Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںقومی

پنجاب میں انتخابات: کیا حکومت پارلیمان کی مدد سے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد سے فرار ہو سکتی ہے؟

By Akhtar Rasool
اپریل 7, 2023 4 Min Read
0

سپریم کورٹ کی جانب سے 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کروانے کے حکم کی تعمیل پر وفاقی حکومت کی شدید اعتراض کے باوجود بدھ کے روز الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے

الیکشن شیڈول جاری ہونے کے باوجود اب تک یہ واضح نہیں کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں انتخابات مقررہ وقت پر ہو پائیں گے یا نہیں۔ اس ابہام کی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے سامنے آنے والا یہ مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ اقلیتی فیصلہ ہے جس پر اطلاق حکومت پر لازم نہیں

تجزیہ کاروں کے مطابق وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے اس اصرار کے باعث نہ صرف الیکشن کے بروقت اور عدالتی احکامات کے تحت انعقاد پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے بلکہ حکومتی حکمت عملی کے باعث پارلیمان اور عدلیہ میں ایک نئی محاذ آرائی کا خدشہ جنم لے چکا ہے

تاہم اہم سوال یہ ہے کہ آیا حکومت کی جانب سے عدالتی حکم کے خلاف پارلیمانی قرارداد کا سہارا لینے کی حکمت عملی کو قانونی اور آئینی ماہرین کس نظر سے دیکھتے ہیں کیوںکہ پاکستان کی تاریخ میں متعدد بحرانوں کے باوجود اپنی نوعیت کا یہ الگ سا بحران ہے جس میں عدلیہ خود تقسیم کا شکار ہے

کیا حکومت پارلیمان کی مدد سے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد سے بچ سکتی ہے؟ اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر حکومت اس حکمت عملی کے تحت سپریم کورٹ کا حکم ماننے سے انکار کرتی ہے تو عدالت کے پاس کیا راستہ باقی بچے گا؟

واضح رہے کہ حکومت کے بقول الیکشن کا انعقاد ایک جانب تو آئینی معاملہ ہے تو دوسری جانب اس کے انعقاد میں مالی مسائل بھی رکاوٹ ہیں، جبکہ ملک کی سکیورٹی صورتحال کو بھی بطور جواز پیش کیا جا رہا ہے

اس معاملے پر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کہتے ہیں ”سپرم کورٹ کا حکم اس حد تک بائنڈنگ ہوتا ہے کہ اگر اس کو سپر سیڈ کرنا ہو تو صرف آئینی ترممیم سے کیا جا سکتا ہے“

جسٹس وجیہہ نے کہا ”کسی عدالتی حکم کو، جو حتمی شکل اختیار کر چکا ہو، آرڈیننس یا ایکٹ سے بھی ختم نہیں کیا جا سکتا“

قومی اسمبلی کی قرارداد کی حیثیت پر بات کرتے ہوئے جسٹس وجیہہ کا کہنا تھا ”آئین اور قانون میں اس طرح کی کوئی چیز نہیں، یہ ایک سیاسی عمل تو ہو سکتا ہے لیکن آئینی اور قانونی طور پر اس کی کوئی حیثیت نہیں“

واضح رہے کہ جسٹس وجیہہ الدین احمد تحریک انصاف کا حصہ بھی رہے ہیں اور دو بار صدارتی امیدوار بھی بنے تاہم 2016ع میں انہوں نے تحریک انصاف کو خیر آباد کہہ دیا تھا۔ اب ان کا شمار پی ٹی آئی کے سخت ترین ناقدین میں ہوتا ہے

جب جسٹس وجیہہ الدین سے حکومت کے اس موقف پر رائے لی گئی کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اقلیتی فیصلہ ہے تو ان کا کہنا تھا ”یہ اقلیتی فیصلہ نہیں ہے“

انہوں نے کہا ”جب چیف جسٹس کی جانب سے بینچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے تمام ججوں کے دستخط ہوئے تو اس کا مطلب ہے کہ پہلے کوئی حکم موجود نہیں تھا اور جب چیف جسٹس نے دوبارہ بینچ بنا دیا تو ایک نیا بینچ تھا، جس کے بعد جو کچھ پہلے ہوا، وہ ختم ہو گیا“

اگر حکومت اپنے موقف پر قائم رہتی ہے اور پارلیمانی قرارداد کا سہارا لیتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد سے انکار کرتی ہے تو عدالت کے پاس کیا قانونی راستہ ہو گا؟

جسٹس وجیہہ الدین کا ماننا ہے ”عدالت نے ایسے معاملات میں ہمیشہ تحمل اور برداشت سے کام لیا ہے“

لیکن کیا یہ تحمل تمام تر سیاسی تنقید کے باوجود برقرار رہے گا؟ اس سوال پر جسٹس وجیہہ کا کہنا تھا ”میرے خیال میں جو لوگ عدلیہ اور چیف جسٹس کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں، ان کو سنی ان سنی کر دیا جاتا ہے، اور یہی رویہ درست ہوگا“

مگر سپریم کورٹ الیکشن کے انعقاد کو کیسے یقینی بنائے گی؟ اس کا جواب دیتت ہوئے جسٹس وجیہہ کا کہنا تھا ”اگر ضرورت ہوئی تو توہین عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے، جو صرف ان لوگوں تک محدود ہوگی، جن کا الیکشن کے انعقاد میں کوئی براہ راست کردار ہے۔ جو متعلقہ بیوروکریسی کے سربراہان ہیں، جنھوں نے یہ سب کام کرنے ہوتے ہیں، ہو سکتا ہے عدالت ان تک محدود رہے“

جب ان کے سامنے رانا ثناءاللہ کا یہ موقف رکھا گیا کہ سپریم کورٹ کو پوری پارلیمان کو گھر بھیجنا ہوگا تو ان کا کہنا تھا ”سپریم کورٹ ایسا نہیں کرے گی“

تو اگر حکومتی حکمت عملی قانونی اور آئینی دائرہ کار کے تحت نہیں تو اس کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ جسٹس وجیہہ الدین نے کہا ”میں سمجھتا ہوں کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ سپریم کورٹ سے محاذ آرائی ہو تاکہ خود کو مظلوم ثابت کیا جا سکے اور اس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جائے۔ میں نہیں سمجھتا کہ عدالت ان کو وہ موقع دے گی۔“

Tags:

Electionelection commissionelection commission of pakistanElection Commission Pakistanelection in pakistanElection Pakistanelections 2018 in pakistanelections in pakistanelections pakistanGeneral Electiongeneral election 2018General Electionsgeneral elections in pakistanPakistanpakistan electionpakistan election resultsPakistan Electionspakistan elections resultspakistan general electionpakistan general election 2018pakistan news
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سپریم کورٹ کا فیصلہ، حکومتی اتحاد کون سے کارڈ کھیل رہا ہے؟

Next

ہلکی پھلکی شراب بھی مضر صحت ہے، سائنسی تحقیق میں انکشاف

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme