Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

فطرت اپنا انتقام کبھی نہیں بھولتی

By Akhtar Rasool
جولائی 1, 2020 2 Min Read
0

ملیر کے وہ خوبصورت نظارے، جن کو دیکھ کر دل میں ایک عجیب سے احساس کی کلیاں کِھل اٹھتی تھیں اور ان کی مہک سے جیسے سَر چَکرانے لگتا تھا، گَلا خُشک ہو جاتا تھا، ایسا لگتا تھا جیسے کہ محبوب پر پہلی نظر پڑی ہو یا ہم نے کُچھ زیادہ پی لی ہو ۔ لیکن شاید اب یہ نظارے تاریخ کا حصہ بننے جارہے ہیں ۔

مجھے یاد ہے، کہ جب ملیر میں مون سون، جسے ھم بلوچی میں "بَش ءِ ھَور” کہتے ہیں، کے موسم میں کسی دن زیادہ بارشیں ہوتی تھیں، تو ہم بارش کے فوراً بعد ملیر ندی کا رُخ کرتے تھے اور کھیر تھر کے سنگلاخ پہاڑی سلسلے سے بہہ کر آنے والے پانی کے پہلے ریلے کا انتظار کرتے تھے. اس انتظار کی کیفیت وہی ہوتی تھی، جو ایک عاشق اپنے محبوب کے انتظار میں محسوس کرتا ہے ۔ وہ دن اس سرزمین پر عید کے دن جیسا ہوتا تھا ۔ ھر چہرے پر دل کی خوشی مسکراہٹ بن کر بکھر جاتی تھی ۔ لوگ جوق در جوق فطرت کے ان خوبصورت نظاروں کو دیکھنے کے لئے امڈ آتے تھے، جو انسان کو سکون اور راحت دیتے تھے ۔ لیکن بسا آرزو کہ خاک شد… ان نظاروں کو اب شاید کسی کی نظرِ بد لگ گئی ہے. میگا پروجیکٹس، زرعی زمینوں پر ھاؤسنگ پروجیکٹس اور زہریلا دھواں اگلتی فیکٹریاں ان نظاروں کو دن بہ دن ماند کر رہی ہیں ۔

جن ندیوں میں کبھی مٹیالے پانی کے ریلے بہتے تھے، اور اس پانی سے اٹھنے والی مٹی کی سوندھی خوشبو روح کو معطر کر دیتی تھی، وہاں آج فیکٹریوں اور شہری علاقوں کا کییمکل زدہ سیوریج بہہ رہا ہے، جس سے اٹھنے والے تعفن سے سانس تک گھٹ جاتی ہے.

وہ نظارے جو زندگی کے احساس کی مانند دل لبھانے تھے، اب وہاں سے ہر وقت بیماریاں پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے ۔

انسان کی لالچ کے ہاتھوں تباہ حال فطرت، زبانِ حال سے دہائی دے کر ہمیں کہہ رہی ہے کہ اے لوگو! کیا تم سمجھتے ہو کہ فطرت کو تاراج کر کے تم لوگ کسی بلڈر کے پاس، کسی اسٹیٹ ایجنسی میں اپنا مستقبل محفوظ بنالو گے… مت بھولو کہ فطرت کی کوکھ اجاڑ کر بسائے گھر، قبر بن جایا کرتے ہیں….

جب یہ سب کچھ سوچتا ہوں، تو دل سے اک ہوک سی اٹھتی ہے… کاش کہ ہم جس طرح ان خوبصورت نظاروں کو دیکھنے کے لئے اتاولے ہو کر نکلتے تھے، اگر ان کو بچانے کے لئے بھی ایسے ہی نکلتے، تو آج اتنی ویرانی نہیں ہوتی ۔

ہر سو ان منظروں کی پھیلی ہوئی ویرانی کے سناٹے، مجھے تو یہی کہتے سنائی دیتے ہیں..

اب منتظر رہو، کہ فطرت اپنا انتقام کبھی نہیں بھولتی!

Tags:

EnvironmentNatureآلودگیکراچیماحولیاتملیر
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

نزار قبانی کی ایک شہکار نظم ہے

Next

ایک تصویر ، ایک کہانی (2)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme