعداد تقریبا دو ہزار رہ گئی تھی

عراقی یہودیوں کی تعداد میں روز بہ روز کمی آرہی تھی۔ سال 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت عراق میں صرف تین یہودی مقیم ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close