Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Account-of-the-hearing-of-the-petition-against-the-harassment-of-Baloch-protesters-by-the-police-in-the-Islamabad-High-Court
قومیاہم ترینتازہ ترینخبریں

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پولیس کی جانب سے بلوچ مظاہرین کو ہراساں کیے جانے کے خلاف درخواست کی سماعت کا احوال

By Akhtar Rasool
جنوری 5, 2024 4 Min Read
0

بلوچ مظاہرین کی اسلام آباد پولیس کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد پولیس انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ بلوچ مظاہرین کو ہراساں نہ کیا جائے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ”قانون ہوتا تو یہ بلوچستان سے یہاں آتے؟ عورتیں بچے ان کو کچھ ہوا تو انتظامیہ پولیس کی ذمہ داری ہوگی۔“

یہ درخواست سمی دین بلوچ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ سماعت میں ان کے وکیل عطاءاللہ کنڈی، ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اسلام آباد عرفان نواز میمن اور ایس ایس پی آپریشنز عدالت کے سامنے پیش ہوئے

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے مؤقف اپنایا کہ راؤنڈ دا کلاک ساؤنڈ سسٹم تو استعمال نہیں کر سکتے، دوسرے شہریوں کے بھی حقوق ہیں

نمائندہ آئی جی اسلام آباد آفس نے عدالت کو بتایا، ”اسپیکرز کوئی نامعلوم افراد لے گئے، ان کا آپس میں کوئی جھگڑا ہوگا“ جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نامعلوم افراد کی وجہ سے یہ بھائیوں، بیٹوں کو یہاں ڈھونڈ رہے ہیں

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو بھی سمجھ نہیں آتی، ہم معاملات کہاں لے کر جا رہے ہیں

نمائندہ آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ یہ کوئی چیز لے کر آئیں تو ہمیں دکھائیں۔

وکیل عطاءاللہ کنڈی نے کہا کہ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس چیز کی اجازت نہیں این او سی لے کر آئیں، ہم فوکل پرسن رکھنے کے لیے تیار ہیں لیکن یہ تنگ کر رہے ہوتے ہیں

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سیکیورٹی کے لیے واک تھرو گیٹ بھی یہ لگا سکتے ہیں، یہ دیگ میں بھی ہاتھ ڈال کر چاول بھی چیک کرتے ہیں، قانون بھی کچھ ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ قانون ہوتا تو یہ بلوچستان سے یہاں آتے، عورتیں بچے ان کو کچھ ہوا تو انتظامیہ پولیس کی ذمہ داری ہوگی

جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ مظاہرین کو تحفظ دینا بھی پولیس انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔

سمی دین بلوچ نے عدالت کو بتایا کہ پندرہ سال سے میرے والد لاپتا ہیں، ایس ایچ او کا رویہ بڑا عجیب ہے، ہم اسلام آباد آئے ہیں اور ہمارے ساتھ یہ رویہ ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد پولیس انتظامیہ کو ہدایت کی بلوچ مظاہرین کو ہراساں نہ کریں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ جن کے بھائی باپ بیٹے گمشدہ ہیں، وہ وہی جانتے ہیں ان پر کیا گزر رہی ہے، شاہراہ دستور ڈی چوک یہاں تو زندگی گزر گئی, لوگ احتجاج کرتے ہیں۔

عدالت نے مظاہرین کو بھی ہدایت کی کہ آپ بھی کوئی ایسی صورتحال پیدا نہ کریں، کس سے آپ کے مقصد پر حرف آئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا یہ لوگ کیمپ میں ہوتے ہیں، واش رومز کیا کوئی سہولت ہے؟ جس پر ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ وہاں کیمپ لگے ہیں، واش رومز نہیں ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ خواتین ہیں بچیاں ہیں، ایڈمنسٹریٹو ایم سی آئی کو ہدایت دے دیتے ہیں کہ وہ سہولت فراہم کرے، ایسا بالکل نہیں ہوگا کہ ایس ایچ او کسی خاتون کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کو فوکل پرسن مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آج تین بجے بلوچ مظاہرین کے فوکل پرسن پولیس انتظامیہ سے ملیں گے، پولیس اور انتظامیہ بھی ملاقات کرکے ٹی او آر طے کرے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ عارضی واش رومز کے لیے آج سی ڈی اے کو ہدایت دوں گا۔

بعد ازاں، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 19 جنوری کے لیے ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ 3 جنوری کو بلوچ مظاہرین نے اسلام آباد پولیس کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایچ او کوہسار کو فریق بنایا گیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی عدالت فریقین کو بلوچ مظاہرین کو ہراساں کرنے اور پریس کلب سے بےدخل کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کرے۔

مزید استدعا کی گئی کہ فریقین کو بلوچ مظاہرین سے اسپیکر چھیننے والے نامعلوم افراد کی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا جائے۔

درخواست گزار نے استدعا کی تھی عدالت فریقین کو بلوچ مظاہرین سے چھینے گئے اسپیکر اور غیر قانونی طور پر ضبط کی گئی، گاڑیاں واپس کرنے کے احکامات جاری کرے۔

بعد ازاں، 3 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل پریس کلب سے بلوچ مظاہرین کو ہٹانے سے روکنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت آج (5 جنوری) تک کے لیے ملتوی کی تھی۔

واضح رہے کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف بلوچ خواتین کی قیادت میں 21 دسمبر کو وفاقی دارالحکومت پہنچنے والے لانگ مارچ کے شرکا کے خلاف اسلام آباد پولیس نے رات گئے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تمام بلوچ مظاہرین کو گرفتار کر لیا تھا

لانگ مارچ 20 دسمبر کو وفاقی دارالحکومت کے مضافات میں پہنچا تھا تاہم اسلام آباد پولیس نے مظاہرین کو نیشنل پریس کلب تک پہنچنے سے روکنے کے لیے شہر کے داخلی راستوں سمیت اہم راستوں پر ناکہ بندی کر دی تھی۔

اسلام آباد پولیس نے بلوچ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، پولیس نے آپریشن 26 نمبر چونگی اور نیشنل پریس کلب کے باہر کیا، اس دوران مظاہرین کے لگائے گئے ٹینٹ اور ساونڈ سسٹم اکھاڑ دیے گئے۔

پولیسں نے واٹر کنین سے مظاہرین پر پانی بھی پھینکا، سیکٹر ایف سکیس میں آنسو گیس کی شیلنگ سے گھر میں موجود لوگ شدید متاثر ہوئے، بلوچ مظاہرین کے خلاف پولیس نے کریک ڈاؤن رات کے پچھلے پہر کیا۔

بعد ازاں گرفتاری کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچا تھا جس نے گرفتار مظاہرین کی رہائی کے احکامات دیے تھے، جبکہ حکومتی وزرا کی کمیٹی نے مظاہرین سے ملاقات کی تھی اور جائز مطالبات ماننے کی یقین دہانی کرائی تھی

Tags:

arrest of baloch protestersarrested baloch protestersBALOCHbaloch activists protestbaloch demonstratorsbaloch protestbaloch protest in islamabadBaloch protestersbaloch protesters aggressive behaviorbaloch protesters at national press clubbaloch protesters behaviorbaloch protesters in islamabadbaloch protestorsbaloch protestsbaloch protests in islamabaddetained baloch protestersdr mahrang balochmahrang balochmahrang baloch protest
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Can-cars-be-cheaper-in-Pakistan-for-the-next-six-months
Previous

کیا پاکستان میں آئندہ چھ ماہ تک گاڑیاں سستی ہو سکتی ہیں؟

What-changes-is-Microsoft-making-to-the-computer-keyboard-after-thirty-years
Next

مائکرو سافٹ تیس سال بعد کمپیوٹر کی-بورڈ میں کیا تبدیلی کر رہی ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme