Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

جس آئین کا پتا نہیں، اسے بچائیں کیا خاک؟

By Akhtar Rasool
اپریل 8, 2022 4 Min Read
0

آئین کیا ہے، اس کی شقیں کیا ہیں، اسے کس نے کیوں بنایا، اسے ہم کیوں مانیں، اسے کوئی مانتا بھی ہے؟ اہم سوال آئین اور جمہوریت کو خطرہ ہے تو ہم عوام کیا کریں؟ اسلام آباد جانے اس کا کام جانے، ہم جمہوریت کاہے کو بچائیں؟

عوام کی بڑی تعداد بلکہ غالب اکثریت آئین کا اتنا ہی تعارف رکھتے ہیں کہ خبروں میں آتا ہے آئین کی خلاف ورزی ہوئی، آئین سے کھیلا گیا، آئین سے چھیڑ چھاڑ ہوئی، آئین کی موشگافیاں سامنے آئیں یا پھر آئینی ترمیم ہو گئی۔ انتہائی ذمہ داری سے کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان میں قانون دانوں، وکالت کے پیشے سے وابستہ چندافراد، قانون و انصاف کے طالبعلموں، بعض بیوروکریٹس، عدالتوں کی کوریج کرنے والے چند ایک صحافیوں اور گنتی کے سیاستدانوں کے سوا کوئی آئین پاکستان سے رجوع نہیں کرتا

’تہتر کے آئین کے مطابق‘ یہ الفاظ ہم مولانا فضل الرحمان کے اس ڈمی کریکٹر کے منہ سے ازراہ ِ مذاق سنتے ہیں، جو نیوز چینلز کے پرائم ٹائم شوز میں نقلی داڑھی لگا کر بٹھایا جاتا ہے۔ ماضی کی ڈکٹیٹرشپ کی کہانیوں میں سنتے ہیں آئین معطل ہوا تھا۔ تازہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف پہ سنگین غداری کا مقدمہ چلا تو آئین شکنی بھی لگ بھگ روز میڈیا میں موضوع بحث رہی، یوں آئین شکنی کے لفظوں سے بھی کان مانوس ہوئے

آئین کا بول بالا ایک اور جگہ بھی ہوتا ہے، جسے ہم عدلیہ کہتے ہیں۔’ہم نے آئین کی بالادستی کا عزم کر رکھا ہے‘ عدالتوں میں گونجتا یہ افسانوی فقرہ وہ سائل بھی سنتا ہے، جس کا مقدمہ چلتے پچیس برس گزر گئے

سپریم کورٹ کو آئین کا جی ایچ کیو مانا جاتا ہے، عوام اسے آئین و قانون کا استعارہ سمجھتے ہیں۔ اس کی عمارت میں لگی سنگ ِ مر مر کی سفید دیواروں پہ جو سیاہ دھبے نظر آتے ہیں، یہ آئین کو سمجھوتے اور نظریہ ضرورت سے داغدار کرنے کا عکس ہیں، لیکن آئین کی حفاظت کا دعویٰ ہنوز قائم ہے

آئین کی کچھ شقوں کی ٹھیکیداری مذہبی جماعتوں نے لے رکھی ہے، آئین، جیسے ان کی بغل میں دبا ادھ موا مرغا ہوتا ہے، جس کی مخصوص شقوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ان پریشر گروپس کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ ایک یہ تعارف بھی ہے آئین کا

آئین کا تعارف پارلیمان سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ یہاں اسے کبھی موم کی ناک بنا کر، جیسے چاہے موڑنے کی سعی ہوتی ہے، کبھی اس کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔ ایوان بالا اور ایوان ِ زیریں میں جب کوئی آئین کو اٹل قرار دے رہا ہوتا ہے، تو کوئی چند گز دور بیٹھا زیرِ لب مسکرا رہا ہوتا ہے

جس کے یہ چیدہ چیدہ تعارف ہیں، اسی آئین کے ساتھ تازہ واردات قومی اسمبلی میں تین اپریل کو ہوئی ہے، سابقہ حکومت نے آئین کو بُغدا بنا کر جمہوری عمل کی ہڈی بوٹی برابر کر دی، اسمبلی ٹوٹ گئی۔ اب آئین کی محافظ سپریم کورٹ کے ججز نے اسی آئین کو بحال کیا ہے

روٹی،کپڑا، مکان، علاج، تعلیم جیسے روزانہ کے مسائل میں الجھے لوگوں کے لیے یہ خاصا مشکل ہے کہ وہ آئین کی دو سو اسی دفعات پڑھیں، سمجھیں، یاد رکھیں اور وقت پڑنے پہ اپنی بات میں ان کے حوالے دیں۔ آئین کے عدسے سے ملکی حالات کا جائزہ لینا اور انہیں سمجھنا ایک ناخواندہ یا نیم خواندہ کیا ایک پڑھے لکھے پاکستانی کے لیے بھی ناممکن ہے

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کا دستور ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان ایک سماجی یا عمرانی معاہدہ ہوتا ہے، جہاں عوام ریاست کو قوانین کے ذریعے حکمرانی اور طاقت رکھنے کا اختیار دیتے ہیں۔ کمال ہے کہ عوام کو علم ہی نہیں کہ انہوں نے ریاست کے ساتھ کون سا معاہدہ کر رکھا ہے اس کے نکات کیا ہیں؟ کون سے حقوق انہیں ملنا ہیں، ریاست کا اختیار کیا ہے، شہری کو اس دستور یا آئین کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟ کچھ علم نہیں

یعنی ہم سب اجتماعی طور پر ایک معاہدے کے فریق اول ہیں مگر فریق دوم یعنی ریاست، حکومت اور اس کے ادارے کب اس معاہدے سے مُکر جاتے ہیں، وہ کب اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور کب ہمارے اجتماعی بھروسے کو توڑتے ہیں، ہمیں اس کا علم نہیں، علم ہو بھی جائے تو ہمیں آئین شکنی کے جرم کی حساسیت کا احساس نہیں

جس آئین کا علم ہی نہیں کہ کیا شے ہے؟ اسے مشکل میں پھنسا دیکھ بھی لیں تو بچانے کے لیے ہم عوام سڑکوں پہ کیوں نکلیں گے؟ میری دانست میں یہ سیاسی جماعتوں کے فائدے کی بات ہے کہ وہ عوام میں ان کے آئین، آئین کی پاسداری و عملداری کا شعور پیدا کریں۔ ضروری ہے کہ سیاستدان خود آئین کو پڑھیں اور سمجھیں۔ (اسے آئیڈیلزم ہی سمجھیں)

آئین سے واقفیت صرف قانون، سیاسیات، سماجیات یا صحافت پڑھنے والوں کے لیے ضروری نہیں۔ یونیورسٹی لیول کے طلباء و طالبات کو آئین کا تعارف ان طلباء یونینز سے مل سکتا ہے، جن پہ پابندی ہے

ناخواندہ افراد اگر پڑھ نہیں سکتے تو یہ مطلب نہیں کہ وہ قانون کی اہمیت سے نابلد ہیں۔ عورتیں اگر گھر میں بیٹھی ہیں تو یہ ہرگز تصور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے حقوق سے ہاتھ کھڑے کر چکیں۔ اپنے آئین کی آگہی ان کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ کسی عالم فاضل ووٹر کو ہے۔ انواع الاقسام کی غیر سرکاری تنظیمیں کردار ادا کر سکتی ہیں

موبائل فون پہ ایسی درجنوں ایپلی کیشنز ہیں، جہاں اردو اور انگریزی میں پاکستان کا آئین موجود ہے۔ محض گوگل سرچ کر لیں تو پورا آئین پی ڈی ایف فارمیٹ میں کھل جاتا ہے۔ لائبریریز ہمارے یہاں جاتا کوئی نہیں، ورنہ وہاں بھی لازمی ایک نہ ایک کاپی رکھی ہوگی

ریاست عوام پہ فرائض کو بزور طاقت تھوپ ہی دیتی ہے لیکن اپنے حقوق، اپنا معاہدہ، اپنے آئین کو جاننا سراسر عوام کا کام ہے، اس کاغذ کے ٹکڑے کی اہمیت کا اندازہ ہو گا تو تب ہی عوام کسی کو اتنی آسانی سے آئین شکنی کرنے نہیں دیں گے

بشکریہ : ڈی ڈبلیو اُردو

Tags:

ArmyConstitutionPak ArmyPakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

جب سوکھے درختوں اور ناراض پرندوں نے ایک شخص کو تن تنہا ڈیم بنانے پر مجبور کر دیا

Next

سپریم کورٹ کے فیصلے پر مجھے مایوسی ہوئی, امپورٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کروں گا: عمران خان

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme