لانگ مارچ: ڈی جی آئی ایس آئی سن لو! ملک اور اداروں کی خاطر چپ ہوں، عمران خان

ویب ڈیسک

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے جمعے کو لاہور سے لانگ مارچ کا آغاز کرتے وقت اپنے خطاب میں پاکستان کی اعلیٰ خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’آپ نے کہا تھا کہ ہم سیاست نہیں کرتے لیکن جو پریس کانفرنس آپ نے کی، ایسی سیاسی پریس کانفرنس تو کبھی شیخ رشید نے بھی نہیں کی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس پریس کانفرنس سے ثابت ہوا کہ آپ غیرجانب دار نہیں رہے۔ پریس کانفرنس کا سارا نشانہ میری ذات تھی، ان چوروں سے متعلق آپ نے کچھ نہیں کہا۔‘

عمران خان نے کہا ’ڈی جی آئی ایس آئی! کان کھول کر سن لو! میں بہت کچھ جانتا ہوں لیکن میں اپنے ملک اور اس کے اداروں کے لیے چپ ہوں کیوں کہ میں اپنے ملک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔‘

انہوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا ’جب ہم تنقید کرتے ہیں تو ہماری تنقید تعمیری ہوتی ہے۔ میں بھی بہت کچھ کہہ سکتا ہوں، آپ کو جواب دے سکتا ہوں، مگر میں نہیں چاہتا کہ ملک کمزور ہو۔ ڈی جی آئی ایس آئی! میں نے کوئی غیرقانونی بات نہیں کی۔ میں صرف شفاف انتخابات چاہتا ہوں۔ ملک کی قیادت کے بارے میں عوام کو فیصلہ کرنے دیں

عمران خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ان کا یہ سفر سیاست، انتخابات یا ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی ’حقیقی آزادی‘ کے لیے ہے

لبرٹی چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے اپنے پہلے خطاب میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’قوم ہر قربانی کے لیے تیار ہے، جن کو چوروں کی حکومت قبول نہیں‘

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ پچاس سالوں میں اس عوام نے اتنی مہنگائی نہیں دیکھی جتنی اس ’امپورٹڈ حکومت‘ کے دور میں ہوئی

عمران خان نے کہا کہ ’میرے لیڈر قائد اعظم نے انگریزوں سے آزاری دلوائی تھی اور اب میں قوم کو حقیقی آزادی دلواؤں گا۔‘

ان کے بقول: ’پاکستان کے فیصلے لندن اور واشنگٹن میں ہوتے ہیں جب کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں۔‘

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان تو روس سے سستا تیل خرید سکتا ہے لیکن ان ’غلاموں‘ کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں

عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت کے رہنما اعظم سواتی کو ان کے گھر میں پوتوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، شہباز گل کو بھی اٹھایا گیا اور تشدد کیا گیا جب کہ معروف صحافی ارشد شریف کو قتل کر دیا گیا

حقیقی آزادی مارچ‘ سے متعلق اہم نکات

پی ٹی آئی کا ‘حقیقی آزادی مارچ‘ کا آغاز لبرٹی چوک لاہور سے اور اختتام اسلام آباد میں ہوگا

لانگ مارچ کا پہلا دن کینیا میں قتل ہونے والے پاکستانی صحافی ارشد شریف کے نام کیا گیا ہے

مارچ کا مقصد ملک میں عام انتخابات کا انعقاد کروانا ہے

عمران خان کی جانب سے رواں سال یہ دوسرا لانگ مارچ کیا جارہا ہے، 25 مئی کو بھی لانگ مارچ کیا گیا تھا

اسلام آباد پولیس نے 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے ہیں

پی ٹی آئی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مارچ پرامن اور متعین حدود میں کیا جائے گا

مجھ پر تشدد و زیادتی کے ذمہ دار رانا ثنااللہ یا موجودہ حکومت نہیں، اعظم سواتی

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ مجھ پر زیادتی اور تشدد کی ذمہ دار وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی سائبر کرائم برانچ اسلام آباد، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ یا موجودہ حکومت نہیں، یہ چھوٹے اداکار ہیں

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ البتہ ایف آئی اے کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ عدالتی اور پارلیمانی فورم پر بتائے کہ انہوں نے کس کے کہنے پر صرف ایک ٹوئٹ کی بنیاد پر مجھ پر ایف آئی آر کاٹی

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کس کے کہنے پر میرے گھر پر غیر قانونی چھاپہ مارا، میرے اہلِ خانہ کے سامنے مجھے مارا گیا، میرے گھریلو ملازمین کو بری طرح پیٹا گیا اور ٹھیک سوا 4 بجے ایف آئی اے نے کن نامعلوم سفید لباس میں ملبوس ان درندوں کے حوالے کیا جنہوں نے اس جمہوری ملک کے دارالحکومت میں مقننہ و عدلیہ کی ناک کے نیچے گوانتاناموبے کی سیاہ تاریخ کو دہرایا

ان کا کہنا تھا کہ پمز کے ڈاکٹروں سے بھی پوچھا جائے گا کہ میرے جسم پر جو تشدد کے نشانات تھے وہ انہوں نے کس کے کہنے پر مٹائے، ماتحت عدالتوں سے، مجسٹریٹ سے پوچھا جائے گا کہ قانون و آئین سے بڑا کون ہے جو آپ بار بار میرا جسمانی ریمانڈ ان لوگوں کے حوالے کرتے تھے

اعظم سواتی نے کہا کہ فوج کے ایک ایک سپاہی کے خون کی قسم آپ کی صفوں میں کالی بھیڑیں ہیں جن سے میں زندگی کے آخری لمحے تک لڑوں گا

انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کی حیثیت ہماری قومی سلامتی میں ریڑھ کی ہڈی کی ہے لیکن آئی ایس آئی کے چند لوگ اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں، ملک کا کوئی ادارہ ان چند اشخاص کی بلیک میلنگ سے بچا ہوا نہیں، ان کی انسانی برائیوں کا ادراک کوئی نہیں کرسکتا

پی ٹی آئی سینیٹر نے کہا کہ باجوہ صاحب، آج پوری قوم آپ کی جانب دیکھ رہی ہے، ملک کا ہر سیاسی کارکن اور ہر اداروں کا انتظامی فرد آپ سے توقع کرتا ہے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل آئی ایس آئی کے اس بدنامِ زمانہ سیاسی ونگ کو دفن کردیں کیوں کہ یہ پاکستان کی ذلت و رسوائی کے ذمہ دار ہیں

انہوں نے کہا کہ مجھ پر ہونے والے بے انتہا ظلم کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور توقع کرتا ہوں کہ میرے 2 مجرم میجر جنرل اور سیکٹر کمانڈر کو ایک پاکستانی پارلیمنٹیرین کے ساتھ ماورائے قانون زیادتی و حراستی تشدد کا مداوا کرنے کے لیے ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے تاکہ یہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے عدالتی تحقیقات پر اثر انداز نہ ہوسکیں

اعظم سواتی نے کہا کہ میں ان قانون شکنوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میری بائیس سالہ سیاسی زندگی میں تم سے بہت بہتر میجر جنرل، بریگیڈیئر اور آئی جی پولیس نے میرے عہدے کے لحاظ سے میرے ماتحت کام کیا ہے

انہوں نے کہا کہ کل ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے عوام کو باور کرایا کہ اب ہمارا کوئی سیاسی کردار نہیں ہوگا، اللہ کرے پاکستانی سیاسی و عسکری تاریخ کے سابقہ حوالوں کی طرح یہ بھی جھوٹ نہ ہوں اور پاکستانی محکوم قوم اس بیان کی سچائی کوآپ کے عمل سے دیکھیں

ان کا کہنا تھا کہ میں اسلام آباد کے مقامی مجسٹریٹس کو وارننگ دیتا ہوں کہ میرے اس واقعے کو آپ نے کور اپ نہیں کرنا کیوں کہ اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالتیں، بین الاقوامی فورمز میرے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے پردہ اٹھائیں گے

چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے سینیٹر نے کہا کہ میں نے سچائی و حقائق پر مبنی اپنا مقدمہ سپریم کورٹ کی دہلیز پر پیش کردیا ہے

لانگ مارچ کا آغاز، کھلاڑی سڑکوں پر

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا آغاز آج سے لبرٹی چوک لاہور سے ہوگیا ہے۔ عمران خان لانگ مارچ کی قیادت کررہے ہیں

لانگ مارچ کے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے حکمت عملی واضح کردی ہے، جس کے مطابق لاہور میں لانگ مارچ میں عوام پیدل چلیں گے جبکہ گاڑیاں پیچھے ہوں گی

عمران خان کا کہنا ہے کہ جہاں جہاں آبادی سے لانگ مارچ گزرے گا لوگ پیدل چلیں گے اور اگلے جمعہ کو ہم راولپنڈی پہچیں گے

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی کی سینئر قیادت نے اپنی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہیں، تاہم مختلف شہروں سے قافلے پارٹی رہنماؤں کی قیادت میں عمران خان کے لانگ مارچ میں شریک ہونگے

کراچی سے قافلہ پیر کی صبح اسلام آباد کے لئے روانہ ہوگا، جبکہ منگل کو سکھر سے قافلے کی روانگی ہوگی

اس کے علاوہ لانگ مارچ کے لئے بلوچستان سے قافلے اتوار کو روانہ ہونگے اور کوئٹہ سے براستہ ژوب اسلام آباد پہنچیں گے

لانگ مارچ کا شیڈول:

پہلے دن لانگ مارچ لاہور میں ہی رہے گا، جبکہ لبرٹی چوک سے لانگ مارچ اچھرہ، مزنگ،ایم او کالج۔ جنرل پوسٹ آفس چوک ،داتا دربارسے آزادی چوک پہنچے گا

لانگ مارچ اگلے دن شاہدرہ سے شروع ہوگا جبکہ دوسرے روز مریدکے ،کامونکی سے گوجرانوالہ پہنچے گا

لانگ مارچ ڈسکہ سے ہوتا ہوا سیالکوٹ پہنچے گا جبکہ سمبڑیال، وزیر آباد سے ہوتا ہوا گجرات پہنچے گا اور لالہ موسی کھاریاں سے جہلم جائے گا

لانگ مارچ گوجر خان سے راولپنڈی اور چار نومبر راولپنڈی سے اسلام آباد داخل ہوگا

سیکیورٹی پلان

آئی جی پنجاب نے لانگ مارچ کے روٹس پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ لاہور، گوجرانولہ، گجرات اور راولپنڈی سمیت دیگر شہروں میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ موٹروے کے داخلی و خارجی راستوں اور بین الصوبائی رابطہ سڑکوں پر خصوصی انتظامات کیے جائیں اور لانگ مارچ کے دوران امن و امان کی صورتحال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ سنٹرل پولیس آفس میں قائم کنٹرول روم سے لانگ مارچ کی سیکیورٹی کو بھی مانیٹر کیا جائے اس حوالے سے مارچ کے روٹس کو سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹر کرنے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے

آئی جی پنجاب نے پولیس کو روٹ کے اضلاع میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز میں تیزی لانے کی ہدایت بھی کی ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close