Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

انسانوں اور آکٹوپس کے دماغ کے جینز کی مشترکہ خصوصیات

By Akhtar Rasool
جون 29, 2022 2 Min Read
0

ارتقائی حیاتیات ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انسان اور زمین پر موجود دیگر جانداروں کے درمیان کچھ نا کچھ خصوصیات مشترک ہوتی ہیں

اب ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسان اور آکٹوپس کے دماغ میں موجود ’جمپنگ جینز‘ مشترک ہوتے ہیں

انسان کے جینوم کے 45 فیصد سے زیادہ ٹرانسپوسن نامی کڑیوں سے بنتے ہیں۔ یہ ٹرانسپوسن وہ ’جمپنگ جینز‘ ہوتے ہیں، جو جینوم میں ایک جگہ سے دوسری جگہ گڈمڈ ہوکر یا نقول بن کر حرکت کرسکتے ہیں

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ’جمپنگ جینز‘ انسانوں کے علاوہ دو دیگر آکٹوپس کی اقسام میں فعال ہوتے ہیں، ایک قسم عام آکٹوپس کی اور دوسری قسم کیلیفورنین آکٹوپس کی ہے

ان جینز کا تعلق LINE خاندان سے ہوتا ہے، یعنی لانگ انٹرسپرسڈ نیوکلیئر ایلیمنٹ، جو انسانی جینوم کی سیکڑوں نقول میں پائے جاتے ہیں

کئی سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ LINE ٹرانسپوسن کا تعلق سیکھنے، یادداشت اور دیگر سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے ہوتا ہے

اٹلی کے ایک تحقیقی ادارے اسٹازیونے زُولوجیکا میں شعبہ حیاتیات کے ڈائریکٹر گریزیانو فایورِٹو کا کہنا تھا ”آکٹوپس کا دماغ فعالیت کے اعتبار سے انسانوں کے دماغ کی کئی خصوصیات سے مشابہ ہے“

محققین میں سے ایک کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے آکٹوپس کے عمودی حصے میں سرگرمی کا ایک اشارہ دیکھا تو وہ اچھل پڑے

آکٹوپس کا عمودی حصہ دماغ کا ایک سانچہ ہوتا ہے، جو سیکھنے اور سوچنے سمجھے کی صلاحیت کا مرکز ہوتا ہے، جیسے کہ انسانوں میں یہ ذمہ ہِپوکیمپس کے پاس ہوتا ہے

بی ایم سی بائیولوجی میں شائع ہونے والی یہ تحقیق محققین کی بین الاقوامی ٹیم نے کیا جس میں دنیا بھر سے بیس سے زیادہ محققین شریک ہوئے۔

Tags:

brain genesHumanoctopus
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

جاپان میں گرمی کا 147 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

Next

دماغ میں وہ کون سی لہریں ہیں، جو جذبات قابو میں رکھتی ہیں؟ نئی تحقیق

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme