خطے میں جاری کشیدگی صرف جغرافیائی نہیں بلکہ سماجی و ثقافتی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش بھی ہے۔ ترکی کے انٹیلیجنس سربراہ ابراہیم قالن

سنگت ڈیسک

 استنبول اسٹریٹجک کمیونیکیشن سمٹ 2026 سے خطاب

استنبول میں منعقد ہونے والے اسٹریٹجک کمیونیکیشن سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کی قومی انٹیلی جنس تنظیم (MIT) کے سربراہ اور فلسفے کے پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم قالن نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، عالمی طاقتوں کے کردار اور معلومات و بیانیے کی جنگ پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی صرف عسکری مسئلہ نہیں بلکہ ایک فکری اور بیانیاتی جنگ بھی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور عالمی تناظر

انہوں نے کہا کہ دنیا کووڈ-19 کے بعد مسلسل غیر یقینی حالات سے گزر رہی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ ابھی تک جاری ہے، جبکہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے پورے خطے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔


سعودی فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملہ، 12 امریکی اہلکار زخمی؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی

ٹرمپ پالیسیوں کے بعد خلیجی ریاستوں کی سکیورٹی پر سوالات، دبئی اور قطر کا ’محفوظ جنت‘ کا تصور متاثر


غزہ، لبنان اور شام کی صورتحال

انہوں نے خاص طور پر غزہ، لبنان اور شام کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی پالیسیوں نے علاقائی توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

 ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی

ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک وسیع تر بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے اگر اسے فوری طور پر نہ روکا گیا۔

ترکی کی سفارتی کوششیں اور مذاکرات کی ضرورت

ڈاکٹر قالن نے واضح کیا کہ ترکی اس جنگ کو خطے میں پھیلنے سے روکنے کے لیے متحرک سفارتکاری کر رہا ہے۔ صدر اور وزیر خارجہ کی قیادت میں مختلف ممالک سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ جنگ پھیلتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر معاشی اور سیاسی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔

سماجی و ثقافتی تقسیم کا خطرہ

انہوں نے اس پہلو پر بھی روشنی ڈالی کہ خطے میں جاری کشیدگی صرف جغرافیائی نہیں بلکہ سماجی و ثقافتی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش بھی ہے۔

نسلی و فرقہ وارانہ تقسیم

انہوں نے کہا کہ ترک، عرب، کرد اور فارسی اقوام کے درمیان نفرت پیدا کرنا ایک خطرناک رجحان ہے جس کے نتائج دیرپا ہوں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا جو خطے میں فرقہ وارانہ یا نسلی تقسیم کو ہوا دے۔

بین الاقوامی قانون اور ذمہ داری کا تعین

ڈاکٹر قالن نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کر کے کسی بھی ملک کے خلاف کارروائیوں کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کا آغاز کس نے کیا، یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جانی چاہیے اور مستقل امن کے لیے ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔

طاقت، معلومات اور بیانیے کی جنگ

تقریر کے فکری حصے میں ڈاکٹر قالن نے ”طاقت، معلومات اور بیانیے“ کے تعلق پر گفتگو کی۔

پوسٹ ٹروتھ دور کا چیلنج

انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ چند دہائیوں میں سچائی کے تصور کو کمزور کیا گیا ہے اور معاشرے ”پوسٹ ٹروتھ“ دور میں داخل ہو گئے ہیں جہاں بیانیہ حقیقت پر غالب آ جاتا ہے۔

 حکمت اور اخلاق کی ضرورت

ان کے مطابق اگر معلومات کو درست بنیاد نہ دی جائے تو وہ رہنمائی کے بجائے گمراہی کا سبب بن سکتی ہے، اسی لیے حکمت اور اخلاقی بنیاد ضروری ہے۔

مسلم دنیا کے لیے پیغام

خطاب کے اختتام پر انہوں نے بیانیے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو اپنی تاریخ، زبان اور فکری روایت سے جڑ کر اپنی کہانی خود بیان کرنی چاہیے۔

انہوں نے اسلامی تہذیب کی علمی اور فکری روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایک مضبوط فکری سرمایہ موجود ہے جسے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کی ضرورت ہے


یمن کے حوثیوں کا اسرائیل پر میزائل حملہ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button