Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

زندہ جراثیموں سے کینسر کا علاج

By Akhtar Rasool
ستمبر 21, 2023 3 Min Read
0

زولا اٹلی سے امریکا پہنچا تھا۔ یہ نیویارک کا سال 1891 ہے۔ زولا غریب اور منشیات کا عادی تھا۔ ٹیومر اور موذی بیماری اس کو جکڑ رہی تھی۔ ایک ہولناک شکل کا کبوتر اور مرغی کے انڈے کے درمیانی جسامت جیسا ابھار زولا کے دائیں ٹونسل پر مستقل لٹکا ہوا تھا۔

ویکسین اور زندہ جراثیم کا علم یورپ اور امریکا میں پختہ ہوچکا تھا۔ نیویارک کا سرجن کولی گہرائی سے مشاہدے میں مصروف اور اپنے مفروضے کا تعاقب کررہا تھا۔ زولا اپنی موت کے انتظار میں زندگی سسک سسک کر جی رہا تھا۔ موقع غنیمت جان کر کولی نے زولا کو زندہ جراثیموں والا انجکشن لگانا شروع کردیا۔ یہ انجکشن خطرناک زندہ جراثیم اسٹریپٹوکوکس تھا۔

ڈاکٹر کولی زولا کے جلد میں ایک انفیکشن پیدا کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ جراثیم انجیکٹ کرتا، زولا کا جسم جراثیم کو جینے نہیں دیتا۔ پانچ ماہ مستقل جراثیم کا انجکشن لگاتے لگاتے بالآخر زولا کا جسم ہار گیا اور جراثیم پھلنے پھولنے لگا۔ اس انفیکشن کو انگریزی میں ایریسیپلس یعنی زہرباد کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

انسان کے جلد میں شدید انفیکشن ہوتا ہے اور جلد ان جراثیموں کی کالونیوں سے مقامی سطح پر پھول کر سرخ و پیازی ہوجاتی ہے۔ ادھر اس انفیکشن نے سر اٹھایا، ادھر دو ہفتوں میں انڈے والا ٹیومر زولا کے ٹونسل سے غائب ہوگیا۔ زولا اب ٹیومر سے آزاد اور صحت مند زندگی میں واپس آچکا تھا۔ اس کے بعد وہ کئی برس تک زندہ رہا۔

ڈاکٹر کولی اب بہت پرجوش تھا۔ اس نے دس سال بعد اپنے دس مزید ایسے مریضوں کا علاج اسی زندہ اسٹریپٹوکوکس بیکٹیریا سے کرنا شروع کیا۔ یہ انفیکشن جان لیوا تجربہ بھی ثابت ہوا۔ دو مریض اس تجربے کی نذر ہوئے اور جان سے گئے۔ اب کولی نے زندہ جراثیم کے بجائے اس کے مردہ اجسام کو استعمال کرنا شروع کیا۔ بہرحال یہ ایک زہریلا مادہ تو تھا مگر مردہ بیکٹیریا کے استعمال کے فارمولے میں تبدیلی نے مریضوں میں موت کے خطرے کو کافی حد تک کم کر دیا۔

خیر آئیے! سمجھتے ہیں اور گتھی سلجھاتے ہیں کہ ہوتا کیا ہے؟ جب بھی جسم میں کینسر پیدا ہو تو جسم اس کینسر خلیات کے خلاف قوت پیدا کرتا ہے جو کینسر کے خلیات کو قتل کرتے ہیں۔ مفروضہ یہ ہے کہ انفیکشن کے نتیجے میں جسم مجبور ہوکر مدافعتی نظام کو میدان میں اتارتا ہے جو انفیکشن کے علاوہ کینسر کے خلیات کا خاتمہ کامیابی سے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سائنس میں ڈاکٹر کولی مامونی طریقہ علاج کے باپ تصور کیے جاتے ہیں۔

یاد رکھیے! جراثیم کی موجودگی اور انفیکشن نعمت خداوندی ہے۔ انھیں اینٹی بائیوٹک کی نہیں بلکہ نگہداشت کی ضرورت ہے۔

اس لالچی دنیا میں سب کچھ آلودہ ہے، ارادے کا ناپاک ہونا عجب بات نہیں۔ اگر یہ مفروضہ توجہ پائے تو شاید کینسر کےلیے شعاعیں، کیمو اور مہنگی ادویہ کا کاروبار شدید نقصان اٹھائے۔ کاروبار کی حدود طے کیجیے، مشاہدوں کا تعاقب کیجیے، شواہد کو للکاریے، ہمدردی سے، وجوہات سے، فکر سے اور شعور کی بلندی سے۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

Bacteriabacteria in stomach cancerBreast CancerCancercancer cellscancer immunotherapycancer preventioncancer researchCancer Treatmentcancer treatmentschemo treatmentcolon cancercolorectal cancergood health: breast cancer and bacteriagut bacteriagut bacteria and cancerh pylori treatmentinfection treatmentprostate cancerstomach cancerstomach cancer treatmentTreatmenttreatment for diarrheatreatments
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

عمار: یہ سلسلہ اب رک جانا چاہیے!

Next

دل زندہ رہے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme