Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

کیا روز مرہ زندگی میں شور واقعی آپ کے دل کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے؟

By Akhtar Rasool
اگست 28, 2022 3 Min Read
0

سنہ 2011 میں جرمنی کے مصروف ترین فرینکفرٹ ائیرپورٹ کے چوتھے رن وے کا افتتاح کیا گیا۔ اس نئے رن وے کے خلاف کافی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جو سالوں تک جاری رہے۔

افتتاح کے ایک سال بعد مظاہرین میں سے ایک نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا، ’یہ رن وے میری زندگی تباہ کر رہا ہے۔ جب بھی میں اپنے گھر کے باغ میں جاتا ہوں وہاں مسلسل جہازوں کا شور ہوتا ہے اور اوپر دیکھوں تو جہاز نظر آتے ہیں۔‘

اس نئے رن وے کی وجہ سے ہی درجنوں ہوائی جہاز ٹامس منزل کے گھر کے ٹھیک اوپر سے گزرتے ہیں۔ ٹامس منزل یونیورسٹی میڈیکل سینٹر آف مینز میں دل کے امراض کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’میں اس سے پہلے موٹر وے اور اندرون شہر کے ٹرین ٹریکس کے قریب بھی رہ چکا ہوں مگر ہوائی جہاز کا شور سب سے پریشان کن ہے۔‘

منزل نے عالمی ادارہ صحت کی طرف سے سنہ 2009 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ پڑھی تھی جس کے مطابق شور کا تعلق دل کے امراض سے ہو سکتا ہے، لیکن اس وقت اس بارے میں ناکافی شواہد موجود تھے

سنہ 2011 میں وہ خود اپنی صحت کے بارے میں بھی فکر مند تھے جس وجہ سے انھوں نے اس بارے میں تحقیق پر توجہ دینا شروع کی۔

شدید شور کو کافی عرصے سے بہرے پن کی ایک وجہ کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ تاہم ہوائی جہازوں اور گاڑیوں کا شور صرف سننے کی ہی صلاحیت پر منفی اثر نہیں ڈالتا۔

ماہرین کے مطابق ٹریفک کی وجہ سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کے بعد انسانی جسم پر سب سے زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔ یعنی یہ آپ کی صحت کے لیے بلواسطہ تمباکو نوشی اور ڑیڈان جیسی تابکار گیس سے زیادہ مضر ہے۔

پچھلی ایک دہائی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق ہوائی جہازوں اور سڑک پر چلنے والے ٹریفک کے شور اور متعدد دل کے امراض میں مبتلا ہونے کے خطرے میں اضافے کے درمیان واضح تعلق ہے۔ اب سائنس دان اس کے پیچھے کارفرما وجوہات کی بھی نشاندہی کرنے لگے ہیں

اندازوں کے مطابق یورپ کی تقریباً ایک تہائی آبادی کو باقاعدگی سے شدید اور صحت کے لیے مضر سطح کے شور کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عام طور پر 70 سے 80 ڈیسیبلز، اس شور کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک عام گفتگو کی سطح عموما 60 ڈیسیبلز ہوتی ہے، گاڑیوں اور ٹرکس کا شور 70 سے 90 کے درمیان ہوتا ہے اور ہوائی جہاز 120 ڈیسیبلز یا اس سے بھی زیادہ۔

واضح رہے ڈیسیبلز آواز کی شدت کو ماپنے کا پیمانہ ہے۔

متعدد تحقیقوں نے مسلسل اس سطح کے ماحولیاتی شور اور دل کے امراض کے خطرے میں اضافے کے تعلق کی نشاندہی کی ہے۔ مثال کے طور پر سنہ 2018 میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کی صحت سے متعلق ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق فرینکفرٹ ائیرپورٹ کے قریب رہنے والے افراد کو، اسی طرح کے دوسرے مگر کم شور والے محلوں میں رہنے والوں کے مقابلے میں سٹروک ہونے کا سات فیصد زیادہ خطرہ ہے۔

یورپی ہارٹ جرنل میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2000 اور 2015 کے درمیان دل کے امراض کی وجہ سے ہونے والی اموات کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ سوٹزرلینڈ کے زیورخ ائیرپورٹ کے آس پاس رات کے وقت ہوائی جہاز کے گزرنے کے بعد پیش آنے والی اموات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر خواتین میں۔

محقق شور کی وجہ سے انسانی جسم پر پڑنے والے اس دباؤ کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے دل کے امراض میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ شریانوں اور خون کی رگوں کی اندرونی پرت میں، جسے اینڈو تھیلئیم کہا جاتا ہے، آنے والی ڈرامائی تبدیلیاں ہے۔

اس پرت میں سوجن کے ممکنہ طور پر خطرناک نتائج ہو سکتےہیں۔

شور سے خون کی رگوں تک کی راہ کچھ یوں گزرتی ہے: جب کوئی آواز دماغ تک پہنچتی ہے تو اس سے دماغ کے دو اہم حصے متحرک ہو جاتے ہیں۔ آڈِٹری کورٹیکس جو اس شور کی تشریح کرتا ہے، اور امیگڈالا، جو اس شور پر ہمارے احساسات اور ردعمل کو مینیج کرتا ہے۔

جیسے جیسے شور کی شدت بڑھتی جاتی ہے، خاص طور پر جب ہم سو رہے ہوں، امیگڈالا ہمارے جسم کے ’فائیٹ آر فلائیٹ‘ (یعنی خطرے کا مقابلہ کرنا یا اس سے بھاگنا) ردعمل کو متحرک کرتا ہے، بھلے ہی ہمیں اس کا اندازہ بھی نہ ہو

Tags:

Heart AttackHeart HealthNoise
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

مہذب کھیل سمجھے جانےوالے گالف کی سیاہ تاریخ

Next

نینسی پلوسی کے دورے کے بعد امریکی جنگی جہازوں کی تائیوان کی سمندری حدود میں سرگرمیاں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme