Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

بھارتی نصابی کتب سے اب گاندھی کے ہم رکاب اور پہلے وزیرِ تعلیم مولانا آزاد کا ذکر بھی غائب!

By Akhtar Rasool
اپریل 15, 2023 3 Min Read
0

بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت نے نصابی کتابوں سے تحریکِ آزادی کے ایک اہم مسلم رہنما، گاندھی کے ہم رکاب اور بھارت کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کا نام بھی حذف کر دیا ہے۔ نئی نصابی کتابوں سے مغلیہ تاریخ پر اسباق پہلے ہی ختم کیے جا چکے ہیں

تفصیلات کے مطابق بھارت کے مرکزی وزارتِ تعلیم کے محکمے ’نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ‘ (این سی ای آر ٹی) نے سیاسیات سے متعلق گیارہویں جماعت کی نصابی کتابوں سے مولانا ابوالکلام آزاد کے حوالہ جات کو حذف کر دیا ہے

مولانا آزاد بھارت کے پہلے وزیر تعلیم تھے، جو تحریک آزادی کے دوران اپنی جدوجہد کے لیے مشہور ہیں۔ ہندوتوا نظریات کی حامل مقتدر جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار کی طرف سے یہ سلوک ایک ایسے شخص کے ساتھ کیا جا رہا ہے، جو تقسیمِ ہند کے بھی سخت مخالف تھے اور انہوں نے دو قومی نظریے کی بھی سخت مخالفت کی تھی

سیاسیات سے متعلق نصابی کتاب کے پہلے باب کا عنوان ’آئین، کیوں اور کیسے بنا‘ ہے، اس باب کی ایک سطر میں ترمیم کی گئی ہے اور جہاں دستور ساز اسمبلی کی کمیٹی کے اجلاسوں میں مولانا آزاد کی شمولیت اور ان کے اہم کردار کے لیے ان کا نام کا درج تھا، اب اسے ہٹا دیا گیا ہے

مثلال کے طور پر تازہ نظرِثانی شدہ لائن اس طرح ہے: ”عام طور پر، جواہر لال نہرو، راجندر پرساد، سردار پٹیل یا بی آر امبیڈکر ان کمیٹیوں کی صدارت کیا کرتے تھے۔“ اس سے پہلے اس فہرست میں آزاد کا نام بھی شامل تھا

واضح رہے کہ مولانا آزاد نے سن 1946ع میں آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے بھارت کی نئی دستور ساز اسمبلی کے انتخابات میں کانگریس کی قیادت کی تھی اور اس میں ایک کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ مسلسل چھ برس تک کانگریس کے صدر کے طور کام کے دوران انہوں نے برطانوی کابینہ مشن کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک وفد کی قیادت بھی کی تھی

اسی نصابی کتاب سے بھارت کے ساتھ جموں و کشمیر کے مشروط الحاق سے متعلق حوالے بھی حذف کر دیے گئے ہیں۔ کتاب کے دسویں باب میں ’آئین کا فلسفہ‘ کے زیر عنوان متن میں ایک جملہ حذف کر دیا گیا ہے

اب ترمیم شدہ لائن کچھ اس طرح لکھی گئی ہے ”مثال کے طور پر بھارتی یونین سے جموں و کشمیر کا الحاق، آئین کی شق 370 کے تحت اس کی خود مختاری کے تحفظ کے عزم پر مبنی تھا۔“ اس سے پہلے درج تھا کہ اسی شرط پر ہی کشمیر نے بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا

واضح رہے کہ شق 370 کو مودی کی حکومت نے اگست 2019 میں منسوخ کر دیا تھا، جس سے جموں و کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم ہو گئی تھی

بھارت میں ’بابائے قوم‘ کا درجہ رکھنے والے مہاتما گاندھی کو سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس، جو بی جے پی کی مربی تنظیم ہے، سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے قتل کر دیا تھا، اور اسی لیے آر ایس ایس پر پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔ تاہم اب حکومت نے نصابی کتابوں سے اس باب کو ہی ختم کر دیا ہے

مودی حکومت نے نصابی کتاب میں سن 2002 میں ہونے والے گجرات کے مسلم کش فسادات کا حوالہ نکال دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور ہندوؤں کی سخت گیر تنظیم آر ایس ایس پر عائد کی گئی پابندی سے متعلق اقتباسات کو بھی نصاب سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے

این سی ای آر ٹی نے بارہویں جماعت کی تاریخ کی نصابی کتابوں سے مغلیہ سلطنت کے بعض ابواب کو ہٹانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ مغلوں نے ہندوستان پر تقریباً چار سو برس تک حکومت کی اور بہت سے مؤرخ اس بات سے نالاں ہیں کہ آخر حکومت تاریخ کو مسخ کیوں کر رہی ہے؟

ماہرین کے علاوہ عوام بھی یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ بچوں کو تاج محل اور لال قلعے جیسی مغلوں کی تعمیر کردہ عظیم الشان عمارتوں کے بارے میں آئندہ کیا بتایا جائے گا؟

Tags:

a forgotten ambassador in cairo: the life and times of syud hossainabul kalam azadabul kalam azad wazbiography of maulana abul kalam azadbiography of maulana abul kalam azad in 100 wordsbiography of maulana abul kalam azad in englishbiography of maulana abul kalam azad in hindicauses of partition of indiaconstitution of indiafirst education ministerIndiaindia's first prime ministerindian independencelatest from indiamaulanamaulana abul kalam azadmaulana abul kalam azad awazmaulana abul kalam azad bharatmaulana abul kalam azad biographymaulana abul kalam azad indiamaulana abul kalam azad sahebmaulana abul kalam azad speechmaulana azadnational language of indiapartition of indiaprime minister of indiaregional languages of indiaschool organisation and management question paperthe founding fathers and the relevance of the mahatma todaywhat is education policy
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا حمل کے دوران واقعی ناک پھول جاتی ہے؟

Next

’میڈ اِن پاکستان‘ ہونے کے دعوے کے باوجود پاکستان میں ہوم اپلائنسز کی عدم دستیابی۔۔ معاملہ کیا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme