Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

سیلاب متاثرین بحالی خواب بن کر رہ گئی، لاکھوں پاکستانی بچوں کی زندگی خطرے میں: یونیسیف

By Akhtar Rasool
جنوری 19, 2023 5 Min Read
0

بانسوں پر پرانے کپڑے کی چادریں اور پٹ سن کی بوریوں کی مدد سے بنایا گیا جھگی نما کمرا ہی پینتیس سالہ بخشل سولنگی کا گھر ہے

اس جھگی میں بستر اور کپڑے رکھنے کے لیے لکڑی کے چار صندوق اور پانی جمع کرنے کے لیے پلاسٹک کے نیلے رنگ کے چار بڑے ڈرم رکھے ہوئے ہیں

بخشل سولنگی کا یہ جھگی نما گھر پاکستان کے معاشی حب اور سندھ کے دارالحکومت کراچی کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی شاہراہ سابق سپر ہائی وے اور اب ایم نائن موٹروے پر بکرا منڈی سے متصل ’سندھ آباد‘ میں واقع ہے

2010ع میں آنے والے شدید سیلاب سے بے گھر ہونے لوگوں نے سندھ آباد کو آباد کیا تھا، تاہم بارہ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باجود بھی یہ سیلاب متاثرین مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے

سندھ آباد کالونی تقریباً ایک ہزار جھگی نما گھروں پر مشتمل ہے، جہاں تقریباً چھ سے آٹھ ہزار لوگ آباد ہیں

اس کالونی کی کچی گلیوں میں بچے ننگے پاؤں بغیر کھلونوں والے کھیل کھیلتے نظر آتے ہیں۔ کالونی میں نکاسی آب کا نظام نہیں، اس لیے یہاں کے مکین رفع حاجت کے لیے کالونی کے برابر جھاڑیوں میں جاتے ہیں

کالونی میں پینے کا پانی موجود نہیں، لہٰذا چنگچی رکشوں اور گدھا گاڑی پر فروخت ہونے والا پانی خریدنے کے لیے مزدوری کی آدھی رقم دینی ہوتی ہے، اس لیے بچے اور خواتین ملک کی مصروف شاہراہ سپرہائی وے کو کراس کر کے کئی کلومیٹر پیدل چل کر پانی لاتے ہیں، جس کی وجہ سے سپر ہائی وی پر کئی حادثات بھی ہو چکے ہیں

شمالی سندھ کے ضلع شکارپور سے تعلق رکھنے والے بخشل سولنگی بتاتے ہیں ”2010 سے پہلے شکارپور میں کھیتی باڑی کرکے گزارا کرتے تھے۔ 2010 کے سیلاب سے نہ صرف ہمارا گاؤں مکمل طور زیر آب آگیا، بلکہ آس پاس کا بہت بڑا رقبہ مکمل طور پر ڈوب گیا۔ پہلے چند روز تو گاؤں کے نزدیک اونچی جگہ پر سڑک کنارے بیٹھے رہے، مگر ہمیں لگا کہ پانی سوکھنے میں کئی مہینے لگ جائیں گے، تو ہم عارضی طور پر کراچی چلے آئے۔ یہ جگہ خالی تھی تو سب سیلاب متاثرین نے جھگیاں بناکر یہاں رہنا شروع کردیا“

وہ کہتے ہیں ”ہم نے سوچا تھا کہ چند مہینوں بعد واپس چلے جائیں گے۔ گھر سیلاب برد ہوگیا تھا۔ دوبارہ گھر کی تعمیر کے پیسے نہیں تھے۔ کئی سال کھیت بوائی کے قابل نہیں رہے تو ادھر ہی رک گئے۔ اب تو اتنی مہنگائی ہے کہ اب ناممکن ہے کہ دوبارہ واپس جاسکیں“

بچپن میں پولیو وائرس کے باعث بخشل سولنگی کا بایاں ہاتھ کمزور ہو گیا ہے، اس لیے اب وہ مزدوری بھی ایک ہی ہاتھ سے کرتے ہیں۔ انہیں بھاری کام کے لیے کوئی اجرت پر نہیں رکھتا، اس لیے دیگر مزدوروں کے مقابلے میں انہیں کم اجرت ملتی ہے

بخشل نے بتاتے ہیں ”2010 کے سیلاب کے بعد حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ سیلاب متاثرین کو گھر بنوا کر دیے جائیں گے اور انہیں مکمل طور پر بحال کیا جائے گا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ہم لوگ تو روزمرہ کا کھانا نہیں کھا سکتے تو گھر کیسے بنا سکتے ہیں۔ حکومت سے اپیل ہے کہ ہمیں گھر بنا کر دیے جائیں“

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس یعنی 2022 میں آنے والے سیلاب سے پاکستان میں تین کروڑ افراد متاثر ہوئے، سیلاب کے دوران 1730 افراد ہلاک اور 80 لاکھ بے گھر بھی ہوئے

حالیہ دنوں جینیوا میں منعقدہ ڈونرز کانفرنس میں عالمی برادری کی جانب سے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے دس ارب ڈالر کی منظوری دی گئی

ڈونر کانفرنس میں خطیر رقم ملنے کے بعد سیلاب متاثرین کی بحالی کی امید کے حوالے سے سوال پر بخشل سولنگی نے کہا ”ہم لوگ بارہ سالوں سے بیٹھے ہیں۔ ہمارا کچھ نہیں ہوا۔۔ جب 2010ع کے سیلاب متاثرین بحال نہیں ہوئے تو 2022 کے سیلاب متاثرین کیسے بحال ہو سکتے ہیں؟“

◼️حالیہ سیلاب سے متاثر لاکھوں بچوں کی زندگیاں داؤ پر

اقوامِ متحدہ کے بچوں کی بہبود کے ادارے یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں آلودہ اور ٹھہرے ہوئے پانی کے قریب رہنے والے تقریباً چالیس لاکھ بچے زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں

یونیسیف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سولہ لاکھ بچے پہلے سے ہی شدید غذائی قلت کا شکار تھے، جبکہ گزشتہ برس کے تباہ کن سیلاب سے پہلے ہی ساٹھ لاکھ بچے کم نشونما کا شکار چلے آرہے تھے

پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فادل کے مطابق حالیہ سیلاب کے بعد صورتِ حال مزید خراب ہوئی ہے، جہاں شدید سرد موسم میں چالیس لاکھ بچے گرمی اور گرم حفاظتی لباس کے بغیر رہ رہے ہیں، جس سے بہت سے بچوں کی موت کا خطرہ ہے

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان اب بھی سخت سردی میں پلاسٹک کی عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں بچوں کو ملیریا اور ہیضہ جیسی مہلک بیماریوں کا بھی خطرہ ہے

عبداللہ فادل نے بتایا ”ہمیں ابتدائی طور پر اندیشہ تھا کہ پانی کھڑا رہنے کی وجہ سے موت کی سب سے بڑی وجہ ملیریا ہوگا، ہمیں لگا کہ ہم مچھردانیاں اور ملیریا کی ادویات فراہم کرنے کے قابل تھے اور بحران ٹل گیا“

یونیسیف کے نمائندے کے بقول ادارے نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پینے کا صاف پانی اور زندگیاں بچانے والی ادویات فراہم کرکے ہیضے کی وبا کو روکنے میں بھی مدد کی ہے

فنڈ کے نمائندے کے مطابق پاکستان میں صحت کے علاوہ تعلیم بچوں کے لیے ایک اہم شعبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے چوبیس ہزار اسکول بہہ گئے ہیں

فادل کے بقول ”ہم نے تقریباً ایک ہزار عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں، جہاں تقریباً نوے ہزار بچے زیرِ تعلیم ہیں، جن میں سے ایک تہائی پہلی بار پڑھنے والے طالب علم ہیں“

ان کے مطابق ”پاکستان میں تقریباً دو کروڑ تیس لاکھ بچے ہیں، جو پہلے ہی اسکول نہیں جاتے۔ سیلاب کے باعث بیس لاکھ مزید بچے اسکول چھوڑ چکے ہوں گے یا اسکول سے باہر ہو گئے ہوں گے“

پاکستان میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے جاری رہنے کے باوجود فادل کے مطابق ابھی تک یونیسیف کو 173 ملین ڈالر کی نصف سے بھی کم رقم موصول ہوئی ہے، جو لاکھوں بچوں کی اس موسمیاتی تباہی سے صحتیاب ہونے میں مدد کے لیے درکار ہے

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں غیر محفوظ برادریوں کو صحت کی دیکھ بھال، غذائیت، تعلیم، تحفظ اور دیگر ضروری خدمات تک قابلِ اعتماد رسائی کی ضروریات درپیش ہیں۔

Tags:

Childrenconference of the partiescurrent flood situationDepartment of Stateflood situationfloods in pakistanfood and agriculture organization of the united nationsfuture of learninginternational day of the girl childinternational development associationinternational development research centrePakistanpakistani newspeople of actionsecretary of statestreet childrenthe state of food security and nutrition in the worldvenezuela children
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیکر کی گم کردہ چھاؤں

Next

میٹرک کا 72 سالہ طالب علم ’انکل آپ اس عمر میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme