Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

سیلاب کی اطلاع دینے والا کم خرچ اور مؤثر سینسر تیار

By Akhtar Rasool
نومبر 28, 2022 2 Min Read
0

جرمن ماہرین نے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ پر نظر رکھنے والا ایک مؤثر اور کم خرچ واٹر سینسر بنایا ہے، جو شمسی توانائی کی مدد سے کام کرتا ہے۔ یہ سینسر ان علاقوں کے لیے موزوں ہے، جو بار بار سیلاب کے خطرے میں رہتے ہیں

جرنل آف واٹر ریسورسس ریسرچ کی تازہ اشاعت میں شائع رپورٹ کے مطابق دریائی بہاؤ ناپنے والے روایتی آلات تیز رفتار بہاؤ میں اکثر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکثر آلات سے مستقل پیمائش لینا بھی محال ہوتا ہے۔ اگرچہ جدید نظام بھی ہیں، لیکن ان کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے

لیکن اب اس آلے کے متعلق موجدین کا دعویٰ ہے کہ یہ نہ صرف ان تمام خامیوں سے پاک ہے، بلکہ دریائے رائن کے زیریں حصے میں دو برس سے کام کر رہا ہے

رپورٹ کے مطابق یہ پانی کی پیمائش مسلسل جاری کرتا رہتا ہے، جسے ایک ایپ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ کم خرچ ہونے کی وجہ سے اس کے سینسر بہت سارے مقامات پر لگا کر پانی کے بہاؤ کی بہتر نگرانی کی جا سکتی ہے

اس کا ’دل و دماغ‘ کم خرچ جی این ایس ایس سینسر اور اینٹینا ہے جو میٹر تک کی درستگی سے پانی کی پوزیشن اور بہاؤ نوٹ کرتا ہے۔ اس کے لیے وہ امریکی جی پی ایس اور روسی گلوناس سیٹلائٹ بھی استعمال کرتا ہے

جی این این ایس اینٹینا کو کسی بھی انفرا اسٹرکچر پر لگایا جاسکتا ہے، خواہ وہ عمارت ہو، کوئی پل ہو یا پھر دریا کے کنارے کوئی درخت ہی کیوں نہ ہو

رپورٹ کے مطابق یہ نظام شدید بارش اور سیلاب میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوتا اور پانی کو چھوئے بغیر ہی ریڈنگ دیتا رہتا ہے، جو کسی ریڈار سینسر کے بس میں بھی نہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی قیمت 150 یورو (پاکستانی پینتیس ہزار روپے) کے برابر ہے۔ اس میں رسبری پائی کا مائیکروکمپیوٹر لگایا گیا ہے اور جسامت ایک اسمارٹ فون سے زیادہ نہیں

یوں جرمن ماہرین کا بنایا گیا اسمارٹ فون کی جسامت کا یہ چھوٹا اور ارزاں سینسر سیلاب کی بروقت اطلاع دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Tags:

FloodSensorWater Sensor
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پھٹکار (افسانہ)

Next

سندھ: اپنے ہم شکل بھائی کی جگہ سرکاری نوکری حاصل کرنے والا پکڑا گیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme