Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Malir-socio-economic-problems-and-youth
ادباہم ترینتازہ ترین

زندگی کا ابتدائی بیس پچیس برس کا عرصہ

By Akhtar Rasool
مئی 19, 2025 4 Min Read
0

مئی کا اک گرم دن تھا، سورج آگ برسا رہا تھا۔ کالج کی ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد جیسے ہی میں رکشے میں بیٹھ رہا تھا کہ پروفیسر مبین نے مجھے آواز دی اور اصرار کر کے مجھے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا دیا۔

اولڈتھانہ پہنچنے پر میں نے پروفیسر صاحب کو کھانے پر اصرار کیا، انہوں نے منع کرتے ہوئے کہا کہ کھانا نہیں، اس نیم والے ہوٹل میں چائے پیئیں گے۔۔۔

یہ رزاق کا ہوٹل تھا، جو گھنے نیم کے سائے میں واقع تھا۔۔۔۔گرمیوں میں اس ہوٹل کا وجود ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔

ہم لوگ ہوٹل میں لکڑی کے ایک تختے پر بیٹھ گئے۔ رزاق بھائی حسبِ سابق بہت محبت سے ملے اور ٹھنڈا پانی پیش کر دیا، ہم نے ان کو دودھ پتی چائے کا آرڈر کر دیا۔

پروفیسر صاحب کچھ لمحوں تک خاموش رہے پھر اچانک گویا ہوئے، ”لگتا ہے کہ آپ کے گوٹھ والوں کے معاشی حالات اچھے ہیں اور لوگ کافی خوشحال ہیں۔۔۔“

پروفیسر صاحب کے لہجے میں حیرت نمایاں تھی۔۔۔۔

”آپ نے یہ نتیجہ کیسے اخذ کر لیا؟“ میں نے تعجب سے پوچھا۔

”ہر وقت ہوٹلوں میں لوگوں کا رش لگا رہتا ہے۔۔۔۔ صبح کالج جاتے ہوئے اور دوپہر کالج سے آتے ہوئے میں یہی منظر روزانہ دیکھتا رہتا ہوں خاص طور پر نوجوانوں کی بڑی تعداد یہاں فارغ بیٹھی نظر آتی ہے۔۔۔ اس وقت بھی آس پاس دیکھ لیں یہی منظر نامہ ہے۔۔۔۔“ پروفیسر صاحب نے اپنے روزمرہ کا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے جواب دیا۔

”جی سر، بات تو آپ کی درست ہے، میرے خیال میں قریب بیٹھے نوجوان ہی سے پوچھ لیتے ہیں کہ ان کے یوں فارغ بیٹھنے کا سبب کیا ہے۔۔خوشحالی ہے یا کچھ اور؟“ میں نے اس کا جواب خود دینے کا بجائے پروفیسر صاحب کو تجویز دی۔

”ہاں یہ تجویز اچھی ہے۔۔۔“ پروفیسر صاحب نے میری تجویز کو سراہا۔

”جی بیٹا آپ کا نام کیا ہے؟“ پروفیسر صاحب قریب بیٹھے نوجوان سے مخاطب ہوئے۔

”میرا نام محمد امین ہے۔۔“ نوجوان نے جواب دیا۔

”آپ کی تعلیم کتنی ہے؟“ پروفیسر صاحب نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے پوچھا۔

”سر میں نے تین سال پہلے انٹر پری میڈیکل کا امتحان دیا تھا مگر تین پیپروں میں فیل ہوں۔۔۔“ نوجوان کے لب و لہجے سے مایوسی چھلک رہی تھی۔

”تو آپ نے سپلیمنٹری امتحان نہیں دیا۔۔۔۔؟“ پروفیسر صاحب نے تجسس آمیز لہجے میں پوچھا۔

”ایک سال سپلی کا امتحان دیا، مگر پاس نہ ہو سکا، اب تو دل ہی ٹوٹ گیا ہے۔۔۔“ نوجوان نے بے فکری سے جواب دیا۔

”والد صاحب کیا کرتے ہیں اور کتنے بہن بھائی ہیں۔۔۔؟“ پروفیسر صاحب نے اگلا سوال پوچھا۔

”والد صاحب کھیتوں میں کام کرتے ہیں اور ہم چار بھائی ہیں، سب سے چھوٹا بھائی میں ہوں اور مجھ سے چھوٹی ایک بہن ہے۔۔۔“ نوجوان کے لہجے میں افسردگی نمایاں تھی۔

”تو آپ کے دوسرے بھائی کیا کرتے ہیں؟“ پروفیسر صاحب نے سوال کیا۔

”ان کا حال بھی مجھ سے مختلف نہیں ہے، بڑا بھائی پندرہ سالوں سے ایم پی اے صاحب کے آفس کا چکر لگا رہا ہے، مگر اس کو ابھی تک نوکری نہیں ملی۔۔۔۔ دوسرے اور تیسرے بھائی چیئرمین صاحب کے پاس کئی سالوں سے آ جا رہے ہیں، اس نے الیکشن مہم کے دوران نوکری دینے کا وعدہ بھی کیا تھا مگر سب جھوٹ۔۔۔ ایک بھائی کو بھی نوکری نہیں ملی۔۔۔۔۔“ نوجوان نے بجھے دل کے ساتھ کہا۔

”اب آگے آپ کا کیا پروگرام ہے۔۔۔؟“ پروفیسر صاحب پوچھا۔

”یہ سوچ سوچ کر میں ڈپریشن کا مریض ہوگیا ہوں، ایک بھائی نشے کی لت میں مبتلا ہو گیا ہے۔۔۔۔“ نوجوان نے مایوسی کے عالم میں جواب دیا۔

یہ سن کر پروفیسر صاحب گہری سوچ میں ڈوب گئے۔۔۔وہ اس بات پر افسوس کا اظہار کر رہے تھے کہ نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں، وہ اس طرح فراغت کے ہاتھوں اپنے آپ کو ضائع کر رہے ہیں۔۔ محفل میں کچھ دیر خاموشی رہی۔۔۔

”سر یہ دیگ کا ایک دانہ ہے، اس سے آپ پوری دیگ کا اندازہ کر سکتے ہیں۔۔۔“ میں نے خاموشی کو توڑتے ہوئے حقیقتِ حال کی طرف پروفیسر صاحب کی توجہ مبذول کروائی۔

”یہ صورتحال بہت تشویشناک ہے، یہاں کے سنجیدہ لوگوں کو اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔۔۔۔۔“ پروفیسر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

”دیکھو بیٹا! زندگی کا ابتدائی بیس پچیس برس کا عرصہ نہایت ہی اہم ہوتا ہے۔۔ اگر آپ نے اس عرصے کو کارآمد بنایا تو آپ کی پوری زندگی سکھی رہے گی۔۔۔ اگر آپ نے یہ عرصہ آوارگی، فضول کاموں اور فراغت کے ہاتھوں ضائع کر دیا تو پھر ساری زندگی روتے رہیں گے۔۔۔۔۔ آپ کے پاس تعلیم، ہنر، کاروبار اور مزدوری کے سوا کوئی اور آپشن نہیں ہے۔۔“ پروفیسر صاحب نے نوجوان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ نہایت شفقت سے کہا۔

”مگر اس کا حل کیا ہو سکتا ہے؟“ میں نے پروفیسر صاحب سے پوچھا۔

”ان نوجوانوں کے لیے موٹیوشنل سیشنز اور اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز کا انعقاد۔۔۔ تاکہ ان نوجوانوں کی ذہنی تربیت کی جا سکے اور ان کو باور کرایا جاسکے کہ جو کچھ کرنا ہے تعلیم، ہنر اور کاروبار کے ذریعے خود کریں، اپنے زورِ بازو سے اپنی دنیا آپ پیدا کریں۔۔۔سیاستدانوں کے پیچھے اپنا وقت ضائع نہ کریں۔۔ حیرت ہے یہ لوگ پندرہ سالوں سے سیاستدانوں کے دفتروں کا چکر کاٹ رہے ہیں۔۔۔۔ میں ایک ایسے خان صاحب کو جانتا ہوں، جس نے دس سال پہلے ہاتھ پر ازاربند لیے اپنے کام کا آغاز کیا، کچھ عرصے کے بعد اس نے ایک ٹھیلا خرید لیا، بعد ازاں ٹھیلے کی جگہ ٹھیے نے لی۔۔۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے ایک دکان خرید لی اور اب وہ پوری مارکیٹ کا مالک بن چکا ہے۔۔۔ ہمارے ایک دوست کا بیٹا فری لانسنگ کے ذریعے گھر بیٹھے ماہانہ لاکھوں روپے کما رہا ہے۔۔۔۔“

پروفیسر صاحب کی گفتگو جاری تھی کہ مسجد کے بلند میناروں سے اذان کی صدا گونجی، انہوں نے اجازت چاہی اور میں بھی نماز کے لیے مسجد کی طرف روانہ ہوگیا۔۔۔

Tags:

Broken DreamsBroken Promisesbroken systemcafé culturechasing dreamscollege lifeCommunity Awarenesscommunity neglectcommunity responsibilityconversation over teacycle of despaircycle of povertydemand for trainingDepressiondignity of labordrug addictionearly life importanceEconomic Crisiseducation crisiseducational failureemotional dialogueempty hotelsending sceneentrepreneurshipeye-opening dialoguefailed educational systemfailing education systemfalse political promisesfather working in fieldsfour brothersfreelance careerfreelance opportunitiesfreelancing successfuture planninggenerational strugglehealing through workheartfelt conversationHope in Despairhopeless futurehopelessnesshot summer dayinspiration sparkinspirational storyinspiring otherslack of guidancelack of opportunitiesLife Lessonslife-changing momentlocal tea hotellost generationlost hopeslost potentialmental health in youthmentorshipmorning to noon lifemosque prayer callmotivational talkneed for awarenessneed for changeneed for vocational trainingneglected youthno government jobpainful truthpolitical promisespolitics and youthPovertypowerful messageproductive lifeprofessor and studentRasaaq Hotelreal life examplereality of village liferise from nothingrole of teachersrural challengesrural talentrural unemploymentrural youthself-made manSelf-Reliancesitting under shadeskill developmentsocial awakeningStruggling Youthtea as comfortteacher-student bondteacher’s adviceteacher’s concernturning pointunder the neem treeunemploymentValue of Timevillage economyvillage observationvillage realityvoice of concernwasted talentwasted yearswasted youthwood bench chatyounger sisterYouth Empowermentyouth frustrationyouth in distress
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
There-are-large-stone-rocks-on-which-Ashokas-edicts-are-engraved
Previous

مانسہرہ اور مردان کا اشوک کیا کہتا ہے؟

DNA-has-made-a-surprising-revelation-about-Christopher-Columbus
Next

ڈی این اے نے کرسٹوفر کولمبس کے بارے میں حیران کن انکشاف کیا ہے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme