Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

اب عام کمپیوٹر پر پورے انسانی جینوم کی پروسیسنگ منٹوں ممکن

By Akhtar Rasool
ستمبر 21, 2021 2 Min Read
0

بوسٹن : اب تک دستیاب وسائل سے انسانی جینوم کو پڑھنے اور پروسیسنگ میں بہت وقت لگتا ہے، لیکن اب ایک انقلابی ٹیکنالوجی کی بدولت عام پرسنل کمپیوٹر پر صرف چند منٹوں میں ہی انسانی جینوم کی پروسیسنگ کا پورا عمل انجام دینا ممکن ہے

اس ضمن میں ملنے والی تفصیلات کے مطابق میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور فرانس کے پاسچر انسٹی ٹیوٹ نے انسان سمیت دیگر جانداروں کے مکمل جینوم کو پڑھنے اور تشکیل دینے کی نئی ٹیکنالوجی وضع کی ہے

اس میں روایتی طریقوں کے مقابلے میں صرف بیس فیصد وسائل استعمال ہوتے ہیں لیکن جینوم پڑھنے کا کام سو گنا تیزرفتاری سے ہوتا ہے۔ اس کی تمام تفصیلات سیل نامی جرنل میں 14 ستمبر کو شائع ہوئی ہے

ایم آئی ٹی میں مصنوعی ذہانت کی تجربہ گاہ سے وابستہ پروفیسر بونی برجر کہتے ہیں کہ اس طرح ایک جدید لیپ ٹاپ پر پورا جینوم اور میٹا جینوم معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس کی بدولت معدے کے خردنامیوں اور اس سے وابستہ بیماریوں کی فوری طور پر جینیاتی وجوہ معلوم کی جاسکتی ہیں

یہاں اس بات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ 2003ع میں جب پہلا انسانی جینوم پڑھا گیا تھا، تو اس میں دس برس لگے تھے اور دو ارب ستر کروڑ ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہوئی تھی۔ اب ایم آئی ٹی اور پاسچر کے ماہرین نے پھل مکھی یعنی ڈروزوفیلا کے جینوم کو پڑھا اور دوسری جانب پہلے سے موجودانسانی جینوم کے پورے ڈیٹا کو پروسیس کیا۔ انہوں نے ایم ڈی بی جی سافٹ ویئر پرکام کیا تو روایتی طریقوں سے 33 گنا کم وقت خرچ ہوا اور میموری بھی 8 گنا کم خرچ ہوئی

اس کے بعد انہوں نے اپنا تیارکردہ سافٹ ویئر آزمایا، جس میں 661406 بیکٹیریا کے جینوم پڑھے گئے، جس کا ڈیٹا بہت ہی بڑا تھا۔ اس ٹیکنالوجی سے پورا ڈیٹا 13 منٹ میں سرچ کرلیا گیا جبکہ روایتی طریقوں سے اس میں سات گھنٹے کا وقت لگ سکتا تھا۔ اس میں غلطی کا احتمال ایک فیصد تک سامنے آیا.

سائنس و ٹیکنالوجی بارے خبریں:

پچاس اقسام کے کینسر شناخت کرنے والا بلڈ ٹیسٹ

کیا آپ کے گھر کی دیواروں کا پینٹ واقعی سفید ہے؟ دوبارہ سوچیے

جیب میں سما جانے والا جدید الٹراساؤنڈ نظام

مصنوعی گردہ، جو مستقبل میں ڈائیلیسس مشین کی جگہ لے سکے گا

ازخود بجلی بنانے والا مصنوعی دانت

پاکستانی کمپنی نے معذور افراد کے لیے مشینی بازو تیار کرلیا

اب فیسبک کی طرح واٹس ایپ پر بھی کاروبار اور خریداری کریں

Tags:

Genome ProcessingHuman GenomeMIT UniversityPersonal Computer
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

انسانی جلد میں نئی قسم کے سیلز کی موجودگی کا انکشاف

Next

برگر کھانے کے دوران خاتون کے منہ میں انسانی انگلی آگئی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme