Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتاریختازہ ترینخبریں

بدنامِ زمانہ ظالم ٹھگ بہرام کی کہانی، جس پر ریکارڈ 931 افراد کے قتل کا الزام لگا

By Akhtar Rasool
نومبر 18, 2023 7 Min Read
0

جب ہم کسی سیریل کلر یا کلنگ کے بارے میں سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں کوئی نہ کوئی پیکر اُبھرتا ہے، لیکن جو لوگ پیڈرو لوپیز کی کارستانیوں سے واقف ہیں، ان کے ذہن میں اسی شخص کا نام سب سے پہلے آتا ہے

وہ اپنے وقت کا سفاک ترین قاتل تھا، جو کمسن لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں مار دیا کرتا تھا۔ اس کے ساتھ کسی کو رچرڈ ریمیریز عرف ’دی نائٹ اسٹاکر‘ کا بھی خیال آ سکتا ہے، جو راتوں کو حملہ کر کے بے رحمی سے قتل کرنے کے لیے مشہور ہوا تھا اور وہ پیسے جواہرات اور کاریں چوری کرتا تھا

اسی طرح انڈیا میں چارلس شوبھراج ’دی بِکنی کلر‘ یا پھر لندن کے ’جیک دی ریپر‘ کا خیال آ سکتا ہے، جس نے 1880 کی دہائی میں ہولناک قتل کیے تھے۔۔

ریپر کو ’وائٹ چیپل قاتل‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے وہاں سے طوائفوں کا تقریباً خاتمہ کر دیا تھا، تاہم 150 سال گزرنے کے بعد بھی جیک دی ریپر کی شناخت کبھی نہیں ہو سکی

اس فہرست میں پاکستان سے سفاک قاتل جاوید اقبال کا نام شامل ہے، جس نے سو بچوں کو قتل کر کے ان کی لاشوں کو تیزاب میں پگھلا دیا تھا

لیکن لفظ ’ٹھگ‘ لفظ سن کر ہمارے دماغ میں صرف ایک چالاک اور مکار آدمی کی تصویر ابھرتی ہے، جو جھانسا دے کر کچھ قیمتی سامان ٹھگ لیتا ہے لیکن انڈیا میں انیسویں صدی میں جن ٹھگوں سے انگریزوں کا پالا پڑا تھا، وہ اتنے معمولی لوگ نہیں تھے

یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی سفاک ٹھگ اور بدنام زمانہ قاتل کے بارے میں ہے، جس نے 1800 کی دہائی میں 900 سے زیادہ قتل کیے اور ایک عرصے تک ہندوستان کو دہشت زدہ کیے رکھا

ٹھگ بہرام یا ’رومال قاتل‘ 930 سے زیادہ افراد کے قتل کا ذمہ دار تھا۔ بہت سے اعداد و شمار کے مطابق اس کے نام ہی یہ بدنما ریکارڈ ہے کہ انہوں نے سب سے زیادہ قتل کیے

ٹھگ بہرام کو بہت سے لوگوں نے ’ٹھگوں کا بادشاہ‘ کہا ہے۔ وہ شمالی وسطی ہندوستان یعنی اس زمانے کے اودھ کے علاقے میں قاتلوں کے ایک گروہ کی قیادت کیا کرتا تھا اور اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں سرگرم تھا۔ اسے اکثر دنیا کا سب سے خطرناک سیریل کلر سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ مبینہ طور پر 931 افراد کے قتل میں ملوث تھا

ہندی روزنامہ امر اجالا کی ایک رپورٹ کے مطابق اودھ کے علاقے میں 1790 سے 1840 کے درمیان 50 سال کے عرصے کے دوران وہ اور اُس کے گروہ کے ارکان رومال سے گلا دبا کر لوگوں کی جان لیا کرتے تھے

تاہم سرکاری طور پر اُن کے ہاتھوں صرف 125 افراد کے قتل کی تصدیق کی گئی، جبکہ اُس کے زمانے اور بعد کے بہت سے لوگوں کے مطابق ٹھگ بہرام نے بے رحمی سے ایک ہزار سے زیادہ افراد کو قتل کیا تھا

آلہِ قتل ایک سادہ پیلا رومال!

بہرام نے اس وقت برطانوی حکمرانوں کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔ اس نے نہ صرف ہندوستانیوں کو بلکہ انگریزوں کو بھی خوفزدہ کر دیا تھا۔ اس وقت جیمز پیٹن کو ڈاکوؤں اور ٹھگوں کی نگرانی کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا اور ان کو محکمے کا انچارج بنایا گیا تھا

ایک انگریز افسر فلپ میڈوز ٹیلر نے ’اے کنفیشن آف اے ٹھگ‘ نامی ایک کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے۔ جیمز پیٹن کے حوالے سے انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے ایک بار ٹھگ بہرام کے بارے میں اپنے روزنامچے میں لکھا تھا ’وہ 931 افراد کے قتل میں ملوث تھا اور اس نے بعد میں اس کا اعتراف کیا تھا۔‘

ٹھگی اس کے لیے کسی پیشے سے کم نہ تھی اور اس کے لیے اس نے باقاعدہ اصول و ضوابط وضع کر رکھے تھے۔ ایک طرح سے اس نے ٹھگی کو اپنا دھرم بنا لیا تھا

بہرام اور اس کے گروہ میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے افراد بھی شامل تھے لیکن وہ سارے شکار پر جانے سے پہلے ہندوؤں کی دیوی کالی کی پُوجا کرتے تھے اور شکار یا قتل کے بعد دیوی کالی کا شکریہ ادا کرنے کے لیے بھی پُوجا کرتے تھے

اپنے وضع کردہ اصولوں کے تحت وہ عورتوں، فقیروں اور بچوں پر حملہ نہیں کرتے تھے اور ان کے لیے اولین شرط بغیر خون بہائے قتل کرنا تھی۔ وہ اس وقت تک کسی مسافر پر حملہ نہیں کرتے جب تک اس سے کچھ برآمد ہونے کی امید نہ ہو

وہ پراسرار طریقے سے تاجروں، زائرین اور سیاحوں پر حملہ کرنے اور ان کو قتل کرنے کے طریقے تلاش کرتے۔ ٹھگوں میں کچھ مخصوص صلاحیتیں تھیں اور وہ کسی بھی قافلے میں اپنے ہُنر سے گُھل مِل جاتے تھے

انہیں موسیقی کا گیان تھا، رقص کرنا آتا تھا اور الگ الگ مذہب کے رواجوں سے بھی واقف تھے، جس وجہ سے مسافروں سے دوستی کرنا ان کے لیے آسان تھا۔ پھر رات گئے اپنے شکار کو بے خبر پا کر وہ رومال سے اس کا گلا گھونٹ دیتے تھے۔ اس رومال میں ایک سکہ بھی بندھا ہوتا تھا، جو غالباً شہ رگ کو دباتا تھا

’کنفیشن آف اے ٹھگ‘ میں سید امیر علی نامی ٹھگ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بہرام دو سو ٹھگوں کا سردار تھا اور اس نے گروہ کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ایک وہ جو قافلے کے پیچھے کچھ فاصلے پر چلتا، دوسرا مسافروں کے قافلے سے شناسائی کرتا اور ان کے ساتھ چلتا

تیسرا حصہ آگے پہنچ کر قبر بناتا اور جب ان کو محسوس ہوتا کہ اب حملہ کرنے کا وقت آگیا ہے تو وہ کسی کوڈ ورڈ کے تحت اشارہ کرتے یا کسی نام کو باربار دہراتے، جس سے ٹھگ حملے کے لیے تیار ہو جاتے اور سردار بہرام کے جھڑنی (اشارے) کا انتظار کرتے

اشاروں کے بھی کچھ نام تھے جس میں ’سرتی کھا لو‘، ’پان کھلا دو‘، ’حُقہ پلا دو‘ جیسے اشارے شامل تھے۔ بہرام جب ان الفاظ کا استعمال کرتا تو اُس کے گروہ کے افراد مسافروں پر حملہ کر دیتے اور اُن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر بہرام کے پاس پیش کرتے

بہرام رومال میں بندھے سکے سے تب تک اُن کا گلا گھونٹتا رہتا، جب تک اُن کی جان نہیں چلی جاتی۔ ہر قتل اور لُوٹ کے بعد سامان برابر تقسیم ہوتا تھا

سید امیر علی کے مطابق کچھ دنوں بعد ڈولی نام کی ایک لڑکی نے بہرام کے گروہ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد بہرام نے قتل کے انداز میں تبدیلی کی۔ اب وہ اپنے شکار کو حُقہ پلا کر منشیات سے بے ہوش کر دیا کرتا تھا اور اُن کا سامان لُوٹ کر انہیں قتل کر دیتا تھا

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ بہرام اور ڈولی کی لڑائی ہونے لگی، جس کے بعد بہرام وہاں کے مشہور ٹھگ سید امیر علی کے ساتھ کام کرنے لگا

فلپ ٹیلر کے مطابق سید امیر علی نہایت خوب صورت تھا اور مقامی افراد اسے اس کے گورے چٹے رنگ کی وجہ سے ’فرنگیا‘ کہہ کر بلاتے تھے

جب ہندوستان کے وسطی علاقے میں ٹھگوں کا خوف حد سے زیادہ بڑھ گیا تو حکومت برطانیہ نے ٹھگوں اور ڈاکوؤں کا صفایا کرنے کے لیے باقاعدہ ایک علیحدہ محکمہ قائم کیا، جس کا نام ’اریڈیکیشن آف ٹھگز اینڈ ڈکیت‘ رکھا گیا

جب علاقے میں ٹھگی اور قتل کی وارداتیں روز روز ہونے لگیں اور حالات قابو سے باہر ہونے لگے تو یہ خبر برطانیہ تک پہنچ گئی اور پھر حکومت نے اس کی جانچ اور تدارک کے لیے پانچ تفتیش کار بھیجے، لیکن امیر علی کے مطابق بہرام نے اپنے گروہ کے ساتھ مل کر ان سب کو قتل کر ڈالا

سنہ 1822 کے آس پاس ایک انگریز افسر ولیم ہنری سولومن کو تحقیقات کے لیے ہندوستان بلایا گیا اور انہیں ٹھگ اور ڈاکوؤں کا خاتمہ کرنے والے محکمے کا انچارج بنایا گيا

پھر بھی ٹھگوں کو پکڑنے کی ساری کوششیں ناکام ہوتی رہیں۔ اسی دوران لاڑد ولیم بینٹک کو ہندوستان کا گورنر جنرل بنایا گیا۔ انہوں نے سلومن کو بہرام کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیے لوگ بھرتی کرنے اور انہیں ہتھیاروں سے مسلح کرنے کا حکم دیا۔ 1834 میں بہت کوششوں اور تلاش کے بعد سید امیر علی ولیم ہنری کے ہاتھ لگ گیا

پھر اس نے پوچھ گچھ کے دوران اپنے خاندان کی حفاظت کے خوف سے بہرام کے بارے میں واضح معلومات فراہم کیں۔ سید امیر علی سے پوچھ گچھ کے دوران جب اس کے گروہ کے ہاتھوں قتل کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا ’اور صاحب۔۔ وہ تو میں پکڑا گیا، نہیں تو ہزار پار کر لیتا۔ آپ لوگوں نے 719 پر ہی روک دیا۔‘

اس کے اعتراف کو انگریز افسر فلپ میڈوز ٹیلر نے لکھنا شروع کیا جو 1839 میں ’کنفیشن آف اے ٹھگ‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئی اور اس نے اس سال اینگلو انڈین بیسٹ سیلر کا ایوارڈ جیتا

گرفتاری اور پھانسی

بالآخر 1839 میں بہرام کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد اس نے ولیم ہنری سے کہا ’مجھے مارنا مت میں سب کچھ بتاتا ہوں‘ اور جب اس نے 931 ہلاکتوں کا اعتراف کیا تو پولیس بھی خوف زدہ تھی

پولیس نے قتل کے حساب کا سوال کیا تو جواب دیتے ہوئے بہرام نے کہا ’ہر قتل کے بعد ہم آپس میں سامان تقسیم کرتے تھے اور اس وجہ سے قتل کی گنتی 931 ہے یعنی اتنی ہی مرتبہ سامان آپس میں تقسیم ہوا‘

بعد میں اس کے گروہ کے ارکان کو بھی پکڑ لیا گیا۔ 1840 میں بہرام اور اس کے گینگ کو جبل پور میں پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی کے وقت بہرام کی عمر 75 سال تھی

ٹھگوں کو پکڑنے والے اس محکمے نے سرکار کے پاس ایک رپورٹ بھیجی، جس میں چودہ سو ٹھگوں کے پکڑے جانے کا ذکر تھا۔ ان میں سے ایک ہزار افراد کا گناہ ثابت نہ ہو سکا اور ان کو ملائیشیا کے ایک جزیرے پر چھوڑ دیا گیا، جبکہ باقی چار سو افراد کو پھانسی دے دی گئی

بہرام کا 931 افراد کو قتل کرنے کا گنیز ورلڈ ریکارڈ ہے، اور قتل کے لیے استعمال ہونے والے سکے کے ساتھ رومال ایک میوزیم میں محفوظ ہے۔
سید امیر علی اور بہرام کے پکڑے جانے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے والے ولیم ہنری سلومن سے لوگ اس حد تک متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنے گاؤں کا نام ’سلیمان آباد‘ رکھ دیا۔

Tags:

abigail williamsbehram thugbehram thug in hindibehram thug storybutcher of delhi netflixchandrakant jha real storyguinness book of world recordhenryhenry cavillhenry solomonhenry vhenry v trailerhenry viihenry vii exilehenry vii invasionhenry violinhenry washenry wellcomehenryvHistoryIndiaindia thugsIndian Historyindian predator butcher delhi real storyindian predator:the butcher of delhiindian serial killersindian thug bahramindiana jones thugeejack the ripperjoan of arcking solomonlife of william henry harrisonmatthew henry theologianpresident william henry harrisonreal story of indian predatorscary storiesscary stories truescary storyscary true storiesscary videosserial killers in indiasimple historysolomonsolomon richessolomon templesong of solomonthag bahramthe butcher of delhithe indian predator reviewthug bahramthug behramthug behram englishthug behram guinness world recordthug behram ki kahanithug behram rumalthug behram serial killerthug behram storythug behram story in hindithug lifethugee indiathugs in indiathugs indiathugs of hindustantrue scary storiestrue scary stories from reddittrue storyviv solomonweird historywilliamwilliam branhamwilliam henry harrisonwilliam henry hudsonwilliam marrion branham
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

انڈیا اور آسٹریلیا کے چھ یادگار ون ڈے میچوں کی کہانی

Next

سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط69)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme