Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

ڈیورنڈ لائن فرضی لکیر ہے، پاکستان سے مناسب وقت پر بات کریں گے: طالبان وزیرِ دفاع

By Akhtar Rasool
جون 17, 2023 3 Min Read
0

طالبان حکومت کے وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن سرحد ایک لکیر ہے اور اس حوالے سے اتنا ہی کہنا کافی ہے۔ اس ’فرضی لکیر‘ کے حوالے سے ہم تب بات کریں گے، جب عوام چاہے گی

محمد یعقوب مجاہد نے، جو طالبان تحریک کے بانی ملا محمد عمر مجاہد کے صاحبزادے ہیں، یہ بات کابل میں نجی ٹی وی طلوع نیوز کو دیے گئے ایک پشتو انٹرویو میں کہی

ان کا کہنا تھا ”کیوں کہ افغانستان کے عوام کو اب دیگر مسائل کا سامنا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ اس پر بحث شروع کرنے سے دیگر مسائل پیدا ہوں، لہٰذا جب عوام چاہیں گے پاکستان سے ڈیورنڈ لائن پر بات کی جائے گی“

ملا محمد یعقوب نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ”نہیں چاہتے کہ کسی کے ساتھ تعلقات خراب ہوں۔ ہمارے قومی مفاد میں ہے کہ کسی کے ساتھ جنگ میں ملوث نہ ہوں“

انہوں نے پاکستانی طالبان سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ”اگر ٹی ٹی پی افغانستان میں ہے تو پھر وہ سرحد پر چوکیوں پر حملے کرے، وہ کیسے ملک کے اندر دور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں پر حملے کر رہے ہیں؟ وہ (پاکستان) خود نہیں روک سکتے تو ہم پر الزام کیوں لگاتے ہیں“

انہوں نے کہا ”ہماری حکومت کسی ملک کے مخالفین کو اپنے ملک میں جگہ نہیں دینا چاہتی۔ ہم کسی کے مخالفین کو یہاں نہیں رکھنا چاہتے“

پاکستان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کچھ سوچنے کے بعد جواب دیا ”اسے ایک آزاد اور آباد افغانستان کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ آباد افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے“

ملا محمد یعقوب نے دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا ”پہلے دہشت گردی کی تعریف ہونی متعین ہونی چاہیے کہ کون دہشت گرد ہے یا نہیں“

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی فضائی حدود اب بھی امریکہ کے قبضے میں ہیں، ایئر اسپیس کی خلاف ورزی ہے، اس پر قبضہ ہے اور اس پر اب بھی امریکیوں کا قبضہ ہے

جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکی طیارے افغانستان کی فضائی حدود میں کہاں سے آ رہے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا ”پچھلی بار میں نے اس بارے میں وضاحت کی تھی، میں نہیں چاہتا کہ کشیدگی دوبارہ ہو اور دوسرے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہوں“

واضح رہے کہ اگست 2022 میں یعقوب مجاہد نے کابل میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا ”ہماری معلومات کے مطابق امریکی ڈرون پاکستان سے افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہم پاکستان سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ کرے“

افغانستان کی فضائی حدود میں امریکی طیاروں کی پرواز کا معاملہ اس وقت متنازع ہو گیا، جب گذشتہ سال امریکہ نے کہا تھا کہ اس کے ڈرونز نے کابل میں القاعدہ نیٹ ورک کے سربراہ ایمن الظواہری کی رہائش گاہ پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا تھا۔ طالبان حکام نے ایمن الظواہری کی کابل میں موجودگی کو مسترد کر دیا تھا

اب طالبان کے وزیر کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں انہوں نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے ٹام ویسٹ کے ساتھ یہ مسئلہ شیئر کیا تھا

افغان نائب وزیر دفاع نے مزید کہا کہ انہوں نے ٹام ویسٹ سے امریکی طیاروں کی پروازوں کو افغانستان کی فضائی حدود میں روکنے کے لیے کہا تھا، جو دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے

مولوی محمد یعقوب مجاہد نے کہا ”مخلوط حکومت کے قیام کے نام پر غیر ملکی مداخلت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہمیں وقت دیا گیا اور جاری رکھا گیا تو مجھے یقین ہے کہ اس حکومت میں تنوع آئے گا اور پیشہ ور لوگوں کو پیشہ ورانہ عہدوں پر تعینات کیا جائے گا“

یہ پہلا موقع ہے کہ یعقوب مجاہد نے اتنے طویل انٹرویو میں سوالات کے جوابات دیے جو تقریباً اَسی منٹ پر مشتمل تھا

ایک افغان صحافی سید صلاح الدین کا کہنا ہے کہ ایک انٹرویو میں مولوی محمد یعقوب مجاہد نے کہا ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے اور پاکستان پر اس معاملے میں بعد میں بات چیت کی جائے گی تاہم اس بارے میں طلوع نیوز نے کوئی خبر شائع نہیں کی ہے۔

Tags:

difference between pakistan taliban and afghan talibandurand linedurand line afghan or pakdurand line as borderdurand line borderdurand line clashdurand line conflictdurand line disputedurand line documentarydurand line explaineddurand line factsdurand line fencingdurand line firingdurand line historydurand line in hindidurand line in urdudurand line issuedurand line lengthdurand line pakistan afghanistanindia on pakistan security policyPakistanpakistan and afghanistanpakistan interior minister sheikh rashid ahmadpakistan media on durand linepakistan newspakistan security policy discussionPakistan Talibanpakistan terror attackTalibantaliban afghanistan relationstaliban durand lineTaliban Governmenttaliban on durand linetaliban pakistan friendship at his besttaliban wins in afghanistanwagah border durand linewhat is durand line
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

یونان کشتی حادثہ: کوٹلی کا وہ گاؤں، جہاں کہرام بپا ہے۔۔

Next

بیلجیئم کا ٹک ٹاکر، جو ہیلی کاپٹر میں ’اپنے جنازے‘ پر شرکت کرنے پہنچا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme